وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے – عبدالسمیع قائمخانی




غالب نے کہا تھا
وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے
مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
چلیں چھوڑیں غالب کو پہلے یہ پڑھیں۔۔۔۔۔
رانی کولہی بنت روپو کولہی اپنے ماموں کے پاس قیام پذیر تھی۔ کولہیوں کے گاؤں کا نام گوٹھ شگن کولہی ہے جو ضلع عمر کوٹ کی تحصیل کنری میں واقع ہے۔ رانی زات کی کولہی تھی وہ بھی نچلی ذات کی باقی خواتین کی طرح کھیتوں میں کام کرتی تھی ۔ کرشن زات کا بھیل تھا اور اس کا بھی ان ہی کھیتوں میں آناجانا تھا، ان ہی کھیتوں میں دونوں کی آنکھیں چار ہوئی معاملہ حدود عشق سے ہوتا ہوا منتہاء عشق یعنی شادی کے بندھن کے وعدے پر پہنچا۔
اب معاملہ یہ تھا کہ لڑکا ذات کا بھیل اور لڑکی کوھلی، ذات پات کی اعداد و شمار میں کوھلی سب سے آخر ہیں اور بھیل نیچے سے دوسرے نمبر پر، لڑکا اپنی سے نچلی ذات کی لڑکی سے پسندیدگی اور پھر شادی کی بات اپنے گھر میں نہیں کر سکتا تھا، لہذا “نہ رلئے نہ وسیے چنگے پھسیے”۔ کرشن نے کراچی میں مقیم اپنے کاکا (یعنی چاچا) سے اس سارے معاملہ کا ذکر کیا، کا کا نے مشورہ دیا کہ لڑکی کو لے کر پہلے میرپورخاص آجائے تو دونوں کی شادی کوئی مسئلہ ہی نہیں، 28 جولائی کو دونوں صبح سویرے پہلے میرپورخاص اور پھر حیدرآباد سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے بھلا برا ہو زیر تعمیر موٹر وے کا کہ 3 گھنٹے کا راستہ 6 گھنٹوں میں طے ہوا، سہراب گوٹھ اتر کو کرشن نے اپنے کاکا کو فون گھمایا اور اپنے پہنچنے کی خبر دی، کاکا نے ٹیکسی پکٹر کا سائٹ ایریا حبیب بینک چورنگی کے قریب واقع جامعہ بنوریہ پہنچنے کا کہا۔ کرشن اور رانی بنوریہ پہنچے تو وہاں اس کا چچا خمیسو اس کا نتظار کررہا تھا، خمیسو نے کرشن کے ہاتھ میں 20 ہزار روپے اور کہا کہ “دیکھ بیٹے پیسے سنبھال کر استعمال کرنا، آج سے تم دونوں مسلمان ہوجاؤ گے لیکن میں ہندؤ ہی رہونگا اور آج کے بعد میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ جاؤ اپنی زندگی جی لو” 30 سالہ کرشن اور 25 سالہ رانی جامعہ بنوریہ میں مسلمان ہوئے رانی رضیہ ہوگئی اور کرشن عمر ہوگیا اور وہیں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے، 29
جولائی 2016 کے اخبارات میں دونوں کے مسلمان اور پھر شریکِ حیات بننے کی خبریں موجود ہیں۔ اپنے آباء و اجداد کے مذہب میں ذات پات کے گند کی وجہ سے تحفظ نا ملنے پر دونوں پندو مسلمان ہوئے، کہیں کوئی شور شرابہ نہیں ہوا کوئی موم بتی مافیا نہیں نکلی کسی اسمبلی میں کوئی شور نہیں ہوا ۔
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ… ڈاکٹر گوردھن داس ایک کامیاب ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ میرپور خاص میں ان کا ہومیوپیتھک کلینک خاصا مشہور ہے جس کے ساتھ ہی ان کا ذاتی ہومیوپیتھک دواؤں کا اسٹور بھی ہے۔ ڈاکٹر گوردھن داس کے دو بچے، ایک بیٹا اور دوسری بیٹی ہے۔ بیٹے کا نام ’پون‘ جبکہ بیٹی کا نام ’منیشا‘ ہے۔ گوردھن داس کا تعلق ہندوؤں کی ذات کھتری سے ہے۔ منیشا کھتری ہتھنگو کے ایک مسلمان نوجوان بلال یوسف قائم خانی سے محبت کر بیٹھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی محبت اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر منیشا نے اپنے والد ڈاکٹر گوردھن کھتری کو کہہ دیا کہ بلال ہی میرا جیون ساتھی بنے گا، بصورت دیگر وہ موت قبول کرے گی۔ ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کے قصبے ہتھنگو، جو کہ کھپرو سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد ہیں لیکن 98 فیصد آبادی کا تعلق مسلمانوں کی قائم خانی برادری سے ہے۔
منیشا کے والد نے اپنی بیٹی کی ضد سے مجبور ہو کر سماج و برادری، حتیٰ کہ مذہب کو بھی بالائے طاق رکھ کر ہندو مسلم دوستی کے حوالے سے ایک نئی رسم کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو مسلمان کروا کے قائم خانی برادری کے نوجوان بلال یوسف کے ساتھ اُس کی شادی کروا دی۔ اس بات پر جہاں مسلمان برادری میں خوشیاں منائی گئیں تو وہیں ہندو برادری نے اس واقعے کا ‘سخت نوٹس’ لیتے ہوئے ڈاکٹر گوردھن داس کو اپنی برادری سے خارج قرار دیا ہے۔ باپ نے خود بیٹی کو رخصت کیا اس کے باوجود، میڈیا، اخبارات، پنچائیتوں میں خوب شور شرابہ ہوا موم بتی مافیا نے رو رو کر موم بتیاں پگھلا دیں۔ لیکن ہندو پنچایت نے بیٹی کو مسلمان کروا کر اس کی شادی کروانے والے ڈاکٹر گوردھن کھتری کا سماجی بائیکاٹ کر دیا ہے، جبکہ دلت ہندو پنچایت اور بھیل برادری کی جانب سے بائیکاٹ کی مخالفت کی گئی ہے اور ڈاکٹر گوردھن کی حمایت کی ۔ تیسرا انتہائی مشہور واقعہ رنکل کماری (فریال بی بی) کا ہے، جس کی حمایت میں بی بی سی ، وائس آف امریکہ تک روزانہ کی بنیاد پر خبریں تبصرے اور انٹرویو چل ہے تھے، یہاں پاکستان میں رنکل کی واپسی کے لئے مظاہرے، پریس کانفرنس اور سیمینار ہورہے تھے، امریکی کانگریس کے ممبر نے پاکستان خصوصاً سندھ میں “جبری تبدیلی مذہب ” پر تقریر کی
،ایکسپریس ٹریبون نے وہ ماحول بنایا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا۔ رنکل نے بھی وہ ہی کیا تھا جو منیشا، اور رانی نے کیا لیکن رانی کولہی تھی، منیشا قدرے بہتر ذات کھتری تھی اور رنکل اونچی ذات سے تعلق رکھتی تھی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آباد ہندوؤں کا 80 فیصد طبقہ دلت یا چھوٹی ذات کے ہندوؤں پر مشتمل ہے۔ اقلیتوں کے لئے اسمبلیوں میں 32 نشستیں جن میں سے 19 پر ہندؤ پاکستانی بھائی ہیں ان 19 میں سے 17 کا تعلق اونچی ذات کے ہندؤں سے اس لیے جب بھی کسی اعلیٰ ذات کی لڑکی مذہب تبدیل کرتی ہے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں اس معاملے پر آواز اٹھانے کے لیے 17 اراکین ہوتے ہیں جبکہ اچھوتوں کے نہ ہونے کے برابر۔اقلیتوں کے مسائل اسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں جب ہندوؤں کے نمائندوں کے انتخاب کو ووٹ سے مشروط کیا جائے. وگرنہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر مالدار ہندو سیٹھ منتخب ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ ہندو مت سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کی اکثریت لڑکیوں کی ہوتی ہے، جو اسلام قبول کرتی ہیں۔ ان کی اپنے علاقے کے کسی مسلمان لڑکے سے فوراً شادی بھی ہوجاتی ہے اور پھر معاملہ عدالت تک پہنچ جاتا ہے اور 99 فی صد واقعات میں لڑکی اپنے شوہر کے حق میں بیان دے کر سسرال چلی جاتی ہے۔
پاکستان سے بھارت جانے والے ہندؤ قبائل کی ایک بڑی وجہ اقلیتیوں کے مسائل نہیں بلکہ ذات پات کی تفریق کی وجہ سے رشتے نا ہونے یا موافق رشتے نا ملنا ہے۔
ورنہ اندرون سندھ ہندو اور مسلمان آپس میں بغیر کسی فرق کے رہتے ہیں ایک دوسرے کے تہوار، خوشی و غمی میں شریک ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی مذہبی رسومات کا احترام اور حفاظت کرتے ہیں 27 دسمبر والی رات میرپورخاص، عمر کوٹ اور مٹھی میں مسلمان نوجوانوں نے ہندؤ بھائیوں کی املاک کی حفاظت کے لئے اسلحہ بردار ہو کر پہرے دئے، بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ کے بعد اندرون سندھ مندروں کی حفاظت کے لئے پیر صاحب پگارا نے اپنے مریدوں حکم دیا کہ خیر پور، سانگھڑ، عمر کوٹ اور میرپورخاص کے شہری و دیہی علاقوں میں ہندو بھائیوں کی املاک اور مذہبی عمارتوں کی حفاظت کی جائے، ادھر دائیں بازوں کے سیاستدان جان محمد عباسی نے لاڑکانہ میں اپنے کارکنان کو مندروں کے حفاظت کے لئے مامور کیا۔
معاملہ زبردستی یا نابلغوں کا مسلمان کرنے کا نہیں 99 فیصد لڑکیوں نے عدالت میں قبول کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور خواہش سے اسلام کیا، صرف ایک لڑکی جس کا تعلق اندرون سندھ سے نہیں بلکہ لیاری سے تھا نے قبول کیا کہ اس نے اسلام دباؤ میں آکر اور شادی کے لئے قبول کیا۔
جب عشق کے آگے ذات آنے لگے تو تبدیلیء مذہب ہی وہ آسان راستہ بچتا ہے جس سے عشق بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور تحفظ بھی۔ سندھ میں بسنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوستانہ تعلقات صدیوں سے استوار رہے ہیں اور ان تعلقات کے نتیجے میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی رضامندی سے شادیاں بھی ہوئی ہیں۔
سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو نے ’کچھ‘ کے حکمران مہاراجہ کی بھتیجی سے شادی کی۔
کلہوڑوں اور میروں نے ہندوؤں کے ہاں سے شادیاں کی اور سسرال کے احترام میں ان پر آبیانہ وغیرہ معاف کیا گیا۔
ضلع تھرپارکر میں ایک جگہ رحیم کی بازار ہے۔ وہاں مسلمانوں کی ایک قوم ’راہماں (راہموں) ارباب‘ رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ہندو عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح تحصیل ڈیپلو میں ’ترائی‘ نام سے ایک گوٹھ ہے وہاں ’نہڑی ارباب‘ بستے ہیں۔ وہ بھی ہندوؤں سے رشتے لیتے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب رحیم کی والدہ بھی ایک ہندؤ گھرانے سے تھیں۔ اس کے علاوہ سندھ کے کچھ سید اور بھرگڑی خاندان کے افراد نے تھر کی ہندو لڑکیوں سے شادیاں کیں۔ سندھ اسمبلی میں پاس ہونے والا بل آئین پاکستان سے متصادم تو ہے ہی لیکن یہ بنیادی انسانی حق کے بھی خلاف ہے اور یہ بل سندھ میں بسنے والے ہندؤ بھائیوں کی حفاظت کی لئے نہیں بلکہ برہمن اور ٹھاکروں کی دولت، عزت اور رتبہ کی حفاظت کا بل ہے۔ ان کا مقصد پاکستانی ہندؤں کا تحفظ نہیں بلکہ اپنی ذات کا تحفظ ہے۔
برہمن ہندؤ رہ کر بت خانہ میں مرنے کا خواہش مند اور اگر مسلمان ہوگیا تو کعبہ میں مدفن ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں