ایمان اور احتساب (آخری حصہ) – بشریٰ تسنیم




اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں ۔ یہ وہ گناہ ہیں جو انسان نے جانتے بوجھتے کئے ہیں اور ان کی نوعیت کوڈ آف کنڈکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
فرائض کا زبانی یا عملی انکار ہو۔قرآن و سنت کی صریحا زبانی یا عملی خلف ورزی ہو۔ اس کے علاوہ…….. وہ گناہ جن کے ارتکاب پر اللہ تعالی کی طرف سے کسی عذاب کا ذکر کیا گیا ہو یا اس گناہ پر لعنت یا غضب کا اظہار کیا گیا ہو۔ وہ گناہ جس کے کرنے پر قرآن یا سنت میں کوئی سزا اس دنیا میں مقرر کی گئی ہو وہ کبیرہ ہے۔ مثال کے طور پر چوری، زنا، بہتان، شراب پینا ، نا حق قتل ، ڈاکہ زنی وغیرہ شامل ہیں۔ صغیرہ گناہ کرنے والے نے اس گناہ کو ترک کرنے کی بجائے اس پر اصرار کیا ہو۔ اور اس کو اپنی دانست میں درست سمجھتا ہو اس کا پرچار بھی کرتا ہو…… وہ گناہ جو بظاہر تو معمولی ہو لیکن کرنے والے نے اللہ، رسول یا اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور تحقیر کرنے کی نیت سے وہ کام کیا ہو۔ شریعت کے بارے میں من مانی تاویلات و بدعات کو دین کا حصہ گردانتا ہو۔۔
گناہ کبیرہ کی معافی……کبیرہ گناہ کا ارتکاب کوڈ آف کنڈکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے اس لئے یہ لازم ہے کہ گناہ گار پشیمان ہو اور اللہ سے توبہ کرکے انہیں آئیندہ نہ کرنے کا عہد کرے، یعنی کبیرہ گناہ خود بخود معاف نہیں ہوتے بلکہ ان کے لئے توبة النصوح کرنا ضروری ہے۔یہاں تک کہ یہ گناہ حج و عمرہ، رمضان کے روزے ، نماز، زکوٰۃ یا دیگر نیکیوں سے اس وقت تک نہیں مٹتے جب تک کہ ان پر نادم ہوکر ان کی تلافی (اگر ممکن ہو) نہ کردی جائے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے ایک ماہ کے رمضان کے روزے نہیں رکھے ۔ اب اگر وہ اگلے سال حج کرلیتا ہے تو ایسا نہیں کہ اس کے رمضان کے روزے معاف ہوجائیں گے۔ اسے اپنے گناہ کی توبہ کرنی ہوگی اور ساتھ ہی قضا روزے رکھنے ہونگے۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے کسی کی زمین ہتھیائی ہوئی ہے تو حج کرنے یا روزے رکھنے سے یہ گناہ اس کے نامہ اعمال سے نہیں مٹادیا جائے گا۔ کبیرہ گناہ کسی دوسرے شخص کی دعائے مغفرت یا سفارش یا ایصال ثواب سے بھی نامہ اعمال سے نہیں مٹائے جاتے جب تک کہ بندہ خود کوئی اقدام نہ کرے۔
رمضان المبارک کی ساعات ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ایمان اور احتساب کے ساتھ وقت گزاریں اور شب قدر کی تلاش میں دهیان لگائیں جو مسنون اور قرآنی دعائیں ہیں ان کو دل کی گہرائیوں سے کریں….. نبی اکرم محمد صلى الله عليه وسلم نے اس مسلمان کی بد بختی کی نشان دہی کی ہے جو رمضان المبارک کو پائے اور الله رب العالمين سے اپنے گناہوں کی بخشش نہ کروا سکے… اسی بدبختی اور الله اس کے رسول کی ناراضگی سے بچنے کے لئے ہر مسلمان کو بهر پور محنت اور کوشش پوری لگن کے ساتھ کرنی چاہئے. رمضان المبارک کے بارے میں سورہ البقرہ میں مندرجہ ذیل آیت میں قرب الہی کی شان ممتاز نظر آتی ہے… (وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ)[سورت البقرہ – 186]…… اپنے بندوں کے لئے اللہ تعالی کی محبت ایسی کہ بندہ سر شار ہوجائے. .براہ راست تعلق بغیر کسی واسطے کے ہر وقت ہر جگہ.ہر حال میں..سبحان اللہ!
مؤمن کا جب رب سے ناطہ جڑتا ہے تو وہ اپنی سب سے عزیز ترین خواہش کا اظہار کرتا ہے..سچا مؤمن تو اپنے رب سے بخشش اور مغفرت کا ہی طلبگار ہوتا ہے. لیلة القدر میں کیا طلب کرنا ہے الله کے محبوب نے بتا دیا “اللهم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی “…..الله سبحانہ وتعالى کے جس نام سے اس سے معافی طلب کی جا رہی ہے وہ “العفو “ہے. یہ وہ صفت ہے جس کی بناء پہ الله العفو اپنے بندے کے گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے کہ ان کا نام و نشان بهی نہیں رہتا. نہ اثرات باقی رہنے دیتا ہے نہ ہی ان گناہوں کے بارے میں سوال ہوگا.قیامت کے دن جب انسان کے جسم کے اعضاء اسکے خلاف گواہی دیں گے وہ گناہ کا مقام اور اشیاء اس کے خلاف گواہ ہوں گے مگر جس کے ساتھ عفو و کرم کا معاملہ کیا جائے گا اسے ان سب سے امن مل جائے گا کیونکہ الله العفو نے سب اثرات کو ختم کر دیا ہوگا. گناہ کا کوئی ثبوت باقی نہیں رہے گا. بندے سے راضی ہوگا اور نعمتوں بهری جنت سے نوازے گا. حقوق العباد سے وابستہ کبیرہ گناہ کی معافی اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک بندے اپنے معاملات بندوں سے معاف نہیں کروا لیتے اس لئے یہ جاننا چاہئے کہ ہم ہی ایک دوسرے کے لئے اللہ تعالی کی رضا یا ناراضی کی وجہ ہیں ۔۔
اگر الله کے اس پیارے نام کو سامنے رکھتے ہوئے معافی کی درخواست تہہ دل سے پورے یقین سے بار بار اس کی بارگاہ میں پیش کی جائے ہر وقت اٹھتے بیٹھتے، رکوع و سجود میں ہر صلوة کے بعد تو دل میں روحانی سکون کی کیفیت پیدا ہوگی. .اور اگر ہمیں لیلة القدر نصیب ہوئ تو گویا ہم نے مسلسل تقریباً چوراسی سال الله سے عفو وکرم طلب کرنے میں گزارے. بندے کو اگر اتنی مدت الله سے عفو و کرم مانگنے کے لئے مل جائے تو اس رب کی رحمت سے پورا یقین ہے کہ اسے اپنا مدعا حاصل ہوگیا..اسی طرح جو دنیا مانگے گا دنیا کی طلب پوری ہوگی ہر کسی کا ظرف ہے کہ وہ کیا مانگتا ہے…… قرآن پاک میں الله العفو نے جہاں بهی اپنی صفت کا زکریا فرمایا بڑے گناہوں کو معاف کرنے کے حوالے سے فرمایا.سورہ البقرہ آیت 51-52 میں زکر ہے کہ بنی اسرائیل نے بچھڑے کو معبود بنا کر شرک کیا تو الله العفو نے فرمایا ….ثم عفونا عنکم من بعد ذلك لعلکم تشکرون ، یعنی معافی ملنے کے بعد تشکر کا رویہ لازمی ہے ..احد کے میدان میں جب مسلمانوں نے کمزوری دکھائی مگر الله العفو نے فرمایا “ولقد عفا عنکم”
الله العفو جنت کے طلب گار کو اپنے عفو و کرم کی یقین دہانی کراتا ہے… ہر طاق رات میں ہو سکتا ہے ہمارے نصیب میں وہ گهڑی لکھ دی گئ ہو جب الله العفو پوری شان سے ہماری طرف متوجہ ہو اور منتظر ہو ہماری آواز کا ہمارے ندامت سے نکلے آنسوؤں کا ہماری آہوں کا. ہمیں اپنے دامن عفو میں چھپا لینے کے لئے بے تاب ہو..آئیے ہم سب اس مبارک گهڑی کو پانے کے لئے کمر بستہ ہوجائیں
اللهم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا …..اللهم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا ….. اللهم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا
سبحنک اللھم وبحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نستغفرک و نتوب الیک ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں