تمہیں تاریخِ اسلامی کے رشتے جوڑنے ہونگے‘‘ مریم فاروق




’’ارتغزل غازی‘‘ نومبر 2018 سے دیکھنے کا آغاز کیا تھا اور اب کوئی پانچ مہینے ہوچکے ہیں کہ ہم اب بھی سیزن 1 پر ہی اٹکے ہوئے ہیں۔ (اگر مصروفیات کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید اب تک انٹر نیٹ پر موجود سارے سیزن مکمل کر چُکے ہوتے لیکن کیا کریں۔۔۔ گھریلو اور دیگر تعلیمی ودیگر مصروفیات ہمیں باز رکھے ہوئے ہیں۔)
آج ہم سیزن 1 کی قسط 69 پر پہنچے ہیں کہ جس کے بعد درج ذیل سطور لکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔* ہمارے والدین چاہتے ہیں کہ ہم ڈرامے اور فلمیں نہ دیکھیں کہ آج کل کی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پروڈکشنز اس قابل نہیں کہ ہم انکو دیکھیں اور ہم دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ ایسے میں ترکی کا یہ سیرئیل اتنا زبردست ہے کہ اب ہماری امی بھی (کبھی کبھار۔۔۔ جب فرصت سے بیٹھی ہوں ) تو یہ ڈرامہ ہمارے ساتھ دیکھتی ہیں۔ ہمارے گھر میں کُونوکُھدروں میں اکیلے بیٹھ کر ہینڈز فری لگا کر موبائل، لیپ ٹاپ استعمال کرنے کی با لکل اجازت نہیں ہے لیکن ’’ارتغزل غازی‘‘ وہ واحد سیرئیل ہے کہ جسکو دیکھنے کے لئے پنکھے کی تیز آواز میں یا گھر والوں کی باتوں کے شور سے بچنے کے لئے ہم کو ہینڈز فری کے استعمال پر استشنیٰ حاصل ہے۔ * ہم نر سری سے ایک اسلامی فکر دینے والے اسکول سے منسلک رہے ہیں ۔ہماری انگریزی کی شاملِ نصاب کتاب VISION کلاس 1 سے 8 تک ہمارے ساتھ رہی ہے . ٹیپو سلطانؒ ، صلاح الدین ایوبی،ؒ خالد بن ولید ؒ ودیگر مسلم حکمرانوں پر ہر کلاس کی کتاب میں ایک ایک سبق موجود رہا ہے جسکے اندر مسلم حکمران کی qualities، شہا دت کی آرزو رکھنے والے مجاہدین کے تذکرے ،مسلم سلطنت کی خصوصیات،
جنگی ساز و سامان اور قلعوں کے infrastructures کی تفصیلات بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کی گئیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو گھوڑے، گھوڑے کی ٹاپوں سے اُڑتی دھول والے مناظر، تلوار، زرہ، خُود اور اس جیسی دیگرجہادی چیزوں میں بڑی کشش محسوس ہوتی ہے۔ یہ ساری چیزیں ’’ارتغزل غازی ‘‘ میں براہِ راست دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ * جو لوگ کسی بھی وجہ کے سبب ’’ ارتغزل غزی‘‘ دیکھنے سے اختلاف رکھتے ہیں اُنکے لئے میرا مشورہ ہے کہ صرف سیزن 1 کی قسط نمبر 69 دیکھیں۔ آپکا اختلاف ریزہ ریزہ نہ سہی مگر چٹخ ضرور جائے گا۔ اسکے اند رمسلمانوں کے ہاتھوں صلیبیوں کے قلعہ کی فتح کے روح پرورمناظر ہیں ۔ اس قسط کو دیکھنے کے بعد اُمتِ مسلمہ کی موجودہ صورتحال پر دل خون کے آنسو رویا ۔۔۔ ہم نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ تاریخ اپنے آپ دوہراتی ہے ۔ تو دل کو ایک اُمید بندھی ہے کہ یقیناََ آج لہو لہو ہوتی اُمتِ مسلمہ کو بھی فتح و نصرت کے یہ روح پرور مناظر دیکھنے کو ضرور ملیں گے۔ بے شک اس وقت چہار جانب سے امتِ مسلمہ کے نوجوانوں پر تعیش کے، تفریح کے، ظلم و جبر کے جال پھینکے جا رہے ہیں لیکن ان ہی میں سے نواجون اٹھیں گے جو اسلام کی تشاۃِ ثانیہ کا سبب بنیں گے۔ تاریخ کا یہ سبق کتنا اُمید افزاء ہے۔۔!!

اپنا تبصرہ بھیجیں