ایمان اور احتساب (چو تھا حصہ) – بشری تسنیم 




“لا اله الا الله محمد رسول الله ” پہ ایمان کی اگلی شق “کلام الله” پہ مکمل ایمان ہے. “ذالک الکتب لا ریب فیه” کے اقرار کے بعد اس کے کسی حکم،جملے آیت پہ شک  ہونا یا اس کو آج کے دور میں قابل عمل نہ سمجھنا ایمان کے منافی ہے۔ اور اس منفی سوچ سے” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار بهی مشکوک ہوجاتا ہے…..
الله، رسول اور قرآن پہ ایک ساتھ مکمل “لاریب “ایمان ہی  اسلام کا مکمل دائرہ ہے. قرآن پاک وہ دستور زندگی ہے  جس کے مطابق زندگی گزارنا ہی دائرہ اسلام  میں رہنے کی شرط ہے… ہم قرآن پاک کو  آئینہ بنا کر اپنے اقوال و أعمال کو پرکھیں اپنا احتساب کریں تو  معلوم ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان ہونے کے نام پہ دهوکا دےرہے ہیں.قرآن پاک سے ہمارا سلوک ظالمانہ ہے……اس کے کیا حقوق ہیں؟بہت کم مسلمان جانتے ہیں. .اس کا حقیقی ادب و إحترام کیا ہے؟ اس سے ناواقف ہیں .ہم انتہائی کم عمری میں  کتابوں کے ڈھیر اپنی اولاد کی کمر پہ لاد  دیتے ہیں.. سالہا سال وہ علم کے نام پہ معلومات کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں کہ کسی روزگار کے قابل ہو جائیں..مگر وہ علم جو  دستور زندگی ہے اس کے لئے  زندگی کے پورے  پرائم ٹائم میں سے صرف چند گھنٹے کافی  سمجھے  جاتے ہیں ..وہ کتاب جس پہ حقیقی زندگی کا دارومدار ہے اس سے شناسائی سرسری سی  ہوتی ہے.. تعلیم تو یہ تهی کہ اس قرآن کو زندگی کے کسی مرحلے میں بهی پس پشت نہ ڈالا جائے، مگر ہم نے اس کی طرف پشت نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر اسے ایسے اونچے طاق پہ رکھ دیا کہ رسائی مشکل ہو گئی…
مقصد تو یہ تها کہ اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت پرورش  قرآن کی تعلیمات کے سائے میں کرتے ہوئے  شوہر کے ساتھ رخصت کی جائے.مگر ہم نے اس کا بڑا آسان حل نکالا کہ پرورش تو جیسے مرضی کرلیں مگر دلہن کو  قرآن مجید کے سائے میں رخصت کرکے  سمجهتے ہیں کہ قرآن کا حق ادا کر لیا .. اپنے معمولات زندگی میں قرآن پاک کے اثر رسوخ پہ غور کریں تو عموماً   ایسی صورت حال نظر آتی ہے کہ وہ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب کسی دنیاوی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے.. کسی مرنے والے کے سرہانے یامرنے کے بعد کئی جمعرات اجرت پہ بلائے گئے قار یوں سے پڑهوا کر تسلی ہوگئ کہ حق ادا ہو گیا ہے . ہر مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ سمجھے بغیر، غور و فکر اور تدبر کئے بغیر اس کلام کو زبان سے ادا کر دینا اس کا حق ادا کرنا نہیں ہے..ہم سے ایک سوال کیا ہے اللہ تعالی نے کہ أفلا یتدبرون القرآن ؟کیا جواب ہے ہمارے پاس ؟ قرآن مجید الله کا کلام ہے ،کسی انسان کا نہیں،  اس کی عظمت اسی طرح سب پہ برتر ہے جس طرح الله رب العزت کی اپنی ذات سب سے عظیم ہے.. الله کی ذات تک پہنچنے کا ذریعہ اس کا کلام ہے. اس کی معرفت حاصل کرنے کے لئے اس کا فہم اس پہ تدبر لازمی ہے.. اس کا علم دنیا کے سارے علوم کو وقعت عطا کرتا ہے قرآن کے علم کے بغیر دنیا کا ہر علم صفر ہے.  ڈگریوں کے نام پہ صفر کی تعداد بڑھانے والے جب قرآن کے حقوق ادا کریں گے تو سارے صفر کے بائیں طرف ایک کا ہندسہ لگ جائے گا۔ اور دنیاوی ڈگریوں کو بھی وقعت مل جائے گی۔ قرآن مجید کی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں  ثانوی حیثیت دینا اپنے اوپر ظلم ہے اور الله کے کلام کی توہین ہے.. 
ہم بحیثیت مسلمان قوم کے ، کوئلوں کی تگ و دو میں زندگی جیسی قیمتی متاع لٹا رہے ہیں جب کہ ہیرے جواہرات ہمارے پاس موجود ہیں.. قرآن مجید میں انفرادی و اجتماعی فلاح کے سارے راز سمو دئے ہیں مگر ہم زبان سے ان کو دہراتے ہیں فہم نہیں رکھتے اگر کچھ فہم ہے تو عمل سے بےگانہ. ..اگر کہیں کچھ عمل ہے تو اس میں ریا ہے یا دنیا کی کامیابی مقصود ہے۔ ہم اس بات کو تو مانتے ہیں کہ اس کے ایک حرف پڑھنے پہ دس نیکیاں ملتی ہیں اس لئے  قرآن پاک کے ختم کی تعداد بڑھانے کی کوشش کر تے ہیں..مگر یہ  یاد نہیں رہتا  کہ قرآن مجید کا ہر حرف ہمارے خلاف حجت بهی ہوسکتا  اگر اس کا پورا حق ادا نہ کیا ۔۔ ہر مسلمان پہ قرآن مجید کے پانچ حقوق ہیں……درست تجوید کے ساتھ تلاوت کرنا یتلونه حق تلاوته آیات کو سمجھنا،(ترجمہ،تفسیر ) آیات پہ غوروفکر تدبر کرنا ،آیات پہ عمل کرنا، دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دینا تبلیغ کرنا. . (هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ)(الجمعہ 2)
کرنے کے کام …… رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے. اس میں اپنا تعلق  قرآن پاک سے جوڑنے کے لئے سب سے پہلے اپنی اب تک کی غفلت کی معافی طلب کی جائے. قرآن پاک کے ساتھ دل کا رشتہ بنانے کے لئے  بهی الله الخالق کے حضور دعا کی جائے کہ وہ ہمارے دلوں کے قفل کھول دے. ہمارے لئے وسائل مہیا کرے اس کی تعلیم آسان فرمائے. روزانہ کی بنیاد پر ایک آیت سیکھنے کا عمل شروع کیا جائے. راستہ منتخب کر لیا جائے تو راہیں آسان ہو جاتی ہیں ۔ اس لئے کہ خود اللہ تعالی نے اعلان عام فرما دیا کہ “ولقد یسرنا القرآن لزکر فهل من مدکر؟ ” اپنے گھر، کالونی، ادارے،دفتر، بازار غرض ہر مقام پہ کوئی وقت” قرآنی وقت” بهی مقرر ہونا چاہئے. روزانہ ایک آیت یا ایک موضوع پہ فہم قرآن  کا سلسلہ ہو..قرآنی ما حول بنایا جائے..اپنی اولاد کو قرآن کے سائے میں پرورش کرنے کی شروع دن سے کوشش کی جائے.اس کی عظمت، اہمیت اور ضرورت کو دنیاوی تعلیم سے زیادہ اہمیت دی جائے.. ہماری نجات صرف حامل قرآن ہونے میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ عامل قرآن ہونے میں ہے.۔
آئیےالله رب العزت کے حضور دل کی گہرائیوں سے التجا کریں کہ وہ قرآن کو ہماری آنکهوں کا نور،دل کی بہار ،قبر کی وحشتوں کا ساتھی، دستورِزندگی، بنا دے.. ایسا مومن بنا دے  جوچلتا پھرتا قرآن ہو. امت مسلمہ اللہ کی رسی کو تھام لے اور عروج اس کا مقدر ہو جائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں