ایمان اور احتساب (چھٹا حصہ) – بشری تسنیم




آمنوا کے سارے تقاضے غیب سے تعلق رکھتے ہیں. وہ فرشتے ہوں ،عالم برزخ ہو ، میدان حشر یا جنت دوزخ یا تقدیر کے فیصلے اور ان سب پہ ایمان کی بنیا د رب پہ ایمان ہے۔ ” من یخافه بالغیب ” اس رب کی عظمت کو جس نے پہچان لیا اس پہ لرزہ طاری رہے گا. اس کی مقرر کردہ حدود کے قریب پھٹکنے کا خیال بهی آئے گا تو اس رب کائنات کا جلال آگے بڑھنے سے روک دے گا ،
منعم حقیقی کی عنایات کا لامحدودا تصور اسے احسان فراموشی سے باز رکھے گا.. الله اور بندے کے درمیان الخالق اور مخلوق ، معبود اور عبد کا رشتہ ہے. اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے..وہ ہے “شکر گزاری.” حقوق الله کی ادائگی کے لیے یہی رشتہ درکار ہے. لا محدود بے پایاں نعمتیں، اتنی نعمتیں کہ گننا ممکن ہی نہ ہو، سارے سمندر سیاہی بن جائیں سارے درخت قلم بن جائیں ان میں اتنے ہی اور شامل کرلیں اور الله کی عنایات کو لکھنا شروع کریں تو سب لکھنے کی اشیاء ختم ہو جائیں مگر رب کی رحمت کے اظہار کا حق ادا نہ ہوسکے. اس رب کے ساتھ شکر گزاری کا رشتہ قائم کرنا ہی اس کے بے حد پسندیدہ بندوں میں شامل ہونے کا ذریعہ ہے. ” لئن شکرتم لازیدنکم ” شکر کرو گے تو عنایات میں زوال نہ آئے گا. اور رب کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو عذاب میں مبتلا کرے اگر وہ شکر کریں اور ایمان لائیں.
(مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا)النساء 147…….. یعنی ایمان لانے کا تقاضا شکر کرنا ہے اور یہی الله کا حق ہے یا جو شکر گزار ہوگا لازماً وہ ایمان کی دولت سے مالا مال بهی ہوجائے گا. گویا ایمان اور شکر گزاری ایک دوسرے کا جزو ہیں..شیطان کو اسی بات کا بہت اچھی طرح ادراک ہے اسی لئے اس نے رب العزت کی بارگاہ میں یہ اظہار کر دیا تها کہ “تو ان میں سے کم کو ہی شکر گزار پائے گا” اور خود رب العالمین نےفرمایا “قلیل من عبادی الشکور” شکرگزار وہ خاص بندے ہیں جو الله رب العرش الكريم کی نظروں میں خاص مقام رکھتے ہیں. اور خاص مقام تک وہی پہنچ پاتا ہے جو خاص خوبیوں کا مالک ہو..اپنے آقا کی مہربانیوں کو پہچانتا ہو،تسلیم کرتا ہو،شکرگزار ہو،اس کی تعریف کے گن گاتاہو،اور شکرگزار ہونے کا ثبوت فرماں بردار ی سے دیتا ہو..شکر گزار بندہ ہی شیطان کے پھیلائے ہوئے جال کو بروقت پہچان لیتا ہے اور اس سے بچ نکلتا ہے..اور الله تعالى نے شیطان کو باور کرایا کہ “میرے بندوں پہ تیرا کوئی زور نہیں چل سکے گا ”
اب اپنے ایمان کا احتساب ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم شیطان کے قول (ولاتجد اکثرهم شاکرین)کو سچ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں یا اپنے رب کے قول(وقلیل من عبادی الشکور )پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں. اور ان بندوں میں شامل ہوکر کامیاب ہوتے ہیں جن کے بارے میں الله نے شیطان کو باور کرایا کہ “تیرا میرے بندوں پہ کوئی زور نہیں چل سکے گا”……. ہم اپنے محاسب خود ہی ہو سکتے ہیں کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ الله الخالق ہم سے” میرا بندہ “کہ کر مخاطب ہو؟ اور اپنی خاص رحمت کی چھتری تلے ہمیں پناہ عطا کر دے۔ انسان اپنے منعم حقیقی کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار کرنے اس کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے تو اس مہربان رب نے کوئی طریقہ تو بتایا ہوگا کہ جس کو اپنا کر ہم اس کے خاص بندے بن کر ان پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں جو سب سے الگ نظر آتے ہوں. “خاص ایوارڈ “کے مستحق ہوں. جو اس رب کی خاص رحمت کے سائے میں ہوں.. *بے شک ہر آقا و مالک اور اختیارات و اقتدار والے کا قرب پانے والے شکر گزار بندے ہی خاص بندے ہوتے ہیں اور مقرب بندے ہمیشہ قلیل ہی ہوتے ہیں ۔اللهم اجعلنا منهم
کرنے کے کام ……. رب العالمين کی طرف سے میرا بندہ والی پیار بهری پکار سننے کے لئے اس کا شکر گزار بندہ بننا ہوگا .ہر نافرمانی ناشکری کا مظہر ہے.اور ہر ناشکری کا نتیجہ نافرمانی ہے۔ اسلئے نافرمانی سے بچنے کی شعوری کوشش کرنا ہوگی۔ اللہ کے بندوں کا ہر وقت گلہ شکوہ کرنے والے بھی اللہ کے شکر گزار نہیں ہوسکتے جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ اپنے متعلقین کے ساتھ ہر وقت گلے شکوے کا رویہ درست کرنے سے خود کو خوش اور مطمئن رکھا جا سکتا ہے۔ دنیاوی لحاظ سے اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھنا ہوگا اور تقوی کے لحاظ سے اپنے سے بہتر لوگوں میں رہنا ہوگا۔ اللہ رب العزت کی عطاکردہ نعمتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہوگآ۔ اور یاد رکھنا ہوگا کہ نعمتوں کا غلط استعمال بھی ناشکر گزاری ہی ہوتا ہے۔ اور ایسے لوگ اللہ کے پسندیدہ نہیں ہوتے۔۔ قرآن پاک میں……متعدد مقام پہ ایسی بستیوں اور افراد کا زکر ہے جنہوں نے ناشکر گزاری کی تو الله تعالیٰ نے ان کی خوش حالی کو بد حالی میں بدل دیا.. ولئن کفرتم ان عذابی لشدید۔
اے انسانوں کے رب؛ہمیں اپنے بندوں کا بھی شکر گزار رہنا سکھا دے اور ہمیں ان قلیل خاص شکر گزار بندوں میں شامل فرمالے جو تیرے خاص بندے ہیں اور جن پہ شیطان کا زور نہیں چل سکتا۔۔آمین (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں