توبہ استغفار ۔۔۔۔۔ آہ وزاری کے ساتھ




لبیك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمده والنعمة لك والملك لا شريك لك ……..عائشہ کی ایسی درد بھری اور کرب والی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی کہ میں چونک گئی۔ عائشہ میری دیورانی ہے۔ ہمارے کمرے ساتھ ساتھ ہیں۔
اس کے لیے یہ تسبیح حرزوجاں بنی ہوئی تھی۔ چلتے پھرتے ہر وقت اس کی زبان اس کا ورد کرتی رہتی تھی۔ ہر آذان کے بعد، ہر نماز کے بعد، ہر وقت ہر آن اس کے لبوں سے لبیك لبيك نكل رہا ہے۔ سالوں سے میں سن رہی ہوں۔ اور کچھ عرصے سے تو بہت خوشی خوشی پڑھتی رہتی ۔ اتنی آواز سے پڑھتی کہ مجھے سمجھ آجاتی۔ ایک مرتبہ میں نے پوچھا بھی تھا۔ تو اس نے بتایا تھا کہ اس کو مکہ مدینہ جانے کا بہت شوق ہے اور کسی نے بتایا ہے اس تسبیح کو کثرت سے پڑھیں تو جانے کے اسباب بنتے ہیں ۔ اور اب میں حیران تھی کہ آخر آج عائشہ کو کیا ہوا ہے کہ پڑھتے ہوئے اتنا گریہ اورآہ وزاری کیوں ہو رہی ہے کہ میرا دل بھی ڈوبا جارہا ہے۔ میں اس کے کمرے کی طرف بڑھی ۔ وہ جانماز پر تھی۔ آہستہ آہستہ اس کے قریب گئی مگر وہ مدہوش سی سجدے میں گری اپنے الله سے کرب ناک انداز میں کچھ کہہ رہی تھی۔ میں بھی سینے میں ہاتھ رکھے آگے بڑھ کر سننے کی کوشش کرنے لگی کہ آخر ایسا کیا ہو گیا جو یہ اتنا بےحال ہو رہی ہے۔
وہ چپکے چپکے سسکیوں میں الله پاک سے کہہ رہی تھی یا الله یہ کیا ہو گیا۔ میں تو اتنا خوش تھی کہ جلد ہی مجھے آپ کے گھر میں حاضری دینی ہے۔ یہ دن تو میرے حسین ترین دن تھے۔ کس کی نظر میری خوشیوں کو کھا گئی۔ پر میں نے تو ابھی تک کسی کو یہ بتایا ہی نہیں تھا۔ یا الله میری اپنی نظر مجھے کھا گئی۔ آنسوؤں اور ہچکیوں اور سسکیوں میں اس کی آواز ڈوب سی گئی۔
پھر ہلکی سی لرزتی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔ یا الله یقیناً یہ میرے گناہوں کا بار ہے جو پوری دنیا پر چھا گیا ہے۔ یا الله۔۔۔ اے میرے پیارے رب۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیجیے۔ میرے گناہوں کو بخش دیجیے۔ اگر آپ مجھ سے ناراض ہوگئے تو میں کہاں جاؤں گی۔ میں تو خسارے والی ہو جاؤں گی ۔ آپ کے سوا تو کوئی ہے ہی نہیں الله، آپ تو پاک ہیں، میں ہی ظالم ہوں اپنے آپ پر ظلم کرنے والی۔ اے میرے رب۔۔۔۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کر دیا ہے اور برے کام کر بیٹھی ہوں پس آپ مجھے معاف کر دیجیے میرے گناہوں کو بخش دیجیے۔ آپ کے سوا کون ہے جو مجھے بخش دے۔۔۔۔۔۔ یا الله مجھے معاف کر دیجییے اور امتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معاف کر دیجیے۔۔۔۔ یا الله مجھ پر رحم کیجیے اور امتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر رحم کیجیے۔۔۔۔۔ مجھے ہدایت دیجیے اور امتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ہدایت دیجیے۔۔۔۔ مجھے عافیت دیجیے اور امتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو عافیت دیجیے۔۔۔۔۔ عائشہ سجدے میں تڑپنے سی لگی اور اپنا ماتھا جانماز سے رگڑنے لگی۔
اور میں سینے میں ہاتھ رکھے اس کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی۔ جانماز میں ایسی کیفیت میں، میں نے کبھی کسی کو نہ دیکھا تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ ایسے بھی دعا کرتے ہیں ۔۔۔ ایسے بھی معافی مانگتے ہیں ۔۔۔ ایسے بھی توبہ کرتے ہیں۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد پھر اس کی بھرائی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، یا میرے الله آپ تو ستر ماؤں سے بڑھ کر اپنے بندوں کو پیار کرنے والے ہیں، ہم نے اپ کو اتنا ناراض کر دیا کہ آپ کا غضب آپ کی رحمت پر غالب آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ کا غضب غالب ہو گیا خدانخواستہ تو کسی بھی ذی روح کو ایک سانس کی بھی توفیق نہ ملے۔۔۔۔۔ ابھی بھی آپ کی رحمت غالب ہے کہ کچھ نظر نہ آنے کے باوجود سب کھانے پینے کو گھر بیٹھے مل رہا ہے۔ یہ آپ کی رحمت نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھر بلکنے لگی۔۔۔۔۔ اس بات سے لاعلم کہ میں اس کے پاس کھڑی ہوں ۔۔۔۔اور اس کی آنسوؤں سے تر آواز میرا حلق خشک کرنے لگی۔۔۔۔۔میرے الله! آپ کی مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور آپ کی رحمت میرے نذدیک میرے عمل سے خوب زیادہ بڑھ کر لائقِ امید ہے۔ میرے الله! آپ کی مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور آپ کی رحمت میرے نذدیک میرے عمل سے خوب زیادہ بڑھ کر لائقِ امید ہے۔
میرے الله! آپ کی مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور آپ کی رحمت میرے نزدیک میرے عمل سے خوب زیادہ بڑھ کر لائقِ امید ہے۔۔۔۔۔ وہ بار بار دھرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔میرے پیارے الله اس وقت کائینات کا سب سے بڑا غم ہم پر آ گرا ہے کہ آپ ناراض ہیں۔ ۔۔۔۔۔ الله۔۔۔۔۔ میرے الله۔۔۔ میرے مالک۔۔۔۔۔ میں کیا کروں ۔۔۔۔۔ یا الله آپ کے محبوب نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طائف کے شریر لڑکوں سے پتھر کھانے کے بعد فرمایا تھا ۔۔۔۔۔ (حدیث کا مفہوم) ۔۔۔ یا الله اگر تو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ ۔۔۔۔۔ تو الله پاک ۔۔۔ ہم پر تو کائینات کا سب سے بڑا غم آ گرا ہے نا کہ آپ ناراض ہیں۔ ۔۔۔۔۔ اسی لیے تو۔۔۔۔ اسی لیے تو۔۔۔۔ آپ نے اپنے تمام گھروں کے اور اپنے حرمین شریفین اور اپنے ۔۔۔اپنے۔۔۔۔ محبوب کے خاص گھر کے دروازے بند کر دیے ہیں۔۔۔ ہمارے لیے بند کر دیے۔۔۔ ہمارے لیے بند کر دیے۔۔۔۔ وہ پھر بلکنے لگی۔۔۔۔ الله پاک ہمارا خاتمہ خیر پر کیجیے۔۔۔۔۔۔ ہمارا نور ہمارے لیے پورا کر دیجیے ۔۔۔۔ اور۔۔۔۔اور ہماری مغفرت کر دیجیے۔ اے الله۔۔۔۔۔ آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔۔۔۔۔ یامجیب ۔۔۔۔یامجیب۔۔۔۔یامجیب۔۔۔۔۔ الله۔۔۔الله۔۔۔۔الله۔۔۔۔اب بس اس کی گھٹی گھٹی سی چیخیں فضا میں سنائی دے رہی تھیں۔ عائشہ اپنے رب کو منانے میں لگی ہوئی تھی۔ مجھے لگا کہ میں چکرا کر گر جاؤں گی۔ اس وبا کو تو میں نے اب تک ایسے لیا ہی نہ تھا۔۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ مجھے اپنے گناہوں کا وبال سر پر لٹکتا دکھائی دینے لگا۔ میرے آنسو بہے جا رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ سجدے سے سر اٹھائے۔۔۔۔ میں لرزتی کانپتی اپنے کمرے میں پہنچ گئی۔ اب میری باری تھی سجدے میں گر کر اپنے گناہوں پر استغفار اور توبہ کر کے اپنے رب کو منانے کی۔ عائشہ تو نے مجھے کیا سکھا دیا۔۔۔۔۔ الله عزوجل کی سب سے پسندیدہ چیز۔۔۔۔۔ توبہ استغفار۔۔۔۔ آہ وزاری کے ساتھ ۔۔۔۔۔
نمازِ توبہ کی احادیث
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی شخص گناہ کرے، پھر کھڑا ہو اور طہارت حاصل کرے۔ پھر دو رکعات نماز پڑھے۔ پھر الله تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے تو الله تعالیٰ مغفرت فرما دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک شخص حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ کہنے لگا ہائے میرے گناہ، ہائے میرے گناہ۔ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یوں کہو:اَللّٰھُمّ٘ مَغْفِرَتِكَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِىْ وَ رَحْمَتِكَ اَرْجیٰ عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِیْ ……الله آپ کی مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے …….اور آپ کی رحمت میرے نذدیک میرے عمل سے خوب زیادہ بڑھ کر لائقِ امید ہے۔ اس شخص نے یہ کلمات کہہ لیے۔ اسکے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کہو۔ اس نے پھر کہے۔ اسکے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پھر کہو۔ اس نے پھر کہے۔ اس پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کھڑا ہو جا الله نے تیری مغفرت فرما دی۔
۔۔۔۔۔۔۔
فرمایا رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہ بے شک الله تعالیٰ رات کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہ کرنے والا توبہ کرے۔ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو ایسا ہی ہوتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور شخص حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا یا رسول الله! ہم میں سے کوئی شخص گناہ کر لیتا ہے ( اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟) آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ گناہ اس کے اعمال نامے میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ اس کے بعد وہ استغفار اور توبہ کر لیتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اور توبہ قبول کر لی جاتی ہے۔ اس شخص نے عرض کیا یا رسول الله! وہ پھر گناہ کر لیتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ گناہ اس کے اعمال نامے میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ اس کے بعد وہ استغفار اور توبہ کر لیتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ فرمایا اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور توبہ قبول کر لی جاتی ہے۔ اور الله تعالیٰ توبہ قبول فرمانے سے نہیں رکتا۔ یہاں تک کہ تم ہی تنگ دل ہو جاؤ۔
(حصن الحصین….. امام جزری رح)

اپنا تبصرہ بھیجیں