روزہ کی اقسام – بشری تسنیم




رمضان المبارک کے مقدس لمحات میں جینا مبارک ہو۔
رمضان المبارک کا استقبال کرتے ہوئے اپنے دل کو ٹٹولنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا روزہ رکھ رہےہیں ۔جس قسم کا روزہ رکھنے کی خواہش اور کوشش ہوگی اسی طرح کا تقوی پیدا ہوگا اور روزے کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ …… لعلکم تتقون …. روزے کی تین اقسام ہیں۔ پہلی قسم عام رسمی روزہ یا انفرادی روزہ……. اس روزے کی نشانی یہ ہے کہ گھر کی صفائی ،کھانے پینے کے لوازمات کا اہتمام اور افطار کی دعوتوں پہ توجہ رہتی ہے۔ قرآن پاک کی روزانہ تلاوت اور تراویح کا اہتمام کرنا کافی سمجھا جاتا ہے۔ باقی وقت گپ شپ ٹی وی اور سوشل میڈیاکی معیت میں گزرتاہے۔ یہ عام رسمی سا روزہ ہے اس میں نہ احتساب ہے اور نہ ہی ایمان بڑھانے کا کوئ خاص سامان ۔۔اس سے وہ تقوی کیسے پیدا ہوگا جو مطلوب ہے۔ جیسا روزہ ہے ویسا ہی تقوی پیدا ہوگا۔۔
روزے کی دوسری قسم ہے شعوری روزہ…….. اس میں سحری و افطاری میں شکم پری کی فکر کرنے سے زیادہ روح کو خوراک دینے کی فکر کی جاتی ہے۔ اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کی فکر ہوتی ہے ۔شعوری روزہ ہوگا تو تقوی کی صفت بھی خاص انداز سے آگے بڑھے گی ۔ تیسری قسم ہے حقیقی روزہ…….. یہ خاص الخاص روزہ ہے جو امت مسلمہ کے جسد واحد کا خود کو حصہ سمجھناہے۔۔ رمضان المبارک پوری امت پہ بیک وقت آتا ہے۔یہ احساس رکھنا کہ میں اس امت کا ایک فرد ہوں۔ اور اس مقدس مہینے میں نیکیوں کی جو بہار آئی ہوئی ہے اس گلشن کا میں بھی ایک پھول ہوں ۔ہر مسلم ومومن مرد ہو یا عورت نیکیوں کے سمندر میں اپنی عبادات کے قطرے شامل کر رہے ہیں ۔ میرا ایک قطرہ بھی اگر سمندر میں مل جائے تو وہ قطرہ کی حیثیت سے نہیں سمندر کی حیثیت سے جانا جائے گا۔یہ احساس امت مسلمہ کو اجتماعی تقوی کا ماحول عطا کرے گا۔۔مشرق و مغرب میں کی گئ دعاوں میں ہر فرد حصہ دار ہوگا اور غائبانہ دعا پہ تو فرشتےبھی آمین کہتے ہیں ۔
آج آٹھواں روزہ ہے تقوی کی بلندیوں پہ پہنچنے کے لئے اپنے روزے کا تعین کر لیجئے۔۔ اللھم اعنا علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک دعاوں میں امت مسلمہ کو یاد رکھئے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں