وہ میرا آئیڈیل! زبیر منصوری




وہ میرا آئیڈیل!
وہ مسجد کا بتدریج معذور ہوتا ہوا ایک امام۔۔۔۔۔ وہ غزہ پہنچا تو عرب قومیت اور سیکولرزم کا جادو یاسر عرفات کی قیادت مین سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔
اس نے مسجد سے کرکٹ اور فٹبال ٹورنا منٹ آرگنائیز کرنے سے دعوت کا آغاز کیا کہ بندہ مومن فضول جزوی بحثوں پر نہیں کام پر یقین رکھتا ہے۔۔۔
اس نے باڈی بلڈنگ کلبز بنائے اور خود اسرائیل کی مدد سے بنائے
اس نے نئی نسل کو تفریح اور کھیل کے راستے ،امت کی گود میں ڈال دیا
اس نے وہ مائیں تیار کیں جو شوہرون کے ساتھ مل کر یہ ”فیملی پلاننگ ” کرتی تھیں کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں گی تا کہ تحریک آزادی کو زیادہ سے زیادہ گرم توانا خون مل سکے اس نے حفظ قرآن کا کلچر دیا اور حفاظ اس کا صدقہ جاریہ ہیں اور 15 برس بعد وہ اپنے علاقہ کی 80٪ سیٹیں جیت چکا تھا
پھر اسے شہید کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جنازے مین 5 لاکھ ابلتے جذبوں والے نوجوانوں شریک تھے،
جو اس طرح رو رہے تھے جیسے یہ معذور بوڑھا کوئی اور نہیں ان کا باپ ہو۔
اللہ پر اس کا ایمان عجیب سرور بخش تھا، اسے اپنی کامیابی کا یقین ویسے ہی تھا جیسے دن کے سورج کا۔۔
وہ رخصت ہوا تو قوم بانجھ نہیں بلکہ شیروں جیسے لیڈروں کی قطارون پر مشتمل تھی
جو کہتے تھے ” موت تو آنی ہے بیماری سے آئے یا اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر کے میزائیل سے آئے پھر اپاچی ہی کیوں نہیں؟”
اس کے سدھائے ہوئے شیراسرائیل کو زہانت ،میڈیا ،تعلیم اور مزاحمت کے میدانوں میں ناکون چنے چبوا رہے ہیں اوران شا اللہ حضرت عیسی کے اولین اتحادی ہوں گے
وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں وہ کب گیا؟
وہ شخص اب اک سحر کی مانند فضاؤں میں وہ رچا ملے گا
ستیزہ گاہون مین جاں لڑاؤ وہ خود واں تم سے آ ملے گا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں