کرائسٹ چرچ حملہ: وزارت خارجہ کی جانب سے تمام ’لاپتہ‘ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق




پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کو نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں نو پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز دو مساجد پر ہونے والے ان حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے سنیچر کی شام ٹویٹ میں چھ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جن میں سہیل شاہد، سید جہانداد علی، سید اریب، محبوب ہارون، نعیم رشید اور طلحہ نعیم شامل تھے۔ اتوار کی صبح کی گئی ان کی ٹویٹ میں ہلاک ہونے والے مزید تین افراد کا نام بتایا گیا جو ذیشان رضا، ان کی والد اور ان کی والدہ پر مشتمل تھا۔ان ہلاک شدگان کے علاوہ مزید چار پاکستانی زخمی ہیں جن کا علاج جاری ہے۔
’برینٹن ٹیرینٹ نے یہ کارروائی اکیلے کی تھی‘ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ حملہ آور برینٹن ٹیرینٹ نے یہ کارروائی اکیلے کی تھی اور ان کے ساتھ کوئی اور ملوث نہیں تھا اور صرف برینٹن ہی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کمشنر مائیک بش نے کہا کہ حراست میں لیے گئے دیگر افراد کا حملہ آور سے تعلق قائم نہیں ہوا لیکن وہ اس بارے میں مکمل یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ‘اسے اس وجہ سے روکا گیا تھا کیونکہ وہ براہ راست خطرہ تھا اور ہمارے عملے نے بہادری دکھاتے ہوئے اسے روکا جس کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مزید حملوں کو روکا اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس سے مزید ہلاکتیں روکی گئیں۔’ پولیس کمشنر نے کہا کہ بعد میں گرفتار کیے گئے دو افراد ان واقعات میں ملوث نہیں تھے لیکن انھوں نے مزید کہا کہ وہ مکمل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس واقعے میں کوئی اور ملوث تھا کہ نہیں۔ حراست میں لیے گئے کسی بھی فرد کا ماضی میں کسی جرم کا ریکارڈ نہیں تھا۔
حملہ آور کو عدالت میں پانچ اپریل کو دوبارہ پیش کیا جائے گا اور مقدمہ سننے والے جج نے کہا ہے کہ حملہ آور کو مکمل قانونی حقوق دینے کے لیے تصاویر میں ان کے چہرے کو مبہم کر دیا جائے۔ خود کو سفید فام لوگوں کی بالادستی کے خواہاں کہنے والے 28 سالہ آسٹریلوی حملہ آور برینٹن ٹارینٹ کو سنیچر کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ سفید ٹی شرٹ اور ہتھکڑیاں پہنے برینٹن کو جب سنیچر کو عدالت میں لایا گیا تو وہ کیمرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حملہ آور کے خلاف مزید مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ برینٹن ٹارینٹ کے پاس اسلحے کا لائسنس تھا اور ان کے پاس پانچ بندوقیں تھیں۔
’کسی نے آپ کے جسم کا حصہ کاٹ دیا ہو‘: جس طرح میرے بھائی اپنی جان دی مجھے اس پر فخر ہے: خورشید عالم
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعے کو مسجد میں ہونے والے حملوں میں حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے نعیم رشید کے بھائی خورشید عالم نے کہا ہے کہ ان کے پاس اپنا درد بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ خورشید عالم نے کہا ‘ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی نے آپ کے جسم کا حصہ کاٹ دیا ہو’۔ خورشید کے بھائی اور بھتیجوں کا شمار ان چھ پاکستانیوں میں ہوتا ہے جن کی ان حملوں میں ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ تین پاکستانی اب بھی ’لاپتہ‘ ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ان حملوں میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 49 ہے۔
بشکریہ بی بی سی اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں