الخدمت کی خدمت – عالیہ زاہد بھٹی




گھر میں ہی تو رہتے تھے، روز اسی گھر میں ہی رہتے تھے ……. مگر اب گھر میں رہنا ، وہ عام سا گھر میں رہنا نہیں لگ رہا.
چھٹیاں بھی ہوتی تھیں مگر وہ چھٹیاں گزارنے کے بعد پھر اور چھٹیوں کا انتظار رہتا تھا …. کام تھے کہ ختم ہی نہیں ہوتے تھے زندگی رواں دواں ،متحرک…. مگر کام پھر بھی ادھورے..! عبادات نامکمل ، ملاقاتیں ادھوری مگر دو،دو ماہ کی چھٹیاں بھی گزار کر دیکھا مگر تشنگی تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی . مگر اب کے جو کورونا کا رونا پڑا ہے وہ اپنے اندر فرصت ہی فرصت لے کر آیا ہے……عبادات کے لئے بھی فراوانی میسر ہے اور اپنے گھر والوں سے معاملات کے لئے بھی فراوانی میسر ہے بلکہ گھر سے باہر نہ جاتے ہوئے بھی آن لائن خیریت ، اور آن لائن نیکیوں کی ترسیل اور تدریج سب ہی کچھ موجود ہے بہت زیادہ فراوانی سے ….. بہت سوچا تو ایک ہی بات سمجھ میں آئی کہ ہم اپنے رب کی دی ہوئی ہر نعمت کو عموماً اپنے لئے ناکافی اور نامکمل سمجھتے ہیں اور کفران نعمت کا شکار ہو جاتے ہیں .
اب یہ چند ناگہانی آفات کے سبب آئی چھٹیاں اصل میں پوری اور کافی نہیں محسوس ہورہیں…… اصل میں گھر اب محفوظ پناہ گاہ محسوس ہو رہے ہیں اور جن کو اس پناہ گاہ میں بنیادی ضروریات میسر نہیں ، ان کی بے کسی کا احساس بھی ہو رہا ہے تبھی تو گھر میں بیٹھ کر بھی آدھی کھا کر آدھی آن لائن الخدمت کے ذریعے مستحقین تک پہنچانے کی جلدی ہے. یہ وہ واحد چھٹیاں آئی ہیں اس قوم کی زندگی میں کہ جس میں آج کیا پکے گا سے زیادہ دل اپنے رب کے حضور شکر گزار ہے کہ ہم عافیت سے محفوظ ہیں . اب جن کی مدد ہم کر سکتے ہیں اپنے گھر میں رہتے ہوئے ہی….. ان کی مدد کر کے اپنی اپنی عافیتوں کو اور مستحکم بنایا جائے ایسے میں الخدمت ہماری عافیتوں اور سلامتیوں کے لئے کوشاں ہے، ہم گھر میں بیٹھ کر اللہ کے بندوں کی مدد آن لائن کریں اور الخدمت کے جانثار سڑکوں اسپتالوں اور گلیوں میں ضرورت مندوں اور مریضوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہمارا فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں اور ہم ان چھٹیوں کو گھر میں بیٹھے بیٹھے رب کی رضا کے لئے وقف کر کے پہلے سے زیادہ بہتر اور اچھے انداز میں گزار رہے ہیں
یہ ہے وجہ ان چھٹیوں کے خاص ہونے کی کہ اے اللہ اب یہ تیرے لئے ہیں صرف تیرے لیے کہ ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تب ہماری یہ چھٹیاں ضرور یاد رکھنا میرے مالک.

اپنا تبصرہ بھیجیں