ہم سب سامری ہوگئے !! – فریحہ کاشف




فرعون سے نجات حاصل کرنے کے بعد اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو احکام شریعت دینے کے لئے کوہ طور پہ بلایا.
اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو تختیاں بھی عطا فرمائیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ تمھارے پیچھے سامری نے تمھادی قوم کو گمراہ کر دیا ہے. حضرت موسی علیہ السلام رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹے اور قوم کی باز پرس کی .انھوں نے کہا کہ ہم زیورات کے بوجھ سے لد گئے تھے اور ہم نے ان کو پھینک دیا اور سامری نے بچھڑے کی صورت بنا ڈالی . حضرت موسی علیہ السلام نے سامری سے اس کے متعلق پوچھا “”اس نے کہا کہ میرے نفس نے مجھے ایسا ہی سمجھایا. حضرت موسی علیہ السلام نے کہا اچھا تو جا اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا. …… لا مساس…….آج پوری دنیا کے چھ براعظم کورونا سے….. لا مساس. .. کوئیلا مساس ان کو نہ چھوئے اور وہ بھی کسی کو نہ چھوئیں کی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔
تین فٹ کا فاصلہ رکھنا ہے. لا مساس….مصافحہ نہیں کرنا ہے ….لا مساس…. معانقہ نہیں کرنا ہے.لا مساس…. آج ہم بھی لا مساس کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے. کیوں؟؟؟ کیا ہم نے بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کے پاس جانے کے بعد کوئ اور معبود بنا لئے.؟؟ کیا ہم نے بھی آزادی نصیب ہونے کی نا شکری کی.؟؟ کیا ہم نے بھی اللہ کی نعمتیں ( قرآن. آزادی . معدنی وسائل . پھلوں کی کثرت . زراعت . صنعتیں. افرادی قوت. ) پانے کے بعد اس کو بوجھ سمجھا. ؟ اور اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کیا اورقرآن سے منہ موڑا ؟ شریعت محمدی کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا ؟ شریعت محمدی اور احکام محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہونے کے باوجود ہم نے کچھ اور چاہا.؟؟ کیا ہم نے بھی ایسے لوگوں کو اپنا لیڈر بنا لیا جو ہمیں رب کی شریعت اور احکامات کا مطیع بنانے کی بجائے کسی دوسرے معبود کی اطاعت کی جانب لے گئے. ؟؟
کیا ہمارےنفس نے بھی اللہ کی بجائے کسی اور کی عبادت کا راستہ دکھایا.؟؟ کیا ہم بھی سامری بن گئے.؟؟ اگربنے نہیں تو کم از کم سامری بن جانے والی قوموں کی غلامی ضرور کرلی ہے۔۔۔ اور اس وفعہ سزا میں سامری اکیلا نہیں ہے بلکہ اسکے پیروکار بھی اسی سزا کے مستحق قرار پاۓ ہیں۔ کہ اج میں بھی کہہ رہی ہوں.لا مساس. ……آپ بھی کہ رہے ہیں لا مساس……….اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن اور اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اس کے کرتوتوں کا مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتں ان پر چھا گئیں ان کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا مگر انھوں نے اس کو جھٹلایا آخر کار عذاب نے ان کو آلیا جب کہ وہ ظالم ہو چکے تھے ……..(النحل )
بہت تکلیف سے لکھ رہی ہوں کہ لا مساس سے کانپ اٹھی ہوں اور خوف زدہ ہوں . آئیے ملکر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسکی کتاب قرآن کی طرف لوٹتے ہیں اور اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”” الندم توبة”” ہو سکتا ہےکہ اللہ کو ہماری عبادت سے زیادہ ندامت مطلوب ہو …….
مگر سچی ندامت کا اظہار الفاظ نہیں رویّے کیاکرتے ہیں۔۔۔ تو ہے کوٸ رویّوں کو تبدیل کرنے والا؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں