جو مسجداقصیٰ پر حملے پر خاموش رہتے ہیں، ہمیں آیا صوفیا پر سبق مت پڑھائیں، ایردوان




ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جو لوگ مسجد الاقصیٰ پر حملے کی صورت میں خاموش رہتے ہیں، وہ آج ہمیں آیا صوفیا میوزیم پر سبق مت پڑھائیں۔ اس کو
کیا اسٹیٹس دینا ہے اس سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے”۔ اس سے قبل انہوں نے آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ایردوآن نے یہ بیان اتوار کو ٹیلی وژن پر ایک خطاب کے دوران دیا۔ یہ عمارت اس وقت ایک عجائب گھر کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔
سن 1453ء میں قسطنطنیہ پر بازنطینی حکمرانی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد عثمانی دور کا آغاز ہوا اور سلطان محمد دوئم نے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد ایا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ بعدازاں سن انیس سو پینتیس میں سیکولر ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے اسے عجائب گھر کا درجہ دے دیا تھا۔ پھر اس کی تزئین و آرائش کا کام بھی کیا گیا اور بازنطینی دور کے وہ نقش و نگار بھی پھر سے بحال کر دیے گئے، جنہیں عثمانی دور میں چھُپا دیا گیا تھا۔ اس بات کا بھی خاص خیال رکھا گیا کہ عثمانی دور میں اس عمارت میں کیے گئے اضافے بھی برقرار رہیں۔ اب سالانہ لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔
دوسری جانب ترک عوام کی طرف سے بھی اس عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے مطالبات میں اضافہ نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر ہونے والے دو حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ برس ترک صدر نے ایا صوفیہ میں نماز بھی ادا کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں