اللہ جی ہم سے راضی ہوجائیے – نائلہ شاہد




بات تو سمجھنے کی ہے اور اب بھی نہیں سمجھے گے تو بھلا کب سمجھے گے……! اس وقت پوری دنیا آفتوں کی ذد میں ہے کورونا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی .
جس کائنات کو رب کریم نے اپنے ہاتھوں سے بہت خوبصورتی سے نک سک سے تخلیق کیا ہو اس کو کیسے چلانا ہے …….. .اس سے بہتر اور کون جان سکتا ہے……؟ اس کے موسم اس کے رنگ اس کے دریا سمندر آبشار پہاڑ…….. سب سوچ سمجھ کر ان کے مقامات پر بنائے ہو اور ان سب کو برتنے کے لیے اپنی سب سے بہترین تخلیق انسان بنایا کیا. اس رب نے انسان کے اندر وہ صلاحیتیں وہ سوجھ وہ شعور وہ فہم نہیں ڈالا ہوگا جن کے زریعے وہ اللہ کی بنائی ہوئی اتنی پیاری دنیا کو برت سکے انسان کے ساتھ ساتھ شیطان بھی اپنی پوری تیاری کے ساتھ رب کریم کے سامنے بغاوت کا علم اٹھائے کھڑا ہوگیا بغاوت کس سے؟ اللہ سے؟ نہیں اس کے فیصلوں سے اس کے حکم سے رب کا تو وہ سب سے زیادہ برگزیدہ سب سے زیادہ عبادت کرنے والا تھا…… اس نے اللہ کے آگے تو سر جھکایا لیکن اللہ کے فیصلے پر بغاوت کی اور ایک بغاوت پر رب کریم نے اس کو دنیا و آخرت میں رسوا کردیا شیطان کا لقب دے دیا ….
دنیا میں تا قیامت اسے بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا اور آخرت میں جہنم کو اس کا ٹھکانہ قرار دیا اور فرمایا کہ جو شیطان کی راہ پکڑے گا اس کا بھی منصب اور ہمیشگی کی جاء وہی ہے جو شیطان کی ہے کیا ۔ہمیں نظر نہیں آرہا کہ اس وقت دنیا میں ۔سب سے زیادہ بغاوت کس کی جارہی ہے کس کے احکامات کو کچلا جارہا ہے اس رب کے جو دو جہانوں کا بادشاہ ہے اس سے بغاوت کا انجام تو بہت ہولناک ہے آج ہم سب صرف و صرف اپنے اعمال کے سبب اس تباہی کے دہانے پر پہنچے ہیں اللہ کے قہر کو ہم نے خود للکارا ہے اس زمین پر ناحق قتل بہا ہے مظلوموں کی چیخوں اور آہہوں نے آپ کو تو پرسکون رکھا آپ اپنے گھروں میں مطمئن تھے آپ کی تقریبات عیش و عشرت کے ساتھ ہو رہی تھی مہنگے ترین لباس آپ خرید رہے تھے آپ کے بچے مہنگے اسکولوں میں جارہے تھے ……..نیم برہنہ لباسوں میں ایوارڈ شوز جاری تھے لیکن پوری دنیا میں مظلوم نہتے اللہ کے بندوں کے رستے خون اور آنسوں نے عرش کو ہلا دیا…… اللہ کا غضب جوش میں آگیا بوڑھے ماں باپ کی آہیں رب نے سن لی جن کو بوجھ سمجھا جارہا ہے……
اولاد کے گھر میں ان کے لیے جگہ نہیں ہے . اللہ نے سن لی…….. ڈاکٹر عافیہ کی سسکیاں اللہ کا غضب بھڑک اٹھا کشمیر کی لٹتی ماوں بہنوں کی دلدوز چیخوں سے. اللہ نے سن لیا شام کے اس بچے کا شکوہ جس نےاپنے ملک پر اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر کہا تھا کہ میں اوپر جاکر اللہ سے شکایت کرونگا دیکھ لی اس نے ماں کی تڑپ جو اپنےبیٹوں کے جنازوں کو۔خود کندھے پر اٹھائے ہوئے ہے آخر کب تک زمین گناہوں کا بوجھ اٹھاسکتی ہے جہاں مسلم کافر کا فرق ختم ہورہا ہو……. جہاں ایمان پر رہنا مشکل ہو رہا ہو انتہائی کربناک حالات سے یہ دنیا گزر رہی ہے کیسے زمین نہ پھٹے اور آسمان شق نہ ہو جہاں ہم جنس پرستی کو جائز کرانے کے لیےاحتجاج ہو جہاں عورت کا استحصال ہو جہاں سچ اور جھوٹ میں فرق نہ رہے اب تو بس ہم اختتام کی طرف جارہے ہیں…… بس دنیا لپیٹنے میں میرا رب دیر نہیں کرے گا گھڑی کی سوئیوں نے کاونٹ ڈاون شروع کر دیا ہے اجتماعی توبہ اور انفرادی توبہ دونوں کے لیے وقت بہت کم ہے ہم تو جائے گے اس دنیا سے چاہے کسی بھی زریعے کورونا زلزلہ سیلاب بمباری ……لیکن دعا کریں جب تک استغفار کی توفیق مل جائے جانے سے پہلے بس میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے حق ادا کردیجیے
اس کے حکم پر سر اطاعت خم کر دیجیے منا لیجیے اس کو چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے یہ جان تو جانی ہی ہے لگا دیجیے اس جان کو اس کی راہ میں ڈھونڈیے نجات کے راستے آپ ہی ڈھونڈ سکتے ہیں اللہ سے دعا کیجیے ہمیں نجات کا۔راستہ مل۔جائے اور پھر اسی راستے پر چلتے چلتے منزل مل جائے..

اللہ جی ہم سے راضی ہوجائیے – نائلہ شاہد” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں