محبت ایک ایسی چیز ہے – اریبہ سموں




محبت ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی فطرت میں دیعت کردی گئ ہے…….. انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ماں کا شفقت بھرا لمس اس کے وجود میں محبت کے پودے کو پرورش دیتا ہے…..
جب وہ اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے باپ کی مظبوط انگلی تھام کر اپنے ناتواں قدموں کو راستوں کا تعین کرنا سکھاتا ہے تو خوشی و مسرت میں باپ کی طرف سے ملنے والی واہ واہ اور شاباش اس کی روح کو محبت کے میٹھے لفظوں سے آشنا کرواتی ہے. اب وہ بڑا ہوتا ہے، اور اس کی محبت ان ایک زاویوں میں تقسیم ہونا شروع ہوجاتی ہے.. بہن بھائیوں کی نوک جھونک میں چھپی ہوئی معصوم محبت،دوستوں اور عزیزوں کی محبت اور نہ جانے کتنی محبتیں انسان کو ہمہ وقت اپنے حصار میں لیے رکھتی ہیں.. جس میں سب سے زیادہ جس محبت کے پیچھے انسان بھاگتا ہے وہ اس شخص کی محبت ہوتی ہے جسے وہ اپنے شریک سفر کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے.. ان سب محبتوں کے درمیان انسان ایک تخت پہ بیٹھا ہوتا ہے اور تمام محبتیں اس کے آگے سربسجود.. ان محبتوں میں دراڑ پڑنا اس وقت شروع ہوتی ہے.
جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ محض وقتی چمک دمک ہے.. جب وہ ستاروں کے تعاقب میں بہت دور تک نکل جانے کے بعد بھی تہی دست و تہی داماں رہ جاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں ہر چیز بھلا کہاں حاصل ہوا کرتی ہے،اسے احساس ہوتا ہے کہ ہر چیز کو زوال ہے، خاص طور پہ فانی چیزوں کی محبت……. انسان کی محبت ایک حد تک ٹھیک ہوتی ہے اور ضروری بھی کیونکہ اس کے بغیر اس جہان میں گزارا مشکل ہے.. لیکن جب یہ محبت خالق کی محبت سے ٹکراتی ہے تو محض خسارہ رہ جاتی ہے.. انسان کو اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی برس گزر جانے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ اس کی روح کو جس محبت کی پیاس ہے وہ تو اب تک اسے میسر ہی نہیں تھی.. پھر وہ دوڑتا ہے انجانی راہوں کی طرف کہ کہیں سے وہ محبت حاصل ہوجائے.. انسان کی فطرت ہے کہ اسے اپنی زندگی کے ہر ہر لمحے میں ایک جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے.، روتے وقت ایک کندھا،ہنستے وقت اس کی دائمی خوشیوں کی چاہ کرنے والا ساتھی اور جب اس کا دل غم سے بھر جائے تو سننے والا ایسا شخص جو سب کچھ چھوڑ چھاڑ صرف اسے سنے بغیر کسی اضافی مشورے اور طعنے کے..انسان چاہتا ہے کہ اس کا محبوب دن کے چوبیس گھنٹے اور سال کے تین سو پینسٹھ دن اس کے لیے آن لائن رہے کہ اگر آدھی رات میں وہ کسی بھیانک خواب سے خوفزدہ ہوکر سو نہ سکے تو اس وقت اس کی محبوب ہستی غفلتوں کی نیند نہ سورہی ہو بلکہ اسے سہارا دینے کے لیے اس کے پاس موجود ہو..
انسان کی یہ امیدیں اس وقت خاک میں مل جاتی ہیں جب اسے احساس ہوتا ہے کہ سب اسی کی طرح کے انسان ہیں اور اس دنیا میں کوئ بھی انسان ایسا نہیں جو اسے ہر سیکنڈ میسر ہو.. یہ وقت انسان پر بہت سے راز آشکار کرتا ہے،یہ لمحہ آگہی کا لمحہ ہوتا ہے.. اور کامیاب وہ ہوتا ہے جو اس لمحے کی صدا پر کان دھر لیتا ہے.. جب لامکاں سے صدائیں آرہی ہوتی ہیں کہ جس کی تجھے تلاش وہ ہے تجھ میں ہی کہیں..جو انسان اس صدا کو سمجھ لیتا ہے وہ حقیقی محبت کو پالیتا ہے.. اسے ادراک ہوتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ رب اللعالمین کی ذات یکتا کے سوا ایسی کوئ ذات نہیں جو اسے ہر لمحہ سہارا دینے کے لیے موجود ہو.. پھر وہی انسان محبت کی معراج تک جا پہنچتا ہے.. انسانوں سے وابستہ تمام امیدیں آہستہ آہستہ بے نیازی میں ڈھلنا شروع ہوجاتی ہیں، پھر وہ خوش ہوتا ہے تو دوڑتا ہوا اپنے رب کے پاس جاتا ہے کہ یا اللہ تجھے پتہ ہے آج میں کتنا خوش ہوں——- پھر وہ ہوتا ہے،، اس کا رب ہوتا ہے اور اس کے دن بھر کی روداد….جب غم سے اس کا دل ریزہ ریزہ ہورہا ہوتا ہے تو اسے اس بات کا انتظار نہیں کرنا پڑتا کہ اس کا محبوب کب آن لائن ہوگا بلکہ وہ اپنے محبوب حقیقی کے سامنے رات کے تیسرے پہر بھی گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتا ہے کہ اس کا رب ہمہ وقت اسکو سہارا دینے کے لیے موجود رہتا ہے،آدھی رات ہو،گھپ اندھیرا،آندھی یا طوفان کوئ بھی چیز اس کے اور اس کے رب کے تعلق میں رکاوٹ نہیں بن سکتی..
پھر وہ ہوتا ہے،اس کا رب ہوتا ہے اور وہ تمام آہ و زاریاں ہوتی ہیں جو اس کے وجود کو پاش پاش کر رہی ہوتی ہیں….. ہر انسان کی زندگی میں یہ تمام واقعات پیش آتے ہیں لیکن حقیقی محبت کو صرف وہ پاتا ہے جو اس ایک لمحے کی صدا کو سمجھ لیتا ہے اور پھر وہ ہوتا ہے،اس کا رب ہوتا ہے اور محبت ہوتی ہے..، وہ محبت جو امر ہے،وہ محبت جو لازوال ہے……..

اپنا تبصرہ بھیجیں