رب کو راضی کرلو – سعدیہ نعمان




قرنطین کا تیسرا دن تھا مجھے بنک ایک کام سے جانا پڑا ……. واپسی پہ پیدل چلتے ہوئے سڑکوں پہ چھایا غیر معمولی سناٹا اور ایک ان دیکھا خوف واضح محسوس ہو رہا تھا …..
اتنے میں ایک گھر کے بیرونی لان میں تازہ کھلے گلاب کے پھولوں نے میری توجہ کھنچ لی اور میں نے رک کے کچھ دیر غور سے انہیں دیکھا . پودوں پہ کھلتے پھول آنے والی بہار کا پتہ دے رہے تھے ” زندگی سانس لیتی ہے اور اب بھی مسکراتی ہے ” اس سوچ نے امید کے در وا کر دئے اور کچھ دیر پہلے جو خوف پورے وجود کو جکڑ رہا تھا…… روح اس سے آزاد ہونے لگی —لیکن شام ہوتے ہی اداسی کی ایک لہر پھر سے ماحول کو لپیٹ میں لینے لگی یوں……… جیسے وقت کی رفتار آہستہ ہو گئ ہو . پرندوں کی آوازیں سنتے اور سورج غروب ہونے کا منظر دیکھتے ایک عجیب سی ……کیفیت چھانے لگتی ہے کیا ان ہونی ہے جو ہونے جا رہی ہے –
یہ اداسی کچھ مزید بڑھ گئ جب ……… جمعہ کی صبح مدینہ سے ایک عزیز نے جو تصاویر بھیجیں وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خارجی دروازوں کے بند ہونے کی تھیں …! یوں لگا کہ دل بھی بند ہو چلا ہے. جمعہ کے دن شاہراہ عبدالعزیز سے حرم نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف جا تے ہوئے بے تاب پر وانوں کے ہجوم یاد آنے لگے …… دس بجے صبح ہی اندرونی ہال میں جگہ ختم ہو جاتی تو صحن حرم میں بچھے قالین بھرنے لگتے تھے — ہم سے خطا ہوئی ہے بہت بڑی خطا -کہ اللہ کے گھر اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا در ہم پہ بند ہو گیا — جمعہ کا خطبہ دیتے امام صاحب رو رو کے فرما رہے تھے ” مت سمجھنا کہ دشمن غالب آ گیا ہے بلکہ یقین کرو محافظ ہم سے روٹھ گیا ہے” ……. اللہ نے کمال وقت سے مخلوقات اور آباد شہروں میں ایک چھوٹی سی مخلوق چھوڑی تو شہر کے شہر خالی ہو گئے سخت سے سخت جسم برباد ہو گئے مجمعوں کے مجمعے بکھر گئے مال کا کثیر حصہ تباہ ہو گیا .
پھر اس نے بڑے بڑے سرکشوں کو رسوا کیا ان کو تباہ کر دیا ان کے جمے قدموں کو اکھیڑ دیا نہ اونچی اونچی عمارتوں کو چھوڑا نہ بڑے بڑے لشکروں کو ، نہ نیک کاروں اور عبادت گزاروں کو، نہ نافرمانوں اور سرکشوں کو ، جب یہ بڑے بڑے شہروں اور گنجان آباد علاقوں میں پہنچی تو حرکت شل ہو گئی سانسیں رک گیئں گویا کہ کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں ، دوستوں کو بھی دشمن کے اخلاق لگ گئے اب وہ ایک دوسرے کی ملاقات سے بھاگتے ہیں پیاروں کے درمیان اس نے دوریاں پیدا کر دیں اب وہ ایک دوسرے کو یوں دیکھتے ہیں جیسے پیاسا سراب کو یا قحط زدہ علاقہ والا بادل کو تکتا ہے…….اس سب کی وجہ ہماری اپنی برائی اور اللہ کی مہربانی کا ہٹ جانا ہے ……. مت سمجھنا کہ دشمن غالب آ گیا ہے بلکہ یقین کرو محافظ ہم سے روٹھ گیا ہے …!
تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں( الانعام 42) ……..شائد یہ پلٹ آیئں ( الاعراف 168) …….شائد وہ عاجزی پہ اتر آیئں ( الاعراف 94) ………تاکہ وہ توبہ کر لیں شائد ان کو ہوش آ جائے ( الاعراف 130) …….دلوں کا زنگ بہت بڑھ گیا تو علم غریب رکھنے والے نے رہ نمائی فرمائی…..! یہاں امام صاحب کی ہچکیاں بندھ گیئں وہ دیر تک روتے رہے ، پھر فرما یا
” کیونکہ زنگ زیادہ ہو جائے تو کمزوری بڑھ جاتی ہے اور زنگ دور ہو جائے تو مضبوطی آ جاتی ہے ………” تاکہ وہ مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کرے( آل عمران 141) ..،تاکہ وہ منافقوں کو جان لے ،اور مجرموں سے انتقام لے ، تاکہ وہ مومنوں کے سینے ٹھنڈے کر دے اور ان میں سے گواہ تیار کر لے ………. واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے
بے شک وہ علیم اور حکیم ہے ( یوسف 100) “( ترجمہ خطبہ جمعہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ 20 مارچ 2020 مطابق 25 رجب 1441ھ )
آو مل کے سوچتے ہیں کہاں کہاں غلطی ہوئ ہے کیا کیا خطایئں کی ہیں……رب کو چھوڑ کے دنیا کو معبود بنا لیا ……اسٹیٹس اور لائف اسٹائل کے پھندے گلے میں ڈال لئے ……اللہ کے حکموں کو مذاق بنایا ہنسی اور جگتوں میں اڑا دیا ……..جو اللہ کے بندے رب کی طرف بلاتے رہے ان کو بھی طعن و طنز کا نشانہ بنایا ……. مظلوم مجبور کی طرف سے آنکھیں بند کر کے اپنے کھیل تماشوں میں مگن رہے
پھر رب نے منہ موڑ لیا — اب اسے منانے کا وقت ہے ، رو کے گڑگڑا کے سجدے میں گر کے ، سچی توبہ کر کے ، لا یعنی کاموں سے…….خود کو دور کر کے ……رب سے رشتہ جوڑنا ہو گا
آیئے قرآن کو تھام لیں ،آیئے سنت کو دل سے لگائیں ،عمل میں ڈھالیں ،گھروں کے ماحول کو بدلیں ،رب راضی ہو جائے تو سب در کھل جائیں گے ،زندگی آسان ہو جائے گی ،شگوفے کھلیں گے اور گلاب مہکیں گے ،زندگی میں حقیقی بہار آئے گی.
دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں خوف سے امن بخشے ہم سے اس آزمائش کو دور فرمائے اور ہمیں معاف فرما دے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں