کرونا اصلاح کا سبب – افشاں نوید




ہر چینل پر اسوقت علماء دین آپ کو نظر آ رہے ہیں۔ یہ علماء جو اللہ کی رحمت ہیں۔ہمارے سماج کے معاشرے کا جھومر ہیں۔زندگیاں دینی علم کے حصول میں لگاچکے اب چراغ لے کر ہم بھٹکے ہوؤں کے راستے میں اجالا کرتے ہیں۔ مجھے رات عالم دین کی باتیں سن کر ددیہالی رشتہ دار یاد آگئیں۔ میاں کا حال ہی میں انتقال ہوا ۔ ہم نے تعزیت کی۔ اگلے دن فون آیا کہ میرے میکے والے جمعراتوں کا کہ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔آپ کیا کہتی ہیں ؟
ہم نے سمجھ بھر جواب دیا اور کہا کہ مزید معلوم کرکے بتاتے ہیں کسی عالم دین سے۔ وہ گاھے گاھے فون کرتیں کہ اور کیا پڑھوں,کیا بخشوں…….خیرات میں کیا زیادہ پسندیدہ ہے…….عدت کے احکامات وغیرہ۔ کہتی تھیں ڈرتی ہوں اللہ کی کوئی حد نہ ٹوٹ جائے۔ عدت کے بعد بیٹی کی شادی تھی۔ ہم منتظر کہ ضرور فون کرینگی کیونکہ حدود تو یہاں پر بھی ہیں …….شائد جاننا چاھیں گی لیکن ایک فون نہ آیا مروجہ رسوم کے مطابق رقص و موسیقی کے ساتھ مخلوط تقریبات میں بیٹی “قرآن کے سائے” میں رخصت کردی۔ یہ ہمارا سماجی ذھن ہے کہ “دین” موت اور خوف میں رجوع کانام ہے۔ وظائف آفات و بلیات کو بھگانے کے لیے ہیں۔ زندگی اپنی مرضی سے جینے کے لیے۔ مقصد دکھ کی گھڑی میں کسی بحث کو چھیڑنا نہیں ہے۔قرآن کے اس حکم کی یاد دہانی ہے کہ ہم جب کشتی پار لگادیتے ہیں تو تم نافرمانیاں کرنے لگتے ہو۔
اسلامی شریعت وفقہ صرف رنج وغم کے لیے ھدایات نہیں رکھتا۔ یہی علماء ان چینلز کو بتا سکتے ہیں کہ ڈراموں کے موضوعات کیا ہوں۔ ٹی وی چینلز جب اپنی پالیسی بنائیں تو علماء کے نمائندے کو بھی بورڈ میں رکھیں- ان سے پوچھیں کہ ایک اسلامی ملک کے میڈیا کی نشریات کو کن حدود کا پابند ہونا چاھئے۔ اشتہار میں عورت کا استعمال کس حد تک ہو۔ اشتہاری کمپنیاں”ایوارڈز “کی تقریبات میں کن کم سے کم حدود کی پابندی کریں۔ ٹاک شوز کے عنوانات سیاست کے علاوہ بھی بے شمار ہیں جو یہ علماء دین بہت حسن وخوبی سے بتا سکتے ہیں۔قوم کو جس اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے وہ ان علماء دین کے حوالے کردیں چند گھنٹے روز کی نشریات کے۔ صرف طلاق , خلع , عدت , رضاعت اور طہارت کے علاوہ بھی ان علماء دین کے پاس شریعت کا دیا ہوا پورا نصاب موجود ہے۔ ریٹنگ اور مالی مفاد کے لیےمیڈیا جو کچھ کرگزرتا ہے علماء سے پوچھا جائے اسلامی اصول تجارت میں اس کے لیے کیا اصطلاح اور کتنے واضح قوانین موجود ہیں.
ہمارا معاشری رویہ یہ ہے کہ تدفین اسلامی آداب کے مطابق ہوگی کہ میت کارخ قبلہ سے ادھر ادھر ھو تو شرکاء شور مچا دیتے ہیں کہ قبلہ کا خیال کیوں نہیں رکھاگیا…؟حالانکہ قبلہ زندگی میں درست ہونا ضروری تھا۔قبلہ درست نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی ہم زندگی بے قبلہ گزار کر میت کے قبلہ رخ ہونے کے لیے حساس ہوتےہیں۔یہ اسلامی آداب میں سے ایک ادب ہے اور ہمیں یہ سکھانے کے لیے ہے کہ رب موت کے بعد بھی قبلہ رخ ہونے کو پسند کرتا ہے تو زندگی میں بدرجہ اتم اس کا خیال رکھا جائے۔صرف نمازوں ہی میں نہیں پوری زندگی فوکس ہو۔اس فوکسڈ زندگی والے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قرآن”مسلم حنیف”کہتا ہے.. پھر یہ کہ عورت کی میت کوئی نامحرم نہ دیکھ لے۔چاھے اس عورت کی دلہن بنی تصویر خود گھر والے ڈی پی پر لگا چکے ہوں اور ہر انت سے فیس بک کی زینت بنا چکے ہوں۔۔۔۔ آج جب موت کی آھٹ ہم بہت قریب سے سن رہے ہیں,”خوف” امر بیل کی طرح ہم سے چمٹا ہوا ہےتو اپنے انفرادی اوراجتماعی رویوں پر سوچیں کہ ہم کیوں اس حال کو پہنچے کہ تڑپ رہے ہیں اور سر چھپانے کو ماں کی گود میسر نہیں۔خانۂ کعبہ ومسجد نبوی کے در ہم پر بند ہوچکے۔ ہماری شقاوت کا یہ عالم ہے کہ ادھر علماء دین تذکیر کرکے رخصت ہوئے ادھر لکس کا اشتہار ۔ادھر جلوے بکھیرتی حسینہ۔۔آفریں,آفریں کی تھاپ کے ساتھ جلوه افروز۔
اصل چیز نیکی سے زیادہ گناہ سے بچنا ہے۔اصل نیکی ہی گناہ سے بچنا ہے۔ایک شخص کے پاس بہت ساری نیکی اور بہت سارے گناہ ہوں تو شریعت کہتی ہے نیکیوں کو گناہ برباد کردیتے ہیں۔اسی لیے امر بالمعروف کے ساتھ نہی عن المنکر جوڑ دیا گیا۔ گھنٹہ بھر مذھبی پروگرام کرکے چینل کو پاک کرلیا پھر تئیس گھنٹے مرضی جو طاؤس و رباب چلے۔ شب بیداری اگر زندگی کو بیدار نہیں کرتی۔گناہ سے کراھت پیدا نہیں کرتی۔ ہماری نماز ہمیں فحش سے نہیں روکتی, روزہ جھوٹ کی عملی زندگی سے نہیں روکتا تو دین دنیا سے الگ کوئی چیز نہیں ھے۔دین آخرت کے بعد کی زندگی کے لیے نہیں ہے دین تو ہے ہی دارالعمل کے لیے۔یہاں مرضی ہماری ہے کہ جیسے چاھیں جئیں۔جو چاھیں راستہ اختیار کریں فرمانبردای کا یا نافرمانی کا۔وہاں مرضی ہماری نہیں چلے گی۔ “استغفار” تسبیح پر پڑھا جانے والا وظیفہ نہیں ہے۔استغفار زندگی کی پاکی کا نام ہے۔ ہم انفرادی زندگی میں بھی رجوع کے مقام پر کھڑے ہیں بحثیت امہ بھی۔انڈونیشا کے لوگ چھتوں سے کبریائی بیان کررہے ہیں,غزہ میں نمازی سجدوں میں پڑے ہیں
ایمان ویقین ہے کہ رب ضرور سنے گا۔۔کرونا ہماری انفرادی اصلاح کا بھی سبب بنے گا ان شا ءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں