دعا کی قبولیت کے لیے نسخہ




نیکی کے کام کرنے میں جلدی کرنا ………. دُعا کے فوراً قبُول ہونے کے ذرائع میں سے سب سے پہلا ذریعہ نیکی کے کام کرنے میں جلدی کرنا ہے ، اللہ عزّ و جل نے زکریا علیہ السلام کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ، اپنے نیک بندوں کی صِفات میں یہ صِفات بیان فرمائی ہیں کہ
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ….. لہذا ہم نے زکریا کی دُعا قبُول فرمائی اور اُسے یحیی عطا کیا ، اور ذکریا کے لیے اُس کی بیوی کو ٹھیک کر دِیا،بے شک وہ لوگ نیکی کے کام کرنے میں بہت ہی تیزی کرتے تھے اور ہم سے(قُبولیت کے)شوق اور لگن اور (اللہ سے) ڈر کی کیفیات میں رہتے ہوئے دُعاء کرتے تھے اور ہم سے ڈرتے تھے….. سُورت الأنبیاء (21)/آیت 90،
اللہ کے اس فرمان مبارک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے وہ نیک بندے جو نیکی کرنے میں کوئی دیر نہیں کرتے ، کسی کا انتظار نہیں کرتے کہ کوئی انہیں کسی نیکی کی دعوت دے ، نیکی کے کسی کام کی طرف بلائے تو پھر وہ لوگ نیکی کریں ، بلکہ خود نیکی کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں ، اپنے ہر کام کو اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور انہیں نیکی بنا لیتے ہیں ، اور ایسا کرنے میں نہ صرف دیر نہیں کرتے بلکہ بہت ہی تیزی سے نیکی کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں اور نیکی والے کام کر تے ہیں، اور پھر صِرف اپنے اللہ ہی کو پکارتے ہیں ، صِرف اُسی سے ہی دُعائیں کرتے ہیں ، اور اس طرح کرتے ہیں کہ ان کے دِلوں میں اللہ کی طرف دُعاؤں کی قبولیت کا شوق بھی ہوتا ہے ، اور اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی دُعا ء اوردُعا کرنے کے انداز و اطوار میں کچھ ایسا نہ ہو جائے جِس کی وجہ سے اللہ ناراض ہوجائے اور وہ لوگ اللہ کے عذاب پانے والوں میں سے ہوجائیں ، لہذا یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں ، اپنے ایسے بندوں کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ جلدی ہی قبول فرماتا ہے …….
اب ہم اپنا حال تو دیکھیں ، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جنہیں اللہ نے مال دیا ہے لیکن وہ کبھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ اپنا مال خود کسی ضرورت مند ، غریب ، محتاج ، مسکین ، بیوہ، یتیم ، تک پہنچا دیں ، بلکہ جب تک اُن کے پاس کوئی حاجت مند خود نہیں آتا انہیں اس کی پرواہ ہی نہین ہوتی کہ وہ اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں بھی خرچ کر لیں ، اور پھر اُن میں سے بھی کتنے ایسے ہیں جن تک جب کوئی حاجت مند پہنچتا ہے تو وہ اُس کی کوئی مدد نہیں کرتے، اور ہم میں سے کتنے ایسے ہیں ، جن کے پاس صحت اور وقت اُن کی ضرورت سے زیادہ میسر ہیں ، لیکن وہ کبھی ان نعمتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے ، اور اگر کبھی اللہ ہی اُنہیں کوئی ایسا موقع عطاء کر دے جس سے فائدہ اُٹھا کر وہ لوگ اپنا وقت اور صحت اللہ کی راہ میں خرچ کر سکیں تو بھی وہ لوگ ایسا نہیں کرتے ،
ہم میں ہر ایک خود سے یہ پوچھے کہ میں نے کتنی دفعہ خود کسی محتاج اور ضرورت مند کو تلاش کر کے ، مالی ، یا بدنی طور پر اس کی خدمت کرتے ہوئے اس کی حاجت روائی کی ہے ؟؟؟ کتنی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی کو راہ راست سے ہٹا ہوا پایا ہو اور اسے ٹھیک راستے کی خبر کی ہو ؟؟؟
بلکہ کسی اور کے ساتھ کی جانے والی نیکیوں سے پہلے خود اپنی ہی جان کے ساتھ نیکی کرنے کے بارے میں ہی سوچتے ہیں کہ ،
کتنی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے اپنی معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی دُنیاوی مشغولیات کے علاوہ غیر ضروری مشغولیات کو ترک کر کے خود کو اللہ کی کتاب کی تلاوت ، درست فہم اور اس پر عمل میں مشغول کیا ہو ؟؟؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کی تعلیم اور اس پر عمل کی طرف خود کو راغب کیا ہو ؟؟؟ جب ہم ، اور ہمارے دوسرے مسلمان بھائی اور بہنیں اللہ کی طرف بڑھیں گے ہی نہیں ، نیک کام کرنے میں جلدی کرنا تو دُور ٹھہرا نیک کاموں سے ہی دُور رہیں گے تو پھر یہ شکوہ کیوں کہ ہماری دعائیں قُبُول نہیں ہو تِیں ؟؟؟
جبکہ ہمارے اللہ نے ،جِس سے ہم دُعائیں کرتے ہیں ، اور جو کسی واسطے ، کسی وسیلے کے بغیر براہ راست ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے ، اس نے ہمیں یہ نسخہ بتا دیا ہے کہ اُس سے دُعا قُبُول کروانے کے لیے نیکی کرنے میں بہت ہی جلدی کرنا اپنا معمول بنانا پڑے گا ..!

اپنا تبصرہ بھیجیں