کرونامعرکہ ایمان و مادیت – ڈاکٹر اسامہ شفیق




صحت عافیت، سلامتی اور بربادی کی قوت کس کے پاس ھے …….. نام نہاد جدید دنیا کو معلوم ھوگیا۔ کیا عظیم الشان کارنامے ھماری زندگیوں میں رونما ھورھے ہیں جوکہ شاید تاریخ میں تادیر یاد رکھے جائیں.
لیکن میں اور آپ اس کے خود عینی شاہد ہیں ۔ معرکہ ایمان و مادیت کی عملی تفسیر رونما ھورھی ھے اور بار بار انسان کو اس کا رب پکار پکار کر کہہ رھا ھے کہ وھی رب ھے وحدہ لا شریک کہ جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ھے……. بس ایک کن کہنے کی دیر ھے۔ جس نے انسان کو قوت دی لیکن یہ بھی بتادیا کہ یہ قوت اس ھی کی ودیعت کردہ ھے لیکن انسان سرکش ھے بار بار بھول جاتا ھے…….. تب رب بار بار انسان کو اپنی جانب متوجہ کرتا ھے۔ وہ اعلی ترین ترقی یافتہ دنیا کہ جس کو اپنے مراکز صحت اور طبی سہولتوں پر بڑا پختہ یقین تھا وہ آج ایک معمولی جرثومے کے سامنے بے بس ہیں ۔ دنیا کی سپر پاور کی صورتحال یہ ھے کہ نیو یارک میں ایک وینٹلیلٹر پر دو دو افراد ہیں ۔ نیویارک کا گورنر بے بس ھوکر کہتا ھے کہ کرونا نیویارک میں بلٹ ٹرین کی رفتار سے بھی زیادہ سے آگے بڑھ رھا ھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی دوسری سب سے بہترین طبی سہولیات رکھنے والا ملک اٹلی بدترین صورتحال سے دوچار ھے۔ اموات رکنے کا نام نہیں لی رہیں ہیں۔ برطانیہ میں شہزادہ چارلس اور وزیر اعظم بورس جانسن بھی کرونا میں مبتلاء ھوچکے ہیں۔
یہ محض ایک وائرس نہیں بلکہ میرے رب کا امتحان اور آزمائش ھے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کو یاد دھانی بھی کہ انسان کی اعلی ترین سہولیات ، بڑے بڑے منصوبے، علاج ، سیکورٹی سب اللہ کے حکم کے آگے ہیچ ہیں۔ میرا رب کتنا رحمان ھے کہ اگر یہ جرثومہ اس ھی رفتار سے ملک پاکستان پر بھی حملہ آور ھوتا تو کیا میں اور آپ اس محدود طبی سہولیات رکھنے والا ملک اس کے آگے کیا کرسکتا تھا ۔ یہ محض اللہ کا فضل ھے کہ اس نے ابھی تک پاکستان کو اس سے محفوظ رکھا ۔ ساتھ ھی ساتھ میرے اور آپ کے لیے یہ ایک یاد دھانی ھے کہ معرکہ ایمان و مادیت میں اعلی ترین وسائل رکھنے والے بھی میرے رب کے حکم سے ناکام ھو جاتے ہیں ۔ اور ٹوٹی بندوقوں والے بھی اس ھی کے حکم سے کامیاب ھوتے ہیں کیونکہ بادشاہت تو بس اس ھی کی ھے۔ باقی دنیا میں زندگی گزارنے کے اصول بھی اس ھی رب نے بتائے ہیں ۔ جان بوجھ کر اپنے آپ کو ھلاکت میں ڈالنا خودکشی ھے اور حادثہ کا شکار ھوکر مرنا شہادت کا درجہ پاتا ھے۔
لہذا دنیا کے وسائل پر نظر نہ ڈالیں بلکہ اس کی رحمت پر نظر کریں ……..وہ رب جو ابراھیم علیہ السلام کو آگ کو عظیم الاؤ سے بچا سکتا ھے، وہ جو حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھ سکتا ھے، وہ کہ جو فرعون کو اس کے پورے لشکر سمیت غرق اور حضرت موسی کو محفوظ رکھ سکتا ھے۔ اس کے لیے مجھ کو اور آپ کو اس جرثومے سے محفوظ رکھنا کونسی بڑی بات ھے۔ یہ اللہ کی رحمت ھی تو ھے کہ ایک پسماندہ ملک پاکستان ابھی تک محفوظ ھے اور ان شاء اللہ رھے گا۔ بس اپنے رب پر بھروسہ رکھیں اس ھی سے رجوع کریں اس سے ھی پناہ مانگیں اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وباء کی صورت میں کیا اس پر عمل کریں۔ ان شاء اللہ یہ وقت میرے اور آپ کے لیے مزید بہتری لے کر آئے گا کیونکہ میرے رب کا فرمان ھے۔
ان مع العسر یسرا بے شک ھر تنگی کے ساتھ فراخی ھے۔ یہ میرے رب کا وعدہ ھے اور اس سے بڑھ کون ھے جو وعدے کو وفا کرے……!

اپنا تبصرہ بھیجیں