ایمان اوراحتساب(پانچواں حصہ) – بشری تسنیم




رمضان المبارک میں مغفرت اور جنت کی بشارت أن روزے داروں کے لئے ہے جنہوں نے ” ایمان اور احتساب” کے ساتھ روزے رکھے. ایمان جتنا مضبوط اور خالص ہوگا مومن کے باطنی شعور میں الله رب العالمين کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس بهی اسی قدر زندہ رہے گا۔
اور جس کو رب کے سامنے جواب دہی کا خیال رہتا ہو وہ اپنا محاسبہ کرنے سے غافل نہیں ہو سکتا۔ محاسبہ کرنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی نظر میں کیا پسندیدہ ہے اور کیا ناپسندیدہ اس کے لئے قرآن مجید کا علم حاصل کرنا فرض ہے.. الله رب العرش نے قرآن پاک اور اپنے نبی اکرم محمد صل اللہ علیہ و سلم کے ذریعے ہر چیز کی وضاحت کر دی ہے..وہ سب سوال اور ان کے جواب بتا دیے ہیں جو بندوں سے پوچھے جائیں گے. قرآن مجید میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی مکمل تفصیلات موجود ہیں…. حقوق الله کے بارے میں ہمارا کیا رویہ ہے؟سوچنا اور غوروفکر کرنا ہے. . ایمانیات اور عبادات میں کہاں کہاں جهول ہے. بندے پہ کوشش اور خالص نیت واجب ہے.. “اتقوا الله مااستطعتم ” ..اور وہی استطاعت تو مؤمن کو تلاش کرنا ہے. اس لئے کہ جب الله رب السموات والارض کے سامنے حاضر ہونا ہے تو اس نے جو استطاعت عطا کی ہے…
اس کو سامنے رکھ کر حساب لیا جائے گا. اللہ تعالی نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا کمائی کرکے لائے ہو بلکہ یہ بھی پوچھنا ہے کہ جو کرنے کی صلاحیتیں ،آسانیاں اور وسائل عطا کئے تھے ان کے مطابق اعمال لائے ہو یا نہیں ؟ جو کرسکتے تھے وہ کیا یا نہیں؟ اس دن انسان کو وہ ساری صلاحیتیں، وقت، مال یاد آئے گا کہ اتنے وافر وسائل کو نیکیوں کے لیے استعمال نہ کیا. لیکن اس وقت یہ سوچنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا. ہم رب کو راضی کرنے کے لئے سارے وسائل استعمال کریں گے تو ہی ” اتقوا الله مااستطعتم ” کے پیمانے پہ پورا اترنے کی کوشش ہو سکتی ہے..اللہ الخالق کی شایانِ شان عبادت بندے کے بس کی بات نہیں وہ رحمان و رحیم ذات صدق دل سے کی گئ کوشش کی قدر کرنے والی ہے ذرے کو ماہتاب بنانے پہ قادر ہے..مومن کا کام خالص نیت سے کوشش کرنا ہے.کرنے کےکام……آج سے ہر عبادت کو نئ تازگی عطا کریں کہ گزشتہ زندگی میں کی گئ عبادتوں کی کمزوریوں پہ الله سے معافی مانگی جائے اور آئندہ کے لئے استطاعت کا پیمانہ بڑھایا جائے.. ہر صلوة کی ادائگی پہ یہی التجا ہو گزشتہ روزوں، صدقہ خیرات عمرہ حج زکا ةغرض ہر نیکی کرتے ہوئے الله تعالیٰ سے یہ دعا کی جائے کہ پچھلی کی گئ عبادت اور نیکی کی کمزوریوں اور خطاؤں کو معاف کرکے اسے قبول کر لیجیے اور اس بار میری پہلے سے بہتر کوشش کو برکت عطا کرکے اپنی رضامندی کا پروانہ عطا کر دیجئے.
اور یہ بهی دعا کی جائے کہ اے الله زندگی میں میری جو بهی نیکی آپ نے پسند فرما لی ہے اس کی برکت سے میرے باقی اعمال صالحہ کو بهی پسند فرما لیجیے. قرآن پاک میں آمنوا اور عملوا الصالحات کو لازم و ملزوم کیا گیا ہے. .آمنوا حقوق الله ہیں تو عملوا الصالحت حقوق العباد ہیں. دونوں لازمی امٹحان ہیں اور ان میں پاس ہونا ضروری ہے۔ عبادات در اصل حقوق العباد کے امتحان میں سرخرو ہونے کے لئے آسانی اور مدد فراہم کرتی ہیں ۔ آئیے دعا کرتے ہیں …..ربنا آتنا فی الدنیا حسنہ و فی الاخرة حسنة وقنا عذاب النار ۔۔آمین …… سبحانک اللھم وبحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نستغفرک و نتوب الیک۔۔
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں