نیوزی لینڈ سے ابھرتا سورج – افشاں نوید




جائے وقوع چونکہ نیوزی لینڈ تھا اس لئے واقعہ کو ریاستی میڈیا کوریج بھی ملی اور ایک متمدن ملک کے طور پر صرف نفسیاتی مریض کہ کر واقعہ کی پردہ پوشی نہ کی گئ بلکہ اعلی سطح پر مسلمانوں کے دکھ کو محسوس کرکے اس کو زبان دی گئ۔۔۔ ماتمی لباس میں وزیر اعظم جیسینڈر تو ہم سب کے دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔کئ پوسٹس پر ان کے مشرف بہ اسلام ہونے کی خواھش نظر آئی ۔ ہم سب کو اقبال کا مشرق سے ابھرتا ہوا سورج نیوزی لینڈ میں افق کے اس پار نظر آرہا ہے!!!!
سچی بات ہے وہ وڈیوز ہم نے بھی پلٹ پلٹ کر دیکھیں جس میں انگلش لہجے میں اٹک اٹک کر کلمہ طیبہ پڑھ کر لوگ اسلام کی دولت سے فیضیاب ہورہے ہیں۔دل محبت سے بھر جاتا ہے کسی غیر مسلم کو جب کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے دیکھتے ہیں۔یہ لاالہ کا رشتہ حدود وقیود سے ماورا ہے۔
اگر دل میں چپکے سے اس خواہش نے چٹکی لی ہے کہ نیوزی لینڈ اسلامی جمہوریہ ہو جائے تو یہ بھی تو اسلام سے محبت ہی ہے۔
ایک پوسٹ تو سورہ نصر کی نظر سے گذری کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہورہے ہیں لہذا ہم پر اللہ کی حمد اور استغفار واجب ہے۔ گویا اگر ہم عہد نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں جی رہے ہوتے تو بس فتح مکہ قریب ہی ہے۔
سورہ نصر جب اتری تھی اس سے قبل اس خوش خبری کو سننے والے مبارک وجود بدرواحد وحنین وتبوک دیکھ چکے تھے۔ماقبل شعب ابی طالب کی سختیاں اور طائف کے بازاروں سے بھی گزرے تھے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ یہ ہے کہ ہم تعداد میں تھوڑے ہیں؟کیا ڈیڑھ ارب مسلمان تعداد میں کم ہیں؟
کیا ہم جیسے دو ارب اور اسلام قبول کرلیں تو مسلمان دنیا کی غالب قوم بن جائیں گے؟؟؟
کیا مسلمانوں کی تاریخ میں اسلام کا غلبہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کی وجہ سے ہوا تھا؟
جو آج دنیا پر غالب ہیں تعداد میں تو وہ بھی بہت تھوڑے ہیں۔چند لاکھ ہیں۔انکی ریاست دنیاکے نقشے پر ایک نکتہ کی برابر ہے۔ پھر بھی آئ ایم ایف اور ورلڈ بینک ان کے غلام ہیں۔دنیا کا بہترین لٹریچر وہ اپنی زبان میں سرعت سے منتقل کررھے ہیں۔دنیا کے سارے علوم وہ اپنی زبان عبرانی میں پڑھاتے ہیں۔۔
تعداد کب مطلوب ہے؟؟ہم جیسے پانچ ارب بھی روٹی ان کی ہی کھائیں گے اور ویٹو کا اختیار پھر بھی انہی کے پاس ہوگا۔اقوام متحدہ پھر بھی انہی کی لونڈی رہے گی۔
سوال یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے مسلمانوں پر بیتنے والی افتاد نے کیا ھمارے خوابوں اور خواھشوں کو جلا دی ہے یا کچھ کرنے پر ہم آمادہ ہوئے ہیں؟؟
پاکستان کی ستر فیصد آبادی دیہی ہے۔جب کبھی ہم دعوتی دوروں پر گئے تو دل غم سے بھر گیا کہ کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا نماز تو کجا؟
اسلام کے احکامات کا علم نہ ھونے کے باعث جہالت ہی جہالت۔تنگی ہی تنگی۔۔
کیا ہم مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنے والے کبھی اپنی زندگی کا کوئ مہینہ، ہفتہ، عشرہ کبھی اس کام کے لئے رکھتے ہیں کہ مسلماں جو دین کا فہم نہیں رکھتے ان پر کام کریں۔
غیرمسلموں کے مسلمان ہونے سے بڑی بات مسلمانوں کا مسلمان ہونا ہے۔۔
ہمارے اطرافِ میں جو کچی بستیاں ہیں کبھی بچوں کے ساتھ وہاں وقت گزاریں انکو اسلام کی تعلیم دیں۔۔۔یقینا کچھ لوگ ایسا کرتے ہونگے مگر وہ کتنے فیصد ہیں۔
بات کچھ آگے لے جائیں ہم میں سے کتنے اپنے بچوں کو عالم، خطیب، مفتی، اسکالر، مترجم، ادیب بنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔؟؟ہمارے بچوں کو تو تعلیمی ادارے بچپن ہی سے کامیاب مارکیٹ مین بننے کی کونسلنگ کرتے ہیں۔۔ہم میں سے کتنوں کے بچے چیریٹی کا کوئ کام کرتے ہیں؟؟
عیسائی ماں تو پیدائش کے وقت سے بچے کو گھول کر پلاتی ہے کہ وہ “مشنری”ہے۔۔۔۔ہم مسلم مائیں بچوں کو بتاتے ہیں کہ اصل مشن یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر تو ہمیں ورثہ میں ملا ہے بحثیت امہ کے۔۔۔
کہیں سے بیداری کی کوئ بھی لہر اٹھے اور بالفرض مسلمانوں کو غلبہ بھی نصیب ہوجائے(ان شاءاللہ)لیکن ہمیں حساب اجتماعی نہیں انفرادی دینا ہے ۔پوچھا جائیگا کہ جس وقت امہ غربت کی حالت میں تھی تمہیں آسائشوں نے ڈس لیا تھا۔اپنا انفرادی کردار ادا کیے بغیر محض نیک تمنائیں کس حکمت ودانش کی علامت ہیں!!!!
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات

اپنا تبصرہ بھیجیں