ٹیرس سے پیرس




کورونا کیا کر رہا ہے…….؟ ایک عرب سکالر ، مستشار عدلی حسین کا کہنا ہے کہ: ” کوروناوائرس پرلعنت مت بھیجو “.
کیوں ؟ اس نےانسان کو انسانیت اور خالق کی حقانیت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ اپنے اس دعوی’ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ کیا پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بند نہیں ہو گئے….. سینما گھر ، نائٹ کلب ، شراب خانے، جواخانےاور ریڈ ایریا بند نہیں ہیں کیا ؟ کیا خاندانوں کوایک طویل جدائی کے بعد ان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھا ہونے کا موقع نہیں دیا کیا ؟ کیا اس نے غیر مرد اور غیرعورت کوایک دوسرے کا بوسا لینے سے نہیں روکا……؟ کیا اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پرمجبور نہیں کیا کہ شراب پینا تباہی ہے، لہذااس سے اجتناب کیاجائے ؟ کیا اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پرمجبور نہیں کیا کہ درندے ، شکاری پرندے ،خون ، مردار اورمریض جانور صحت کے لئے تباہ کن ہیں؟ کیا اس نے انسان کو نہیں سکھایا کہ چھینکنے کا طریقہ کیا ہے ، صفائی کس طرح کی جاتی ہے جو ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سےشودہ سو پچاس سال پہلے بتایا تھا…… ؟
کیا اس نےفوجی بجٹ کا ایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل نہیں کیا ہے؟ کیا اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قرار نہیں کر دیا ؟ کیا اس نےدنیا کے فرعون حکمرانوں کوبتا نہیں دیا کہ لوگوں کوگھروں میں پابند کرنے، جبراً بٹھانے اور ان کی آزادی چھین لینےکا مطلب ہوتا کیا ہے؟ کیا اس نے لوگوں کواللہ سےدعامانگنے ….. گریہ وزاری کرنے اوراستغفارکرنے پرمجبور اورمنکرات اورگناہ چھوڑنے پرآمادہ نہیں کیا ؟ کیا اس نےمتکبرین کے کبر و غرور کا سرپھوڑنہیں دیا اورانہیں عام ا نسانوں کی طرح لباس نہیں پہنایا ؟ کیا اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگر آلودگیوں کوکم کرنے کی طرف متوجہ نہیں کیا ……. جن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگندہ کیا ہوا ہے؟ کیا اس نے ٹیکنالوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ نہیں کیا ؟ کیا اس نے حکمرانوں کوجیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ نہیں کیا؟
اوراس کا سب سے بڑاکارنامہ کیا یہ نہیں ہے کہ اس نے انسانوں کواللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا………شرک اورغیراللہ سے مدد مانگنے سے منع نہیں کیا؟ آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا ادنیٰ سپاہی…… انسانیت کےلئے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔ تواے لوگو! کرونا وائرس پرلعنت مت بھیجو یہ تمہارے خیر کے لئے آیاہے کہ اب انسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی….. آج دنیا جس کرب سے گزر رہی ہے ، نظر نہ آنے والا ایک وائرس پوری دنیا کے لئے تھرٹ بنا ہوا ہے ۔ شخصی آزادی جسمانی آزادی ، میرا جسم میری مرضی، مائی باڈی مائی چوائس اور بڑے بڑے فرعون نما انسانوں کی اصلیت کھول کر نہیں رکھ دی۔
1995ء میں ہمارے ایک دوست کرنل حامد جو اب برگیڈیئر ہیں نے مزاق میں کہا تھا کہ اللہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں…..! میں نے حیران ہو کے پوچھا وہ کیوں ؟ انہوں نے کہا وہ رب ہے وہ خود ڈرا لے گا۔ ڈرنے کی بات انسانوں کے لیے شیطانی کردار ہے ۔ آج وہ بات بلکل سچ ثابت ہو رہی ہے پوری دنیا ایک چھوٹے سے بظاہر نظر نہ آنے والے وائرس کا بری طرح شکار ہے۔ سب کچھ کھا جانے والے چائنیز کے گھر سے شروع ہونے والا یہ وائرس وہاں اتنا نقصان نہیں کر سکا جتنا کر سکتا تھا …..وجہ…؟ وہاں انسان نے انسان کو پابند کر دیا مگر اٹلی چھوٹا تھا مگر عوام مادر پدر آزاد تھی غلامی کو نہیں مانتی اللہ کو بھی نہیں مانتی سب کچھ ہونے کے باوجود اٹلی کے وزیراعظم کا یہ بیان کہ زمینی طاقت اور وسائل اس کورونا کی آفت پر قابو پانے سے قاصر ہیں اس کے لیے آسمان سے مدد کی ضرورت ہے۔ کیا یہ بات اس عرب سکالر مستشار عدلی حسین کے دعوی’ کا ثبوت نہیں۔
اللہ سب کو محفظ رکھے اس وبا سے مگر جو اس وبا میں مارے جائیں گے یا مرے گئے ہیں اسلامی روح سے وہ شہید ہیں مگر احتیاط لازم ہے ، احتیاط نہ کرنا خودکشی اور خودکشی حرام ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں