دورہ قرآن اور ہم( 1) ۔ فرحت طاہر




یادش بخیر …….ایک زمانے میں گرمیوں کے روزے اور چهٹیاں ایک ساتھ آگئیں .امی چهوٹے بچوں کے ہمراہ نائیجیریا گئی ہوئی تهیں جہاں ابا جان بسلسلہ روزگار مقیم تهے اور گهر میں ہم چار بڑے بہن بهائی رہ گئے …کچھ کے پریکٹیکل باقی تهے اور کچه دوسراہٹ کے لیے!
حسن اتفاق کہ پنڈی سے طیبہ آصف( شفائی) شادی ہوکر ہمارے محلے میں آباد ہوگئی تهیں . انہوں نے لڑکیوں کے لیے رمضان میں اجتماعی مطالعہ قرآن رکها جس میں ہم دونوں بہنوں کے علاوہ عائشہ، شاکرہ، صائمہ اور لبنی کے ساته کچه اورخواتین بهی شریک ہوتیں. قرآن کو اجتماعی طور پر سمجهنے کا بہت خوشگوار تجربہ رہا ورنہ اس سے پہلے تو رمضان میں ختم قرآن کی تعداد پر ہی زور رہتا تها۔۔۔۔۔۔ بہت سی اچهی اور نئی باتیں سیکهنے کو ملیں! آج بهی جتنی دعائیں یاد ہیں ان کا بیشتر حصہ اسی رمضان میں یاد کی تهیں .خاصہ پراثر رہا! نتیجتا رمضان کے اختتام پر میں نے پردہ کرنے کا فیصلہ کرلیا . کیا رد عمل ملا ، کیا اثرات ہوئے وہ ایک الگ موضوع ہے!
قرآن سے جو تعلق بنا اگلے سال رمضان میں بهی یہ تجربہ دہرایا… پهرطیبہ باجی سعودی عرب چلی گئیں تو بظاہر سلسلہ منقطع ہوگیا مگر اپنے طور پر قرآن سے سیراب ہوتے رہے۔۔۔۔۔ خوش قسمتی سے جلد ہی رقیہ احسان ہمارے علاقہ میں منتقل ہوئیں تو قرآن سے پهر اچها سا تعلق بن گیا ..یہ زندگی کے بہترین سال تهے … لیکن موسم کی طرح حالات بهی تبدیل ہوتے ہیں چنانچہ جب ہم یہاں سے شفٹ ہوئے تو ایک دفعہ پهر دورہ قرآن کی بہار ختم ہوگئی.۔۔۔۔ 1995ء میں ہم گلستان جوہر منتقل ہوئے تو زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا. گهنی جهاڑیوں اور اونچے نیچے ٹیلوں میں گهرا ہمارا گهر ایک چٹان پر بنا تها جہاں اکا دکا گهر بنے ہوئے تهے. وہاں آبادی ہی ناپید تهی تو کوئی حلقہ قرآن ڈهونڈنا عبث ہی تها . ہم دورہ قرآن اور باجماعت تراویح دونوں کی کمی محسوس کر رہے تهے……. اب رمضان سردیوں میں آنے لگے تهے. زندگی کا دائرہ تبدیل ہوچکا تها تو بحیثیت اسکول ٹیچر بچوں کے ساته قرآن کو منفرد، دلچسپ اور آسان انداز سے سیکهنے اور سکهانے کا موقع ملا.
اس کے ساته رمضان میں انفرادی ذاتی مطالعہ یا پهر گهر کے لوگوں کے ساته مل کر قرآن پڑهنے کے علاوہ سحری اور افطاری کے لوازمات پر توجہ رہتی …اس زمانے میں غیر نصابی مطالعہ کافی رہا .زیادہ تر انگلش اور اردو ناول انہی دنوں میں پڑهے ! اللہ معاف کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں