بچوں کو قرآن وحدیث سے جوڑیں – راحیلہ چوہدری




گرمیوں میں دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں……. اگراس کے ساتھ ساتھ بچوں کو سکول سے چھٹیاں بھی ہو جائیں تو بچوں اور ماؤں کا دن کٹنے میں نہیں آتا۔ سکول کے دنوں میں مائیں بچوں کو قرآن و حدیث سکھانے کے لیے خود وقت نہیں نکال پاتیں۔ عصرِ حاضر کے والدین بچوں کو دینی تربیت کے لیے ناظرہ قرآن اور چند مسنون دعائیں یاد کروا کر سمجھتے ہیں کہ وہ دینی تعلیم کے فرض سے فارغ ہو گئے…
دوسری طرف ہما رے موجودہ نظامِ تعلیم میں قرآن اور حدیث کا نصاب نہ ہونے کے برابر ہے۔ فہم القرآن اور فہم الحدیث نہ ہونے کی وجہ سے آج ہماراگھر،خاندان، معاشرہ،ملک غرض ہر چیز بگاڑ کا شکار ہے۔ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس وقت میں اشد ضرورت ہے کہ والدین سب سے پہلے خودروزانہ کی بنیا دوں پر قرآن و حدیث سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔اٹھتے بیٹھتے بچوں کو چھوٹی چھوٹی آیات اور احادیث یاد کروائیں۔قرآن و حدیث کو بچپن سے ہی بچوں کا  بہترین ساتھی بنا دیں۔بچوں کو عہدِطفولیت میں جس سانچے میں ڈھالا جائے گا وہ آئندہ زندگی میں اسی پیکر ِخومیں ڈھلا رہے گا۔ بچوں کو پیکر ِ حسن میں ڈھالناہی والدین کی اصل ذمہ داری ہے۔ مفتی محمد شفیع سورۃ الا نعام آیت نمبر ۱۵۱ کی تشریح میں لکھتے ہیں:”اولاد کوصحیح تعلیم و تربیت نہ دینا جس کے نتیجے میں وہ خدا اور رسول ؐ اور آخرت کی فکر سے غافل رہے بد اخلاقیوں اور بے حیا ئیوں میں گرفتار ہو یہ بھی قتلِ اولاد سے کم نہیں۔قرآنِ کریم نے اس شخص کو مردہ قرار دیا ہے جو اللہ کو نہ پہچانے اور اس کی اطاعت نہ کرے۔“
جسمانی غذا کے ساتھ اچھی اور اعلیٰ صفات سے آراستہ تربیت (جو کہ قرآن وحدیث اور سیرت کے گہرے مطالعے کے بغیر ہر گز ممکن نہیں)بچوں کی روحانی غذا ہوتی ہے اوربچوں کو فضولیات،لغویات اور منکرات سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ چھٹیوں میں بچوں کو ہر وقت وضو میں رہنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کو بتائیں وضو میں رہنے سے ان کا ہر کام عبادت بن جائے گا یہاں تک کے سونا بھی۔وضو میں ہر وقت رہنے سے بچوں میں صفائی کی عادت پیدا ہوگی اوربچے پرسکون رہیں گے۔بچوں کو جو کام بھی کرنے کا کہیں یا منع کریں اسے قرآن اور حدیث سے جوڑیں بچوں کو ہر کام کی وجہ بتائیں وضو کرتے ہوئے بتائیں کہ نبیؐ نے فرمایا :صفائی نصف ایمان ہے۔ایک اور جگہ فرمایا:صفائی ایمان کا حصہ ہے۔نماز کا پابند بنانے کے لیے گھر کا ایک کمرہ یا ایک کارنر نماز کے لیے مختص کر دیجئے۔اذان کے وقت ایک بچے کی ڈیوٹی لگائے کے وہ اونچی آواز میں اس جگہ کھڑا ہو کر اذان دے۔اس سے بچوں میں نماز پڑھنے کا شوق پیدا ہو گا۔ساتھ میں حدیث کی روشنی میں موذن کی فضیلت بھی بتائیں کہ”قیامت کے دن موذن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔“
بچوں کو روزانہ نماز کے متعلق ایک حدیث یاد کروائیں۔جیسے نبیؐنے فرمایا:نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ایک اور جگہ فرمایا:نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز ایک روشنی ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔اسی طرح روزانہ ایک حدیث نماز کے بعد جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی یاد کروائیں بچوں کو بر وقت کسی بات کی اہمیت اور وجہ بتانے سے عمل میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور ان کے نزدیک اس چیز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔بچوں کو تسبیح فاطمہ پڑھنی سکھائیں۔بچے جتنی جلدی میں بھی ہوں ہر نماز کے ساتھ ایک مرتبہ درود شریف پڑھانے کی ابھی سے عادت ڈال دیں۔بچوں کو بتائیں نبیؐ نے فرمایا:”جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے“۔یعنی فرض نماز کے ساتھ پانچ دفعہ درود پڑھنے کا مطلب ایک دن میں اللہ سے ڈائریکٹ 50دفعہ اس کی رحمت وصول کرنا ہے۔ اسی طرح سنت کے مطابق بچوں کو دعا مانگنا سکھائیے۔سب سے پہلے سورۃ الفاتحہ پڑھیں،پھر درود شریف اس کے بعد اپنے لیے دعا مانگیں اپنے اچھے نصیب کے لیے،صحت کے لیے،کامیابی کے لیے، پھر اپنے والدین کے لیے پھر اپنے ملک کے لیے۔بچپن میں مانگی گئی دعائیں بڑے ہوکربچوں کی شخصیت پر مثبت اثرات ڈالتی ہیں۔بچوں کو سنت کے مطابق کھانا کھانا سکھائیں۔نبیؐ نے فرمایا کھانا ایک طرف سے کھانا چاہیے کیونکہ کھانے میں برکت وسط میں نازل ہوتی ہے۔پانی بیٹھ کر تین سانسوں میں پینا چاہیے۔گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کی  پانی کو بیٹھ کر پینے کی عادت کو پختہ کریں۔اس سے بچے پرسکون رہیں گے آپ کے بہت سے کام آسان ہو جائیں گے۔بچے زیادہ غصہ کریں لڑیں جھگڑیں تو انہیں فورا پانی پینے کا کہیں اور ساتھ ہی حدیث بھی بتائیں کہ نبیؐ نے فرمایا:”تو غصہ نہ کر تیرے لیے جنت ہے“
رات سونے سے ایک گھنٹہ پہلے بچوں کو ہلکی روشنی میں لٹا دیجئے روزانہ کسی ایک نامور قاری (عبدالرحمن السدیس،شیخ سعود الشریم،شیخ عبدالباسط،قاری رعد الکردی،قاری الفعاسے)کی ایک سورۃ کی تلاوت سنوائیے۔تلاوت کے بعد تلاوت میں موجود نبیوں کی کہانیاں بچوں کو اپنے الفاظ میں سنائیے۔اگر تفسیر کا مطا لعہ خود نہ کرسکیں تو یو ٹیوب urdu islamic cartoons for kids – prophet Nuh (as) urdu  quran storiesلکھ کر سرچ کریں اور اس چینل کو سبسکرائب کر لیں اور اس سیریز میں سے روزانہ ایک نبی کی کہانی بچوں کو ضرور دکھائیں۔بچوں کو سونے سے پہلے تین احادیث جو دن کو یاد کروائی تھیں لیٹے لیٹے تین دفعہ ان کی دہرائی کروائیں تاکہ حدیث اچھی طرح بچہ ذہن نشین کر لے۔ بچوں کے ذہین میں بچپن سے ہی یہ بات ڈال دیجیے کہ رات سونے سے پہلے صرف اللہ کو یاد کر کے سونا چاہیے۔روزانہ بستر پر لیٹ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر سونا چاہیے۔اس طرح بچے بچپن میں ہی اللہ کا قرب حاصل کرنا سیکھ سکیں گے اورزیادہ سے زیادہ دنیاوی خرافات سے بچ سکیں گے۔یہ چھوٹی چھوٹی عادات فکر آخرت اور آخرت کی کامیابی کا سبب بنیں گی۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں ہی بچوں کو جلدی سونے اور جلدی اُٹھنے کی عادت ڈالیں…….. اُنہیں بچپن سے ہی صبح کی فضیلت کے بارے میں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ساری برکتیں صبح کے وقت میں رکھی ہیں۔ نبیؐ نے فرمایا:”صبح کا سونا رزق کو روک دیتا ہے“۔بچوں کو فجر کے وقت اُٹھائیں……. انہیں ابھی سے یہ ذہین نشین کریں کہ دنیاوی علم سے پہلے قرآن کی تلاوت اس کا ترجمعہ اور تفسیر پڑ ھنے کا ابھی سے معمول بنائیں ہما رے ہاں عام رواج بن گیا ہے کہ بچے قرآن ہمیشہ سکول کے بعد آ کر پڑ ھتے ہیں جب ذہین اور جسم پہلے سے ہی تھکا ہوتا ہے……. اس لیے ساری زندگی وہ قرآن کو بعد میں ہی رکھتے ہیں اور اسے ایک غیر ضروری کتاب ہی سمجھتے ہیں۔گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کی یہ عادت بنانی آسان ہے۔ اسکول جانے کی جلدی نہیں ہوتی اس لیے قاری صا حب کا وقت صبح فجر کے بعد کر دیں۔ نماز اور قرآن کی تلاوت کے بعد چہل قدمی کے لیے باہر لے جائیں۔ بچوں کو سورج نکلنے کا منظر دکھائیں۔بچوں کے ہاتھ سے پرندوں کو کھانا ڈلوائیں۔زندگی میں ہمیشہ وہی لو گ ا ور وہی قومیں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں جو اللہ کے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل کے مطابق یعنی فجر سے عشاء تک اپنے سارے کام اسے وقت کے اندر اندر کر لیتی ہیں اور وقت کو ضائع نہیں کرتیں۔
جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں ان کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے یا توتہجدکے وقت میں یا پھردن کے کسی خاص حصے کو اپنے کام کے لیے مختص کیا۔دنیا کی کامیاب اور ترقی یافتہ قوموں کا بھی یہی طرز ِ زندگی ہوتا ہے۔جاپان کا شہر ٹوکیو جس کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ہوتا ہے۔وہاں صبح سویرے کاروبارِ زندگی شروع ہوجاتا ہے۔رات ڈھلتے ہی بازار بند ہو جاتے ہیں۔لوگ جلدی سو جاتے ہیں اور ہمارے پاکستان میں کاروبار شروع ہی اس وقت ہوتا ہے جب زوال کا وقت شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ایک بچے کی تربیت ایک گھر،ایک خاندان،ایک صحت مند معاشرے کی تربیت ہے۔تربیت ایک بہت صبر آزما اور نازک معاملہ ہے اسے نظرِانداز مت کیجئے۔ایک اعلیٰ صفات کا مالک اور بلند کردار بچہ صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں ہی تیار ہو سکتا ہے۔دنیا کے جتنے علوم ہیں ان سے دنیا میں تو بہت کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔لیکن ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔حقیقی مومن وہی ہے جو دنیا کے ہر معا ملے میں اپنے سامنے آخرت کی کامیابی اور اللہ کی رضا کو سامنے رکھے اور ہر وقت اللہ کی رضا کو سامنے رکھنا قرآن وحدیث سے جُڑے بغیر ممکن نہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ برائی طاقت ور ہوتی چلی جارہی ہے۔
بحثیت والدین آپ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ بچوں کو قرآن وحدیث کا ساتھی بنائیں۔اس سلسلے میں آ پ دو کتابوں سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔مولانا یوسف اصلاحی صاحب کی کتاب ”آدابِ زندگی“مختصر اور جامع آیات اور احادیث کا بہترین مجموعہ ہے اس کتا ب میں کم وقت میں بچوں کی نفسیات کے مطابق کافی مواد موجود ہے۔ہمارے مذہب اسلام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اس نے ہر چیزکے آداب سکھائے۔اگر آپ اپنے بچے کو اس کتاب پہ عمل کروانے میں کامیاب ہو گئے تو آپ اپنی تربیت میں 80فیصد کامیاب ہو گئے۔دوسرے کتاب ”روشنی کا سفر“کے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے جو کے 3سے12سال تک کے بچوں کے لیے احادیث کا بہترین مجموعہ ہے۔اس کتاب کے مصنف ہیں ابو ابراہیم المصری اور اسے ترجمعہ کیا ہے ابو سعد محمد سعید شاہ نے اور اس کتاب کے پبلیشر ر ہیں دارالاندلس غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور۔
یہ کتاب لے لیں اپنے بچوں کی عمر کے مطابق اس میں سے اردو میں روزانہ تین احادیث بچوں کو لازمی یاد کروائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں