سلسلہ مطالعہ تفہیم القرآن سورۃ الفاتحة آیت نمبر 4 تا 7




سلسلہ مطالعہ تفہیم القرآن سورۃ الفاتحة آیت نمبر 4 تا 7
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ . ترجمہ: اللہ کےنام سے جو رحمان و رحیم ہے.
مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ 0 ترجمہ : روز جزا کا مالک ہے
تفسیر: اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتاہے اس کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر کام کی ابتداء خدا کے نام سے کرے۔
اس قاعدے کی پابندی اگر شعور کے ساتھ کی جائے تو اس سے لازماً تین فائدے حاصل ہونگے ۔ ایک یہ کہ آدمی بہت سے برے کاموں سے بچ جائے گا، کیونکہ خدا کا نام لینے کی عادت اسے ہر کام شروع کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور کر دے گی کہ کیا واقعی میں اس کام پر خداکا نام لینے میں حق بجانب ہوں؟ دوسرے یہ کہ جائز اور صحیح اور نیک کاموں کی ابتداکرتے ہوئے خدا کا نام لینے سے آدمی کی ذہنیت بالکل ٹھیک سَمت اختیار کر لے گی اور وہ ہمیشہ صحیح ترین نقطہ سے اپنی حرکت کا آغاز کرے گا ۔تیسرا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ خدا کے نام سے اپنا کام شروع کرے گا تو خدا کی تائید اور توفیق اس کے شاملِ حال ہوگی، اس کی سعی میں برکت ڈالی جائے گی اور شیطان کی فساد انگیزیوں سے اُس کو بچایا جائے گا ۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ جب بندہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ بھی بندے کی طرف توجہ فرماتا ہے.
آیت نمبر 5 اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۞ ترجمہ: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں.
تفسیر: عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ﴿١﴾ پوجا اور پرستش ﴿٢﴾ اطاعت اور فرمانبرداری ﴿٣﴾ بندگی اور غلامی۔
اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے۔ ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔ یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا رب تو ہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد پر ہمارا اعتماد ہے۔ اسی بنا پر ہم اپنی درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں۔
آیت نمبر 6 _ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۞
ترجمہ: ہمیں سیدھا راستہ دکھا 8
تفسیر: یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بدنامی کا خطرہ نہ ہو،
جس پر چل کہ ہم سچی فلاح وسعادت حاصل کرسکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ درخواست جو قرآن شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔ اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقت نفس الامری کیا ہے، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظام اخلاق کونسا ہے، زندگی کی ان بیشمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے۔
آیت نمبر 7 _صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ  ۞
ترجمہ: ان لوگوں کاراستہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں ؏
تفسیر: یہ اس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظور نظر لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ بےخطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر رہا۔
یعنی ” انعام ” پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ ” انعام ” سے ہماری مراد حقیقی اور پائیدار انعامات ہیں جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتے ہیں، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں