کرنے کے کام – ایمان زاہد بھٹی




“کیا جنونی طریقہ ہے پڑھنے کا ؟ ایک ہو کہ پڑھنے کا نام ہی نہیں لیتی اور غلطی سے پڑھنے بیٹھ بھی جاؤ تو کتابوں سے سر نہیں اٹھاتی ………پھر نہ دن دیکھتی ہو نہ رات نہ نماز کی فکر ہوتی ہے نہ قرآن، بیٹی ایسی پڑھائی نہ ہی کرو کہ جس میں اللہ ہی نہ یاد رہے ،عصر کا وقت جاتا جا رہا ہے اور ذرا فکر نہیں،
کبھی اس طرح اللہ کو بھی یاد کر لیا بند کرو کتابیں اور تھوڑا اللہ کو بھی منا لو، تھوڑی باتیں اللہ سے بھی کر لو دیکھنا پھر اللہ کیسے تمہاری دنیا کے لئے آسانیاں فرماتا ہے………چلو اٹھو شاباش نماز پڑھو”……… حیاء جو اتنی دیر سے سر جھکاے اپنی ماں کی تمہید سن رہی تھی فوراً بولی “جی مماّ جی میں وضو کر کے آئی” پاس پڑے موبائل پر ٹائم دیکھا تو واقعی عصر کا وقت بہت کم رہ گیا تھا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئ……! حیاء نماز پڑھ کر فارغ ہوئ تو نظر دوبارہ کتابوں پر گئ کہ اب دوبارہ پڑھ لیا جائے……مگر ……ضمیر نے کہا نہیں نہیں آبھی تو ڈانٹ کھائی ہے مماّ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے مماّ کو اچھی سی چاہے پلاتی ہوں …..ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ مماّ کمرے میں آ گئیں
“حیاء بیٹا اگر نماز پڑھ لی ہے تو دوبارہ کتابوں میں مت گھس جانا باہر آ کر چاۓ پی لو” ، جی مماّ بس میں بال بنا کر آئی ماں کمرے سے نکلیں ہی تھی کہ حیاء فوراً سے بال جوڑے میں دے کر دوپٹہ درست کر کے باہر آ گئی جہاں سب چاۓ کے لئے اکھٹے ہورہےتھے…….حیاء بھی وہاں ایک کرسی پر بیٹھ گئی، چاۓ آ چکی تھی……..” حیاء بیٹا اب تو تمہیں کورونا کی وجہ سے ماشااللہ اچھا موقع مل گیا ہے پڑھائی کرنے کا پھر کیسی جا رہی ہے پڑھائی ؟ ڈٹ کر پڑھ رہی ہو نہ ؟ وہ ابھی کسی خیال میں گم تھی کہ فوراً چونک گئ ڈیڈی کے سوال پر اس نے ایک نظر ماں کو دیکھا جو اس کے بالکل سامنے بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں……” جی ڈیڈی الحمداللہ ابھی تک اچھی جا رہی ہے”، ” ہاں بس بیٹا محنت کرو” ماں جو اتنی دیر سے یہ گفتگو سن رہی تھیں فوراً بولی.
” بیٹی کو بگاڑ رہے ہیں آپ سر جی! ایسی پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں، بیٹی نے دنیاوی تعلیم اتنی سوار کر لی ہے کہ نمازوں کا ہوش ہی نہیں”. “بیٹی سے یہ پوچھا ہے کبھی کہ قرآن ترجمے سے کتنا پڑھا؟ جب بیٹی سے پوچھتے ہیں کیمسٹری کے نیومیرکل کتنے کر لیے؟ بایولاجی کی ڈایاگرم کتنی بنا لی ؟ میرے کان تھک چکے ہیں، اعتدال سے سب کام کئے جائیں تو زیادہ بہتر ہو گا، آگر آپ کی بیٹی آج مر جائے تو اللہ کو یہ جواب دے گی؟ اللہ میں فزکس پڑھ رہی تھی ،نماز اس لئے نہیں پڑھ سکی ،”تو آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں کہ بچے پڑھیں ناں؟ ” جاوید صاحب نے جیسے طنزیہ انداز میں کہا ، “سر جی میں نے کب کہا کہ کہ دنیاوی تعلیم نہ پڑھی جائے……. میرے کہنے کا اصل مقصد یہ ہے جو آپ اور حیاء سمجھ نہیں پا رہے ہر کام اعتدال میں کیا جائے تو بہت اچھا کام ہوتا ہے . آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ کل ہماری حکومت نے جمعہ کے اوقات میں کرفیو لگانے کا حکم دیا ہے میری مساجد کل کے دن جمعہ کی نماز میں ویراں ہوں گی مساجد کو ویران کرنے کا حق کس نے دیا ہے پوری دنیا میں کورونا جیسی وبا اللہ کے عذاب کی صورت دنیا پر مسلط کر دی گئی اور مساجد کو ویران کر کے ہم اپنے اوپر عذاب کو خود دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پر عذاب کیوں آ رہیں ہیں….
جب مولوی حضرات نے کہہ دیا تھا کہ مساجد ویران نہیں ہوں گی مؤذن،امام اور وہاں کے جو خادم ہیں وہ نماز ادا کریں گے تو کسی کو حق نہیں کہ نماز جمعہ میں کرفیو لگایا جائے. کیا کورونا صرف مساجد جانے سے ہی لگے گا …؟ اگر کورونا سے اتنا ہی ڈر لگ رہا ہے تو 4اپریل سے بیرون ملک سے آنے والی پروازوں پر بھی کرفیو لگایا جائے” ساجدہ بیگم یہ سب کہتے کہتے رو پڑیں……” ساجدہ بیگم ان معاملات میں حوصلے سے کام لو جو تم کہہ رہی ہو میں سمجھ سکتا ہوں”. جاوید صاحب جیسے تحمل مزاج شوہر سے انہیں یہی توقع تھی
جاوید صاحب نے گویا تحمل سے کہا۔ حیاء ماں کو اتنا جذباتی ہوتا دیکھ کر فوراً بولی ،” مماّ جی میں نے کہیں پڑھا تھا کہ مولانا اشرف تھانوی نے مصائب سے بچنے کے پانچ نسخے بتائیں ہیں کورونا بھی تو ہم پر ایک مصیبت ہی ہے……، گناہوں سے بچنا اور استغفار کرنا
، فرض منصبی کو پہچاننا یعنی امر با لمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا، دعا کا اہتمام کرنا اللہ کے نزدیک دعا سے ذیادہ کوئ چیز قدر و منزلت کی نہیں ، صدقہ و خیرات کا اہتمام ، ذکر الہی …….
مماّ اگر ہر بندہ انفرادی طور پر یہ عمل کرے گا تو میرا خیال ہے کہ اس مصیبت سے ہم جلدی چھٹکارہ پا لیں گے اور رہی بات مساجد کی تو مماّ !ہم ایک عوام کی حیثیت سے اپنے ملک کے حکمران کے آگے بے بس ضرور ہیں ………لیکن جو حکمرانوں کا بھی حکمران ہے جو کائنات کا حکمران ہے اس کے آگے تو کہہ سکتے ہیں ناں ؟؟اس حکمران نے اپنے ہر بندے کو دعا کا اختیار تو دیا ہے نہ تو ہم سب دعا تو کر سکتے ہیں ناں، دعا ایک تدبیر ہے اور احسن التدبیر ہے ……… دعا مومن کا ہتھیار ہے،” ہاں حیاء کہا تو درست ہے مگر تم بھی نماز کو بھولا نہ کرو اگر تم اللہ کو بھول جاؤ گی تو اللہ تمہیں بھی بھول جاۓ گا تم پھر جتنی چاہے دنیاوی تعلیم کی تگ ودو کرو مگر جب تک اللہ کو بھولی رہو گی کوئی فائدہ نہیں ہوگا . اللہ کو یاد رکھو گی تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی بس اللہ کو نہ بھولنا اور فوزاً عظیما کی طرف بڑھتی چلی جاؤ جو ہم سب کی اصل کامیابی ہے”
جی مماّ انشاء اللہ میں اللہ کے اور قریب ہو کر عملی نمونہ بنوں گی انشاء اللہ بس آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نہ ہواکریں”، حیاء نے ماں کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا …….ماں نے حیاء کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔۔ اچھا مماّ اب میں مغرب کی نماز پڑھنے جا رہی”

اپنا تبصرہ بھیجیں