ایمان اور احتساب ( نواں حصہ) – بشری تسنیم




ہم نے یہ جانا کہ کامیاب انسان کو صبر کی مشکل گھاٹی سے گزر کر ہی کوئی ایوارڈ مل سکتا ہے ۔
کوئی بھی بہادر،سخی،نہیں بن سکتا جب تک نفس پہ جبر نہ کرے اخلاق کریمانہ کے اعلی مرتبے پہ نہیں پہنچ سکتا جب تک صبر و تحمل کا شیوہ اختیار نہ کرے. اللہ رب العزت نے اسی لئے صبر کا اجر بے انتہا ،بے حساب دینے کا وعدہ فرمایا ہے(انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب ) اور دنیا میں اپنی معیت و قرب کا یقین دلایا ہے (ان اللہ مع الصابرین)……. انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ خطاء کا پتلا ہے۔ اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ خطا یا بھول چوک کی بازپرس نہیں ہوگی۔ خطا وہ عمل ہے جو  نیت اور ارادے کے بغیر اتفاقا ہوجائے. جیسے چلتے چلتے کسی کے پاؤں پہ پاؤں آجائے یا ٹھوکر لگ جائے. .ہاتھ سے کوئی چیز چهوٹ کر ٹوٹ جائے.. کچھ رقم وغیرہ گننے میں غلطی ہو جائے..اس میں ایک اور چیز ہوتی ہے اشتباہ، یعنی کسی کام یا چیز میں شبہ ہو جائے. ایک جیسی چیزوں میں سے کسی کی چیز اپنی سمجھ کر اٹهالی. وغیرہ
ایک اور معاملہ ہوتا ہے نسیان یعنی بهول جانا..صلوة میں کچھ  عمل  بهول جانا یا شبہ ہونا. .بهول کر روزے میں کچھ کها لینا. کسی کا کام  کا یاد سے محو ہوجانا، زہن سے نکل جانا ، یا بهول جانا. وغیرہ …… نسیان اور خطا یا اشتباہ کی بنیاد پہ کوئی بهی عمل قابل گرفت نہیں ہوتا. ان کے لیے بھی دعا سکهائ گئ ہے. ربنا لا تواخزنا ان نسینا أو أخطأ نا… لوگوں کو تکلیف ان جانے میں  پہنچنے پہ ان سے معزرت کرنا ضروری ہے اور عزر قبول کرنا بهی اخلاق حسنہ ہے….. دل میں آنے والے منفی خیالات بهی قابل گرفت نہیں إلا یہ کہ زبان سے اظہار ہو یا عمل میں لے آیا جائے. انسانوں کے بے شمار نا پسندیدہ عمل الله تعالیٰ اپنی رحمت واسعہ کی نسبت سے معاف کرتا  رہتا ہے..اگر الله ہر ناپسندیدہ عمل پہ گرفت کرتا تو کوئی جاندار زندہ رہنے کا حقدار نہ ہوتا. یہ الله کا بندوں پہ کرم ہے کہ وہ” یعفوا عن کثیر “کا معاملہ کرتا ہے..
نسیان،خطا یا  دل کے خیالات پہ انسان ضمیر میں خلش محسوس کرتا ہے مگر ویسی شدید خلش بهی محسوس نہیں کرتا جو گناہ سرزد ہونے پہ ہوتی ہے..گناہ وہی ہے جس کے ظاہر ہوجا نے پہ انسان کو رسوائ کا ڈر ہو..معاشرے سے ، والدین بہن بهائوں  سے چهپائے تو ان کا گنہگار ہے..میاں یا بیوی ایک دوسرے سے اپنے غیر اخلاقی کام چهپائیں تو وہ  حق تلفی اور گناہ  ہے مگر انسان کتنا نادان ہے. اپنے جیسے لوگوں سے چهپاتا ہے وہ جو علیم بذات الصدور ہے اس کے سامنے حاضر ہونے اور حساب دینے سے نہیں ڈرتا.
وہ جو ذرہ برابر نیکی اور برائ کو سامنے لے آئے گا..اسی نے ہمیں اپنا احتساب  کرنے اور اصلاح کر نے کے لئے قرآن اتارا…… بعض اوقات نسیان کے پیچھے اللہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے، اور کبھی شیطانی اثرات ہوتے ہیں . خطا اور نسیان کے بعد جو قابل مواخزہ اعمال ہیں وہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود پامال کرنے والے اعمال ہیں۔ ان میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تقسیم خود قرآن نے کی ہے ۔مثال کے طور پر قرآن میں بیان ہوتا ہے: جن بڑے بڑے گناہ کے کاموں سے تمہیں منع کیا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہے تو ہم تمہاری (چھوٹی موٹی) برائیوں کو تم سے (تمہارے حساب سے) محو کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے(النساء ۳۱:۴) ایک اور مقام پر کبیرہ گناہوں کا ذکر آتا ہے: اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آئے تو معاف کردیتے ہیں۔(الشوریٰ ۳۷:۴۲)…. ان آیات مبارکہ سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تفریق موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہیں تو چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو اللہ معاف کردیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس گناہ کو کبیرہ اور کسے چھوٹا سمجھا جائے۔یہ ایک مشکل سوال ہے اور اس پر مختلف علماء کی مختلف رائے ہے۔ کچھ علماء گناہوں میں اس تفریق کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر گناہ اللہ کی معصیت یعنی نافرمانی ہے اور یہ نافرمانی چونکہ ایک عظیم ہستی کے حکم کی ہے اس لئے ہر گناہ کبیرہ گناہ ہی ہے۔ اصول کے اعتبار سے یہ بات درست ہے لیکن عملی طور پر صحیح نہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل خود قرآن کی اوپر بیان کردہ آیات ہیں جو کبیرہ و صغیرہ گناہوں میں تفریق کرتی ہیں۔ صغیرہ گناہوں کی نوعیت …… قرآن میں صغیرہ گناہوں کی کوئی فہرست نہیں دی گئی لیکن کچھ اشارات ہیں جن کی بنیاد پر ہم آسانی سے اس تفریق کو سمجھ سکتے ہیں۔پہلا اشارہ تو اس آیت سے ملتا ہے جس میں صغیرہ گناہوں کی وضاحت کردی گئی کہ یہ کون سے گناہ ہیں:جو کبیرہ گنا ہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اِلا یہ کہ چھوٹے گناہ (ان سے سرزدہوجائیں) بلاشبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع ہے۔ ۔۔۔۔(النجم ۳۲:۵۳)
اس کامطلب ہے کہ وہ گناہ جو غیر ارادی طور پہ سرزد ہوجائیں وہ صغیرہ گناہ ہیں۔ مثال کے طور ایک شخص پابند ہے کے وہ اپنی ڈیوٹی پہ وقت پر پہنچے۔ وہ ایک دن دیر سے پہنچتا ہے تو یہ کسی بڑے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں اس لئے قابل معافی ہے۔ دوسری جانب اگر یہی صاحب کسی فراڈ میں ملوث پائے جائیں تو ایک بڑا جرم ہے ۔یہی بات دین میں بھی ہے کہ وہ گناہ جو عام معمولات میں سرزد ہوجاتے ہیں وہ چھوٹے گناہوں میں آتے ہیں جیسے کسی نامحرم پر غیر ارادی نظر پڑ جانا، وغیرہ دوسری بات یہ پتا چلتی ہے کہ وہ گناہ جو اللہ تعالیٰ بندے کی طرف سے معافی مانگے بغیر خود ہی معاف کردیں یا وہ جو نیکیوں کی بنا پر خود بخود مٹ جائیں وہ گناہ صغیرہ ہیں جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے:”اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں”۔[ھود 114:11]
یہی اصول اس حدیث میں بھی بیان ہوا ہے:
” سعید بن عاص سےمروی ہے مسلمان فرض صلوة کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع وخضوع سے صلوة ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہو جائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا”۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 543)۔ ۔اس کا مطلب ہے صغیرہ گناہ وہ ہیں جو یا تو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف کردیتے ہیں یا پھر وہ عام نیکیوں سے مٹ جاتے ہیں ۔لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ایک گناہ اگر چھوٹا ہے لیکن اس پر اصرار کیا جارہا ہے یا اس کے کرنے کی نیت اللہ سے بغاوت یا دین کا مذاق اڑانا ہے تو وہ کبیرہ گناہ میں بدل جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص بار بار کسی نامحرم کو دیکھ کر لذت حاصل کررہا ہے اور وہ گناہ کو چھوڑنے کی کوئی کوشش نہیں کررہا تو یہ عمل گناہ کبیرہ میں بدل جاتا ہے۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں