برکہ خان اور جذبہ ایمان




یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برکہ خان (برکی خان ) نے اپنے اور اپنی قوم کے مشرف بااسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایک خط لکھ کر مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو یہ اطلاع دی۔
ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے چچازاد ہلاکوخان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے مصر سے اتحاد کرنا چاہتا ہے۔ سلطان بیبرس نے یہ پیش کش بخوشی قبول کرتے ہوئے آئمہ حرمین شریفین کو برکہ خان کے لیے دعاؤں کا حکم لکھ بھیجا۔ تمام شہروں میں بھی فرمان بھیجا گیا کہ جمعہ کے خطبے میں خلیفہ اور سلطان کے بعد برکہ خان کے لیے دعا کی جائے۔ برکہ خان کی سلطنت قفقاز کے کوہساروں سے بلغاریہ کی حدودتک وسیع تھی۔ شوال 660ھ (ستمبر 1262ء) میں ہلاکو شام اور مصر پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہا تھا کہ برکہ خان کی فوج قفقاز کے فلک بوس درّوں سے نمودار ہونے لگی۔
یہ دیکھ کر ہلاکو خان کو شام کی مہم ملتوی کرکے بحیرۂ خزر کی طرف فوج بھیجنا پڑی۔ اس لشکر نے دریائے تیرک عبور کرکے برکہ کی فوج کو وقتی طور پر پسپا کیا، مگر برکہ کے بھتیجے نوگائی کے جوابی حملے میں ہلاکو کا لشکر درہم برہم ہوکر پیچھے ہٹتے ہوئے دریائے تیرک تک آگیا۔ اس وقت موسم سرما عروج پر تھا۔ دریا کی سطح جو سخت سردی سے منجمد ہوچکی تھی لشکر کے بوجھ سے ٹوٹ گئی اور تاتاریوں کی بڑی تعداد ڈوب کر مرگئی۔ ہلاکوخان کا ایک بیٹا بھی مارا گیا اور وہ خود پسپا ہوکر بحیرۂ آذربائی جان کے ایک جزیرے میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔ اس کے بعد ہلاکو کی ایل خانی اور برکہ کی زرّیں خیل سلطنتوں میں جھڑپوں کا دائرہ کار مشرق تک پھیل گیا۔ ہلاکو نے گرجستان اور آرمینیا کے نصرانی حلیفوں کو ساتھ ملا کر زرّیں خیل کی سرحدوں پرحملے شروع کیے۔ جواب میں برکہ نے نہ صرف روسیوں اپنی فوج میں بھرتی کیا،بلکہ وسطِ ایشیا تک تسلط حاصل کرلیا۔ سمرقند و بخارا کے مسلمان جوق درجوق اس کی فوج میں شامل ہونے لگے۔ بحیرۂ خزر کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں ان دونوں سلطنتوں کے مابین مسلسل جھڑپیں ہوتی رہیں۔
برکہ کے سپاہی ایمان و ایقان سے بھرپور تھے، جبکہ ہلاکو کی فوج کے سامنے خون ریزی کے سوا کوئی ہدف نہ تھا۔ اس کے سپاہی پست ہمت ہوکر منتشر ہونے لگے۔ بہت سے سلطان بیبرس کی تلوار سے خوفزدہ ہوچکے تھے اور بہت سے برکہ خان کے قبولِ اسلام کے بعد توحید کی طرف راغب ہورہے تھے۔ تاتاری اب دو واضح جماعتوں میں بٹ گئے تھے۔ اسلام دشمن اور اسلام دوست۔ اسلام دوست تاتاری خود کو برکہ خان کی طرف منسوب کرنے لگے۔ ان میں جو شامی سرحدوں کے آس پاس تھے، انہیں برکہ خان کی دوردراز مملکت کی بجائے مصر جانا بہتر محسوس ہوا، چنانچہ ہزاروں تاتاری مصر کی طرف منتقل ہونے لگے۔ سلطا ن کو اطلاع ملی تو تمام شہروں کے گورنروں کو حکم دیا کہ ان کی پوری طرح مہمانی اور دلجوئی کی جائے اور زادِسفر دے کر مصر بھیج دیا جائے۔ کچھ دنوں میں تاتاریوں کے کئی گروہ مصر پہنچے اور سلطان سے امان طلب کی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ تاتاری کسی غیرقوم سے امان مانگ رہے تھے، ورنہ اس سے پہلے ان کے ہاں ایسی کوئی مثال نہ تھی۔ وہ صرف مارنا یا مرنا جانتے تھے۔ سلطان نے ان کی بہت بڑی ضیافت کی، انعام و اکرام سے نوازا اور رہائشیں دیں۔ ان کی بڑی تعداد مشرف بااسلام ہوگئی۔ اس طرح ایک سفاک فاتح قوم اسلام کی مفتوح ہوگئی۔
علامہ اقبال نے تاتاری منگولوں(مُغلوں)کو فتنہ تاتار کا نام دیتے ہوئے اور برکہ خان کے مسلمان ہونے پر یہ شعر لکھا
ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

اپنا تبصرہ بھیجیں