مثالی محبت – آمنہ صدیقی




ان دشمنوں نے اس کے ہردلعزیز باپ کو تکلیف پہنچائی تھی، ایذاء دیا تھا ……. وہ آرام سے کیسے بیٹھ سکتی تھی؟ تھی تو وہ ننھی سی ہی، ابھی چند سال قبل باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا، مگر جیسے ہی یہ خبر کانوں سے ٹکرائی،اس کے دل میں موجود باپ کیلئے محبت نے اسے بھاگ کر اپنے بابا تک پہنچنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
وہاں پہنچ کر کیا دیکھتی ہے کہ دشمن ارگرد کھڑے ہنس رہے ہیں اور باپ جو حالت نماز میں ہے اس کی گردن پر ان دشمنوں میں سے ہی کسی نے گوبر سے لتھڑی اوجھ ڈال دی ہے۔ وہ آپہنچی ہے اپنے بابا کا ساتھ دینے، ان کیلئے بدلہ لینے۔ مقابلہ تو اس کا کئی مردوں سے ہے جو قدکاٹھ اور جسمانی طاقت کے اعتبار سے کہیں زیادہ ہیں، مگر اس لڑکی کی محبت نے اسے دلیر کردیا ہے۔۔کامل جذبہ ایمانی نے ہمت دے دی ہے۔ یوں تعلق تو اس کا صنف نازک سے ہی، ہاتھ بھی ننھے ننھے سے ہیں مگر پھر بھی اس نے انہیں ہاتھوں سے اوجھڑی باپ کی گردن سے ہٹائی ……دیکھنے والے سوال کرتے ہیں کہ آخر یہ کیسا جذبہ تھا جس نے اس نازک کلی میں اتنی طاقت بھردی؟؟؟
کہدو ان سے، کہ یہ محبت کا جذبہ تھا…..ایک بیٹی کی محبت اپنے باپ کیلئے،
جو بے لوث ہوتی ہے …….بے غرض ہوتی ہے، اور بے شمار بھی۔اسی لئے تو انہیں رحمت کہا جاتا ہے۔ پھر تو یہ واقعہ بھی رحمت اللعلمین پر نازل کی گئی رحمت کا تھا …… سیدہ فاطمۃ الزھرہ، جو یہ سن کر باپ کی مدد کو پہنچ گئی تھیں کہ عقبہ بن ابی معیط نے اونٹ کی اوجھ اپنے ہر دلعزیز پدر پر ڈال دی تھی ہے۔ واقعی باپ بیٹی کا تعلق اور ان کے درمیان محبت مثالی ہوتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں