حضرت یونس علیہ السلام کی قوم اور ہم




موجودہ وبا میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ سے دو مماثلتیں ہیں ………پہلی مماثلت یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام جب اپنی قوم سے چلے گئے تو آگے مچھلی کی قید میں آگئے۔ مچھلی کی قید میں وہ کیا پڑھتے تھے؟ لا الٰہ الا انتَ سُبحَانَکَ، انی کُنتُ مِن الظلمِین سورہ انبیاء میں یہ دعا پکارنے کے پیچھے کچھ اس طرح کے الفاظ ہیں………
” پھر انہوں( یونس علیہ السلام) نے اندھیریوں(مچھلی کے پیٹ کی اندھیریاں) میں سے آواز لگائی کہ : (یا اللہ!) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تُو ہر عیب سے پاک ہے۔ بیشک میں قصور وار ہوں۔ “آیت ستاسی……..ہم بھی آج کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے قید میں ہیں۔ اور ہم یقیناً قصور وار ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ بہت بڑے قصور وار ہیں۔ کچھ دن کی اس قید میں حضرت یونس علیہ السلام یہ پڑھتے رہے۔ ہماری قید کا بھی معلوم نہیں، نہ جانے کب ختم ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی یہ دعا روزانہ پڑھتے رہیں۔ کم از کم سو دفعہ ………یہ مشکل لگے تو ہر نماز کے ساتھ بیس بیس دفعہ پڑھ لیں یا کوئی بھی پانچ اوقات متعین کرلیں اور بیس بیس دفعہ پڑھ لیں، وضو بھی ضروری نہیں۔ جب تک کرونا وائرس کی وجہ سے آنے والی اس قید میں ہیں، یہ باقاعدگی سے پڑھتے رہیں۔ اس میں رجوع الی اللہ ہے اور اپنے قصور کا اعتراف ہے۔
پھر حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ کیا ہوا؟ اگلی آیت میں اللہ پاک فرماتے ہیں………اس پر ہم نے اُن کی دعا قبول کی، اور اُنہیں گُھٹن سے نجات عطا کی۔ اور اسی طرح ہم ایمان رکھنے والوں کو نجات دیتے ہیں۔ آیت نمبر ۸۸…….سچ سچ بتائیے کہ کیا ہم گھٹن محسوس نہیں کررہے؟ ضرورت سے بھی باہر جانا ہو پھر بھی عجب گھٹن، عجب ویرانی کا احساس ہر سُو ہے۔ کیا ہم قید کی تکلیف محسوس نہیں کررہے؟
جب رب تعالٰی نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعاقبول کی، قید سے نجات دی، گُھٹن سے نجات دی تو ہمیں بھی نجات دیں گے جیسا کہ آیت کے آخر میں کہا گیا کہ اللہ پاک ایمان والوں کو ایسے نجات دیتے ہیں۔ الحمدللہ، ہم ایمان والے ہیں۔ اللہ پاک پر یقین رکھنے والے ہیں، تمام رسولوں کو برحق اور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، الہامی کتابوں، فرشتوں، یوم آخرت، دوبارہ اُٹھائے جانے پر اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں …….اگر ہم بھی اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے یقین کے ساتھ یہ دعا روزانہ پڑھیں گے تو اللہ پاک نجات کی سبیل نکالیں گے۔
دوسرا رُخ یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام جب اپنی قوم میں سے نکل گئے تو قوم کو آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی کا احساس ہوا…… ایک بندہ بھی مسلمان نہ ہوا تھا، ایک لاکھ سے زیادہ آبادی تھی ۔ لیکن نبی کی غیر موجودگی سے عذاب کے آثار محسوس کرنا شروع ہوئے تو سب اکڑ، سب تکبر، سب ہٹ دھرمی چھوڑ کر ایمان لے آئے، توبہ استغفار اور دعا و مناجات میں لگ گئے تاکہ عذاب ٹل جائے۔
پھر اللہ پاک نے عذاب ہٹا دیا اور وہ ایمان لا کر ایک مدت زندہ رہے۔ دیکھیں سورہ الصٰفٰت کی آیت کا ترجمہ:” پھر وہ ایمان لے آئے تھے، اس لئے ہم نے اُنہیں ایک زمانے تک زندگی سے فائدہ اُٹھانے کا موقع دیا۔ (148) ” ایک تو ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی عذاب کے آثار بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ عذاب کی آمد کے بعد پھیلاؤ سے بچنے کے لیے توبہ استغفار لازم پکڑیں، گناہوں سے عملی توبہ کریں، آہ و زاری کریں، اللہ پاک سے دعا اور مناجات کریں۔ ہمارے پاس تو ایمان کی دولت ہے۔ نہ جانے کیوں یورپ کی طرف سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگوں میں اسلام پھیلے گا، ایمان کی دولت ملے گی۔ اللہ پاک ایسا کردیں اور وہ بھی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی طرح مسلمان ہوجائیں۔
ہمارے لیے اس وبا اور اُس سے وجود میں آنے والے پریشان کن اور عجیب و غریب حالات میں بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں اگر ہم سمجھنے والے بننا چاہیں اور فائدہ اُٹھا سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں