ایمان اور احتساب ( دوسرا حصہ) – بشریٰ تسنیم




محاسبہ یا احتساب بہتر سے بہترین کا سفر ہے……. اور اس سفر کی منزل جنت ہے۔۔ ایمان بڑھتا ہے تو احتساب کی طلب بھی بڑھتی جاتی ہے اور جب احتساب کی لگن لگ جاتی ہے تو ایمان میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔ گویا کہ ایمان و احتساب لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان کا پیمانہ وہی ہوگا جو احتساب کا ہوگا۔
احتساب کیا ہے؟ احتساب خوب سے خوب تر کی تلاش ہے، ٹارگٹ، یا نصب العین کو پورا کرنے کے لیے کماحقہ کوشش کرتےہوئے جو کمی، کوتاہی ہوجائے اس کا بر وقت تدارک کرنا ہے جو غلطی ہوجائے اس کو آگے بڑھنے سے پہلے درست کر لینا ہے. تاکہ جب مالک کے سامنے کام کی رپورٹ پیش کرنے حاضر ہوں تو مالک خوش ہو جائے.. اس کو قرآنی زبان میں تزکیہ نفس کہتے ہیں۔ اور نبی بھی نفوس کے تزکیہ کے لئے مبعوث فرمائے گئے……. ہمارا ایمان ہے کہ رب کائنات کے حضور پیشی کسی لمحے بهی متوقع ہے .اور اس کی نگاہوں سے کسی لمحے بهی ہم اور ہمارے اعمال اوجهل نہیں ہو سکتے. اس رب کی عظمت کا احساس، اس کی ذات کی پہچان، اس رب کی رحمت کا عرفان جس قدر دل میں جاگزیں ہوگا اسی قدر مؤمن “ولتنظر نفس ما قدمت لغد ” کی حقیقت سے واقف ہوگا. اور اس پہ ہر لمحہ جواب دہی کا خوف غالب رہے گا.. اور یہی ایمان کا تقاضا ہے۔
پہلا محاسبہ اپنے ایمان کا یہ ہے کہ توحید کا عرفان ہو.”الله ایک ہے “.یہ ہمارا عقیدہ ہ.اس کی ذات پہ ایمان بالغیب کے تقاضے ہر شق اور ہر شرط کے ساتھ پورا کرناہی اس کو” ایک ماننا ہے”. شرک خفی اور جلی کا علم درست اور مکمل ہونا چاہئے. شرک تو کسی صورت معاف نہیں ہوگا..جب افکار و اقوال میں أعمال و معاملات میں الله رب العزت کی ذات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ بهی ہو اور شک و تزبزب بهی موجود ہو،” دنیا کیا کہے گی”کا خو ف بهی ہو ؛روزی کے حصول میں کامیاب ہونے کے لئے ” مروجہ دنیاوی اصول” بهی سہارا لگتے ہوں، مشکل کشا الله کی ذات بهی سمجھی جائےمگر واسطے کے لئے غیروں کے در پہ حاضری بهی ہو توسوچنے کی بات یہ ہے کہ ایمان کی یہ کون سی شکل ہے ؟شرک کم ہو یا زیادہ توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا. زمزم جیسے مقدس پانی میں پیشاب کا ایک قطرہ بھی مل جائے وہ زمزم نہیں رہتا اسی طرح شرک کا شائبہ بھی توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا……” ادخلوا فی السلم کافہ” اور “لله الدین الخالص” کا تقاضا بهی یہی ہے کہ ایمان وہی قابل قبول ہے جو خالص ہو اور ہمہ پہلو مکمل ہو… ہم اپنے اعضاء و جوارح کے اقدامات سے ،ذاتی پسند و ناپسند کے معیارسے،خاندان و برادری کے اصولوں سے ،پرکھ سکتے ہیں کہ ہم ایک الله کے کتنے فرماں بردار ہیں اس ایک الله کے سامنے اپنے ہر عمل کی جواب دہی کا کتنا خوف رکھتےہیں.
سوچئے اور دل سے سوچئے….! کیا واقعی ہم الله کو ایک مانتے ہیں؟ یہ کیسا ایمان ہے؟ کیسی محبت ہے؟ کہ اس وحدہ لا شریک کی ایک نہیں مانتے یا جو من کو پسند ہو وہ مانتے ہیں۔ اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں اپنے رب کو احکم الحاکمین تسلیم نہیں کرتے .. اور اس رب کائنات کے حضور پیشی کو اپنے باس کے سامنے پیش ہونے سے بھی زیادہ معمولی حاضری جانتے ہیں.. ہر مومن اپنا خود محاسب بنے اور سوچے کہ اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہوکر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں الله کو صرف اور صرف” ایک “(الواحد الاحد) تسلیم کرنے کےکیا ثبوت تیار کررکهے ہیں؟ “ولتنظر نفس ما قدمت لغد” کی تلقین سراسر ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف راغب کرنا ہے ورنہ وہ مالک یوم الدین تو “علیم بذات الصدور” ہے.یہ سب ریکارڈ تو ہمیں ہی دکھانے مقصود ہیں اس دن جب زرہ برابر نیکی اور بدی سامنے لائ جائے گی اور کسی پہ ظلم نہ کیا جائے گا…جب حکم ہوگا پڑهو اپنے اعمال نامے کہ آج ہر نفس کو اپنے کرتوت دیکھ کر خود ہی اپنا مقام سمجھ آجائے گا……اقراء کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا( بنی اسرائیل )
اس دن کی شرمندگی یاد رہنا بهی الله سبحانه وتعالى کی ذات کو ایک ماننا ہے. دنیا کے انسانوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لئے جهوٹ بولنا، دراصل الله کی ذات کو بهلا دینا ہے. جو دنیا کی خاطر الله کو بهلا دیتا ہے تو پھر الله بهی اسے بهلا دیتا ہے اور الله کا کسی کو بهلا دینا یہ ہے کہ اس سے اپنی حالت بہتر کرنے کا احساس چهین لیا جائے اور اس کے لئے ہدایت کے راستے بند ہو جائیں..اصلاح کے طریقے……، تجدید ایمان کی تلقین” لا اله الا الله”کا زکر کرنے سے کی گئ ہے.جب بهی یہ زکر کیا جائے تو اپنے اور الله رب العزت کے درمیان جو رشتہ ہے اس کو شعوری کوشش کرکے دل میں محسوس کیا جائے..اسماء الحسنی کو یاد کرنے پہ جنت کی بشارت ہے..أسماء الحسنی در اصل الله تعالی کی معرفت ہے..معرفت محض زبان سے نام دہرانے سے نہیں مل سکتی. الله تعالیٰ سے اس کی ذات کی معرفت مانگیں بهکاری بن کر… جس کی جهولی بهر گئ وہ ولی اللہ ہوگا.. الله رب العزت کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کے شعوری تصور کی پریکٹس دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گئ اس لئے کہ باقی اوقات میں بهی یہ عمل جاری رہے.رمضان المبارک کے قیام اس پریکٹس میں اضافہ کرتے ہیں..تاکہ اگلے گیارہ ماہ یہ مشق جاری رہے..
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہ دے………یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
اے الله! ہم تجھ سے اپنے سارے معاملات کی درستی کے لیے التجا کرتے ہیں اس لئے کہ ہم صدق دل سے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں.تو اکیلا ہے،بے نیاز ہے،نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی تیرا ہمسر ہے نہ کبھی ہوگا. . ہم ان سب قصوروں کی معافی چاہتے ہیں جو تیری ذات و صفات کے ساتھ ہم سے سرزد ہوئے..اور تیری خالص بندگی کے لئے تجھ سے ہی اعانت طلب کرتے ہیں. جس قدر ممکن ہو اپنے دل کی گہرائیوں سے اظہار کیجئے…….اللہ اللہ ربی لا اشرک بک شئیا۔ اور اللہ رب العزت کے سامنے عاجزی سے اپنے قصوروں کا بار بار اعتراف کیجئے۔
ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین . لا الہ الا انت سبحانك انی کنت من الظالمین. ..(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں