ایمان اور احتساب ( تیسرا حصہ ) – بشری تسنیم




الله رب العلمین اور بندہ مؤمن کے درمیان عبد اور معبود کا رشتہ جس قدر مضبوط ہوگا…….. ایمان کی دوسری شق” محمد رسول الله “کی گواہی اتنی ہی سچی ہوگی..اگر احتساب نفس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عقیدہ توحید کے شیشے میں بال ہے تو عقیدہ رسالت میں جهول لازمی ہوگا ۔
الله پہ پختہ ایمان ہی ہمیں یہ ماننے پہ مجبور کرتا ہے کہ اس نے اپنا ایک پیغمبر ہماری راہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا. وہ انسانوں میں سے ایک انسان، الله کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے.خاص الخاص خاصیت یہ ہے کہ الله نے اس بندے کو اپنے لئے منتخب کر لیا..اپنا محبوب بنایا، امام الانبیاء بنایا، ہمارے لئے اسوہ کامل بنایا. رب نے ان کا درجہ جو مقرر کر دیا کوئی اس کو نہ بڑها کر رب کے برابر کر سکتا ہے نہ اس کی شان میں کوئ گستاخی کر سکتا ہےاس لئے کہ وہ خاتم النبیین ہے………الله تعالى نے فرمایا اگر توحید کی اعلیٰ ترین ایمانی کیفیت پاکر مجھ سے محبت محسوس ہوتی ہے تو اس کا ثبوت بهی پیش کرو. اور وہ ثبوت میرے رسول کی اطاعت کرنا ہے، سب کے لئے اسوہ کامل وہی ہے .(. لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنہ) اور فرمایا ……. (قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ) سورہ آل عمران 31………ہم الله سے محبت کے دعوے دار اپنا محاسبہ کریں کہ جو رشتہ الله تعالیٰ نے ہمارے اور نبی اکرم ص کے درمیان قائم کیا وہ کس نہج پہ ہے؟ الله تعالیٰ نے تو قانون بنایا کہ اتباع نبی کی شرط پہ میری محبت حاصل ہوگی. اور حکم دیا کہ
( ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شدید العقاب …..اور تمہیں جو کچھ رسول دے ، لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے (الحشر 7)……. ہم نبی اکرم کی اطاعت میں کتنے سرخرو ہیں؟ (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا)
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر (فیصلے) کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا (الاحزاب 36)…….اگر نبی کریم ص کے مقام کو اس کی اطاعت کو اپنی مرضی سے ،من کی خواہش پہ سمجھا اور اسی چاہت کو دین سمجھا تو پھر یہ بهی سوچیں کہ ہم نے تو رب کی مرضی کے خلاف کیا اور اس پہ إصرار بهی کیا تو گمراہی کو منتخب کر لیا۔.. گویا کہ جو پیمانہ الله نے اپنی محبت کے لیے بنایا ہم نے اس سے انحراف کی پالیسی اپنائ..الله رب العزت نے اپنے نبی کو بشر کہا ہم نے غلو کیا.
الله تعالیٰ نے فرمایا غیب کا علم میں نے کسی کو نہیں دیا. ہم نے نبی اکرم ص کی محبت میں انہیں حاضر و ناظر بنا دیا. جب کہ .نبی کریم ص خود وضاحت کر رہے ہیں کہ اگر مجهے غیب کا علم ہوتا تو میں اپنے لئے خیر ہی جمع کر لیتا اور مجهے کوئی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا. مگر ہم مصر ہیں کہ وہ غیب سے واقف ہیں.الله تعالیٰ نے شفاعت کے لئے سارے اختیارات اپنے پاس رکھے ہیں اور شفاعت کے لئے ایک پیمانہ رکھا ہے مگر ہم اس پہ مطمئن ہیں کہ شفاعت کے لئے قرآن و سنت کے مطابق عمل کریں نہ کریں شفاعت ہمارا حق ہے کہ آخری نبی کے امتی ہیں…….. کبھی تصور کیا ہم نے کہ جب میدان حشر میں ہمارا نام پکارا جائے گا تو ہمارا نام سن کر نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹهے گا، یا اداس اور خفگی لئے ہوگا؟ کیا ہم ان لوگوں میں شامل ہونگے جو الله کے اذن سے جنت میں پہلے پہل داخل ہونگے اور نبی صلعم ان پہ فخر کریں گے یا ہم وہ نکمے نالائق امتی ہوں گے جن کی شفاعت کا اذن ملنے کے انتظار میں نبی صل اللہ علیہ و سلم انتظار میں کهڑے رہیں گے ۔ یہ کیسی محبت ہے کہ اپنے پیارے نبی کو تکلیف دینے کی پالیسی اپنائ ہوئ ہے۔۔اور ہمیں ڈرنا چاہئے اس وقت سے جب ہمارے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کچھ لوگوں کی شکایت اللہ سے کر رہے ہوں گے کہ انہوں نے میرے بعد قرآن کو چھوڑ دیا تها ۔۔ اگر ان میں ہمارا نام بھی شامل ہوا تو کیا ہوگا؟(وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا) الفرقان 30
کرنے کے کام …….. سیرت النبی کی روشنی میں اپنےاعمال کا جائزہ لیں اور لسٹ بنائیں کتنی بدعات زندگی میں فرض سمجھ کراپنا رکھی ہیں.. محاسبہ کریں اپنا کہ شفاعت کے قابل کون کون سے اعمال ہم کر رہے ہیں؟ اسلئے کہ الله تعالیٰ جس بندے کے اعمال سنت رسول کے مطابق پائے گا اسی کو قبول کرے گا اسی کی شفاعت کا اذن دے گا..رب العزت تو اسی سے خوش ہوگا جو اس کے نبی کا کہنا مانے گا.. ہم اندازہ لگائیں کہ صبح سے شام تک کتنے کام ایسے ہیں جو مسنون طریقہ سے کرتے ہیں..اور بدعات سے پاک ہوتے ہیں.؟ ایک بار پهر سوچ لیں ہم الله کے ساتھ، اپنے نبی ص کے ساتھ کس طرح کا رشتہ بنائے ہوئے ہیں..اگر الله تعالیٰ نے جو مقام کامل اپنے نبی کا مقرر کرکے ہمیں دیا ہم اس کو بعینه تسلیم نہیں کرتے تو الله کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں..کیا یہ عقیدہء توحید اور ایمان کے منافی نہیں؟ عقیدہ ءتوحید و رسالت میں پختگی نہ ہوگی تو ساری عبادتیں بهی الله کے رنگ میں رنگی نہ ہوں گی
اپنے غلط افکار پہ الله تعالیٰ کے حضور صدق دل سے معافی مانگی جائے اور دعا کی جائے کہ الله رب العزت ہمیں عقیدہ رسالت اور نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم کی محبت، عقیدت، اتباع کے لیے سچا علم، عطا فرمائے. وہی علم جو خود رب نے اتارا ہے.. .غلو کے فتنہ سے بچائے…… سیرت النبی کا مطالعہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ لازمی کیا جائے…….روزانہ ایک سنت کو زندگی میں شامل کیا جائے اور بدعات کو ختم کیا جائے ……..نبی کریم کی شفاعت حاصل کرنے کے لیے وہ اعمال کئے جائیں جن سے شفاعت ملنے کی امید دلائ گئ ہے……..درود شریف پڑھنا دراصل الله تعالیٰ سے اس عهد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اور مشن کو جاری رکھیں گے……کیا وعدے کی تجدید کے الفاظ تو سینکڑوں کے حساب سے ہوں اور وعدہ وفا نہ کیا جائے تو کیا یہ اتباع رسول ہوگی؟ اگر اتباع رسول نہ ہوئ تو الله سے محبت کیسے مانی جائے گی؟
“لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” دراصل وہ شجر طیبہ ہے جس پہ اعمال صالحہ کے پهل لگتے ہیں. اللھم انا نسئلک علما نافعا ایمانا کاملا و عملا متقبلا ….اللھم انا نسئلک حبک و حب من یحبک والعمل الذی یبلغنا الی حبک آمین
(جاری ہے )

اپنا تبصرہ بھیجیں