ایمان اور احتساب( ساتواں حصہ) – بشریٰ تسنیم




ہم نے یہ جانا کہ……. شکر گزاری وہ عظیم الشان سر چشمہ صفت ہے ، جس سے باقی اوصاف حمیدہ کی شاخیں پھوٹتی ہیں.
الله تعالیٰ کی کبریائی کا احساس، شکر گزاری کے جزبات کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے. اپنے عبد ہونے کی پہچان سے اطاعت کے لئے روح بے تاب ہونے لگتی ہے. الله تعالیٰ سے انابت فزوں تر ہونے لگتی ہے،اپنی کم مائیگی کا احساس مغفرت کی طرف راغب کرتا ہے.اور مالک کائنات کے سامنے اپنا دامن پھیلائے رکھنے میں عافیت نظر آتی ہے.الله رب العالمين کی شکر گزاری سے انسان کی روح خوش اور زندہ رہتی ہے.جب روح پژمردہ ہوتی ہے تو انسان بے چین و بے کل رہتا ہے اور جب روح کی بےکلی حد سے گزر جاتی ہے توانسان زہنی نفسیاتی اور روحانی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے. اور جب زہنی پراگندگی، روحانی و نفسیاتی پیچیدگی مایوسی میں بدل جاتی ہے تو انسان خودکشی جیسی قبیح حرکت پہ آمادہ ہوجاتا ہے. دنیا میں خود کشی کرنے والے لوگوں کی زیادہ تعداد الله پہ ایمان نہ لانے والوں کی ہوتی ہے……مسلم معاشرے میں اس کا رجحان کم ہے.
اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کو الله رب العالمين نے اپنے قریب کرنے اپنا شکر گزار بندہ بنانے کے لئے طریقہ کار وضع کر دیا ہے. کلمہ گو انسان کی زبان سےاکثر “الحمدللہ “ادا ہوتا ہے.وہ شعوری ہو یا لاشعوری عادتاً ہو یا فہم کے ساتھ ،الله کی تعریف اور اس کی شکر گزاری کے کلمات کے اثرات ضرور ہوتے ہیں.. مسنون دعائیں اور کلمات جو ہم صبح سے رات تک مختلف مواقع پہ اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں ان میں الحمدللہ کا کلمہء زکر موجود ہے.نیند سے بیدار ہوکر الحمدللہ،سے زبان تر اور روح شاد ہوتی ہے تو سارا دن اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے حتیٰ کہ آپ رفع حاجت کے بعد جو آسودگی محسوس کرتے ہیں اس پہ بهی “الحمدللہ الذی عافانی” کہہ کر اپنے رب کی شکر گزاری کرتے ہیں. اگر حالات اچھے نہیں ہیں تو بهی “الحمدللہ علی کل حال و أعوذ بالله من حال اهل النار” کہہ کر اپنے رب سے خوش اور راضی رہتے ہیں..یہی الحمدللہ کہنا زندگی کے ہر موڑ پہ مؤمن کی روح کی آبیاری کرتا ہے. اور موت، قبر،برزخ حساب کی مشکل گھاٹیوں سے گزر جب اپنی منزل ابدی گھر جنت میں پہنچتا ہے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جو ترانہ گاتا ہے وہ بهی الحمدللہ سے ہی شروع ہوتا ہے.
(وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ)[سورہ الزمر- 74]
اور جنتی لوگوں کی زبان پر الله کی حمد وثنا وہاں بهی جاری رہے گی اور ان کی ہر بات کے آخر میں نعرہ تحمید الحمدللہ رب العالمین ہوگا ۔اور جب سارے امور انجام پاجائیں گے تو جنتی یہی نعرہء تحمید بلند کریں گے۔…….(دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)[سورہ الیونس – 10] گویا کہ الله تعالیٰ کی حمد و تعریف دنیا سے آخرت تک کے سفر میں ہماری ساتھی ہے. صبح و شام کے ازکار سے لے کر ساری فرض عبادتیں الله کے حضور شکرگزاری کے لئے ہیں..صلوة دن میں پانچ بار رب کے حضور حاضر ہوکر دن بهر کے ہر پہر کی نعمتوں پہ شکرگزاری کا اظہار ہے..روزہ قرآن پاک جیسی عظیم نعمت کا شکرانہ ہے.زکو ة مال کا شکرانہ ہے تو حج امت مسلمہ کے فرد ہونے پہ اظہار تشکر ہے… شکر گزاری قول و عمل دونوں سے ہوتی ہے. اور حضورئ قلب اس کی جان ہے.مسنون ازکار میں الله رب العزت کی بہترین الفاظ میں ثنا کی گئ ہے. بہترین سے بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا زکر الله میں حسن پیدا کرتا ہے..
آخر میں مؤمن اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تعریف اور شکرگزاری کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے تو اظہار کرتا ہے ……. اللهم لا احصی ثناء علیک أنت کما اثنیت علی نفسک “اے الله ہم تیری حمد وثنا کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں آپ ویسے ہی ہیں جیسے کہ آپ اپنے لئے خود حمد وثنا پسند فرمائیں اور جو آپ کے شایان شان ہو… الله رب العزت کی محبت توجہ، مہربانی، رحمت قرب ، فضل وکرم، مغفرت اسی نسبت سے حاصل ہوگی جتنی بندے کے اندر شکر گزاری کا جزبہ خالص ہوگا.جب الله کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ہے تو ان عنایات پہ شکرگزاری کے احساسات ہر احساس پہ غالب رکھنے کی کوشش کی جانی لازمی ہے….. أبو الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی صفت الله تعالیٰ نے فرمائ کہ وہ ہر حال میں”شاکر لانعمه “(اپنے رب کی نعمتوں پہ شکر گزار)تها تو “اجتبه “(منتخب کر لیا)کا مرتبہ ملا. اور اسے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی دی گئ…… (إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ * شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ) (وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ) [سورہ النحل (120-122)
الحمدللہ علی کل شئی أعطانا.. ..اے الله جو بهی نعمت ہمیں دی ہے یا دنیا میں کسی کو بهی دی ہے وہ سب تیری طرف سے سب کا تو مالک ہے اور جو نعمتیں ہمیں نہیں عطا کیں اس پہ شکر ہے کہ اس میں بھی انجام کار ہمارے لئے ضرور خیر ہوگی ۔ بے شک آپ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے خیر کے سوا کچھ ظہور نہیں ہوتا ۔ہمارا ایمان ہے “بید ک الخیر۔”۔ تیرا کوئی شریک نہیں نہ ذات میں نہ صفات و کمالات میں تو وحده لا شریک ہے..لک الحمد کله ولک الشکر کله سبحانک اللھم وبحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نسغفرک و نتوب الیک۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں