ماہ رمضان المبارک خدمت و محبت کا مہینہ – زرافشاں فرحین




ماہ مبارک سید الشہور…. رمضان المبارک کی آمد آج ایسے حالات میں ہورہی ہے …..جبکہ دنیا قرنطینیہ میں مقید خوف وہراس کی حالت میں بے اختیار نظریں آسمان کی طرف اٹھائے رحمت کے بادل کی تلاش مین ہے کہیں سے ندا آجائے کہ ابر رحمت برسنے والا غم کے اندھیرے چھٹنے والے ہیں گویا رحمتوں برکتوں کے دروازے کھلنے والے ہیں….
جیسے ہولے سے چلے باد نسیم اور بیقرار کو بے وجہ قرار آجائے. ماہ صیام المبارک کا ماہتاب اپنی ساری تابناکیون کے ساتھ روشن ہوا ہی چاہتا ہے جس کے لئے محسن انسانیت نے فرمایا “رمضان وہ مہینہ ہے جس میں رب کائنات اپنے بندوں کی مناجات گریہ وزاری دعائیں عبادتین ریاضتیں کئ گنا بڑھا چڑھا کر قبول کر تے ہیں. ویسے تو اس ماہ مبارک کی ہر عبادت درجہ اولی کا مقام رکھتی ہے عام دنوں کے مقابلے میں مگر خاص ایک نیکی جس کے لئے امی عائشہ فرماتی ہیں آپ نبی مہربان صل اللہ علیہ وسلم خود بھی عام دنوں کے مقابلے میں سرعت و تیزی دکھاتے تھے جیسے آندھیاں تیز چلتی ہوں اور وہ نیکی ہے انفاق فی سبیل اللہ “اللہ کے بندوں پر اللہ کے حکم سے خرچ کرنا اس رب کی رضا کے لئے انسانیت کی خدمت بزریعہ مال…..بزریعہ جان و وقت صلاحیت کا استعمال… رمضان میں کی گئ نیکی کا اجر دس گنا…!
اللہ کے راستے میں خرچ کی مثال….. جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس می‌ سات بالیں ہو ں اور ہر ایک پر سو دانے… گویا سات سو دانے……. سبحان اللہ وہ رب عطا کرنے پر آئے تو قرض حسنہ کی صورت بڑھا چڑھا کر عطا کرتا ہے. آج کے حالات کے تناظر میں جبکہ ہزاروں نہی لاکھوں نہی کروڑوں انسان دنیا بھر میں بے روزگار…. مفلس اور نادار ہیں ایسے میں ان لوگوں تک پہنچنا مشکل نہی ہر گلی ہر محلے میں اپنے قرب و جوار میں رشتے داروں میں ہر مقام پر دیکھنے کی ضرورت ہے. رمضان المبارک ہمیں دوسروں کی بھوک اور پیٹ کی آگ کا احساس دلاتا ہے…… سحر خیزی کی عبادت جہا( رب سے جوڑتی ہے افطار کی لذت اور افطاری کروانے کا اجر ہمی‌ اللہ کی نعمتوں کی ہی نہی اللہ کے بندوں کی بھی قدردانی سکھاتی ہے کہ جس نے کسی روزے دارکو افطار کروایا گویا اسکے لئے روزے دار کے برابر اجر ہے “حدیث نبوی……بیماری کی یا عذر شرعی کی حالت میں فدیہ دینے کا حکم… زکوٰۃ کی ادائگی عید کی نماز سے قبل فطرانہ ادا کرنے کی تاکید خدمت انسانیت کا سبق ہی نہی سکھاتیں بلکہ پوری آدمیت کی تربیت کا زریعہ ہوتی ہیں….. مولانا رومی رح… کاقول ہے اگر مجھے ٹرین کے پائیدان پر اہک قدم رکھتے ہوئے دوسرا قدم رکھنے سے پہلے کوئی کہے قرآن کی نصیحت سمجھادیں تو میں کہونگا
اللہ کی اطاعت، آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور انسانیت کی خدمت ”
قارئین اکرام…….. رمضان المبارک کثرت طعام کا نہی خدمت عام کا مہینہ ہے…ہماری حرماں نصیبی کہ آج مسجدالحرام کے دروازے پر جاکر رمضان میں عمرے کی سعادت گویا نبی مہربان کی معیت میں عبادت تو ممکن نہی رہی مگر اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرکے آخرت میں انبیاء کرام علیہم السلام… شھداء اکرام… اور صالحین کے ساتھ اٹھائے جانے کی کوشش ہم ضرور کرسکتے ہیں
میرے مال میں حصہ ہے رشتے داروں کا سائلین کا مساکین کا….. چند کھجوریں ہی صحیح مگر پہنچا دینی ہے…… کہتے ہیں ایک بزرگ کے پڑوس میں ایک امیر کبیر شخص رہتا تھا اسکے دروازے پر دستک ہوئی سائل نے ہاتھ پھیلایا امیر شخص نے مایوس لوتادیا سائل بزرگ کے در پہ آگیا بزرگ نے جو تھا پیش کردیا….. رات خواب میں امیر شخص کو بزرگ بہت عمدہ پوشاک تاج وتخت غلام وکنیزوں کے درمیان شاداں نظر آئے صبح ہوتے ہی بزرگ کے پاس جاپہنچے خواب سنایا اور پوچھا ایسا بھی کیا عمل ہے جو ایسا شاندار رتبہ نظر آیا بزرگ نے سائل کے آنے کا بتایا تو یہ صاحب بھی پرشوق ہوئے اج سائل اجائے تو ہم بھی نواز دیں……
دن ڈھلا سائل آپہنچا ہاتھ پھیلانے سے قبل ہاتھ پر سونے کے سکے رکھ دئیے گئے تو حیران ہوکر سارا ماجرا پوچھا امیر شخص نے ساری بات بتائی… سائل نے سکے لوٹاتے ہوئے کہا….. اے بھائ جنت کے سودے دیکھ کر نہی کئے جاتے “” “رمضان المبارک یہ پیغام لیکر آرہا ہے اس سے پہلے کہ ہم خود ہاتھ پھیلانے والے بن جائیں…. رحمتوں کے بادل بن برسے آگے بڑھ جائیں میں اپنا دامن بھرلوں خدمت انسانیت سے دلوں کو جیت لوں ان درد بھرے دلوں سے نکلنے والی دعائیں ہم سب کو ان شاءاللہ اس کرونا وائرس کی تباہی سے نکال دینگی یہ وعدہ ہے رب کا میرے نبی کریم کی خوشخبری ہے صدقہ ستر بلاؤں کو دور کرتا ہے ”
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو……..ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیا

اپنا تبصرہ بھیجیں