مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی – حذیفہ محمد صدیقی




کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
رقص و سرور کی محفل اپنی تمام تر رعنائیوں سے حاضرین مجلس کی توجہ سمٹیی ہوئے ہے۔۔رومی سلطنت میں جاری اس محفل میں موجود امراء سلطنت طاقت کے نشے میں دھت تشریف فرما ہیں . اپنے اس فیصلہ پر نازاں ہیں جو ابھی کر کے آئیں ہیں کہ مسلمانوں کو شکست دینے کیلئے بنو غسان کو سامنے لائیں گے ۔۔
کہ عربوں کی تلواریں عربوں سے ٹکرائیں گی . یہاں موجود تمنا ہی امراء یہ خیالی پلاؤ بنانے میں مصروف ہیں کہ وہ مسلمانوں کو شکست دے چکے ہیں۔ تین لاکھ فوج میں سے فقط ساٹھ ہزار کو میدان میں لے جا کر مسلمانوں کے لشکر کے بس تیس ہزار سپاہیوں کو تباہی کردیا ہے۔۔۔ مگر یہ تو فقط دشمنان حق کا خواب ہی رہا۔۔۔کیونکہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف توحید کی علمبردار، اسلام کے پرچار کی غرض سے دشمنان حق کے خلاف گھروں کے آرام کو خیرباد کہہ کر نکلے کہ اب آرام تو جنت میں ہی ہوگا۔ ایسا ایمان ہوتا ہے مومنین ابو عبیدہ بن جراح رضہ، ابو سفیان، خالد ابن ولیدرضہ کینگرنی میں تیس ہزار پر مشتمل یہ لشکر اللہ کے دشمن سے نبرد آزما ہونے کو تیار ہے۔۔۔ کہ یہ خبر کہ رومی سردار مسلمانوں سے مقابلے پر ساٹھ ہزار عربوں کو لرہا ہے تو خالد بن ولید امیر لشکر بو عبیدہ سے کہتے ہیں،
“مجھے تیس آدمی دے دیں کہ جس سے میں ان رومیوں سے مقابلہ کروں”
ابو سفیان کو خالد بن ولید کی یہ بات مذاق لگتی ہے، کہ ساٹھ ہزار کے مقابلے میں تیس یہ تو بے وقوفی کی ہی بات لگ رہی تھی۔۔کہ امین الامت ابو عبیدہ کہتے ہیں,”خالد تیس کم ہے ساٹھ لے جاؤ” کیسے عجیب لوگ ہیں، سننے والے تو کہیں گے کہ کیسی بہلی بہلی بت کررہے ہیں۔۔ یا شاید انہیں اپنی طاقت پر غرور ہے کہ وقت کی ایک بڑی قوت سے مقابلہ کیلئے فقط ساٹھ لوگ لے کر جا رہے ہیں۔۔ کیونکہ دیکھنے والے یہ نہ جانتے ہیں کی ان مجاہدوں کے یمان اپنی قوت پر نہیں بلکہ اس واحد کی قوت پر ہے جو آسمان و زمین کا خالق اور کائنات کا نظام چلانے والا ہے⁦ .دشمن نے مسلمانوں کی جو تصویر دماغ میں سجائی تھی، خالدبن ولید رضہ اس تصویر کو نیا رنگ دینے کیلئے آرہے تھے۔۔
فرماتے ہیں, “امین الامت! لشکر میں کچھ ایسے لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اگر وہ خدا کے حضور جھولی پھیلاتے ہیں وہ کبھی خالی ہاتھ انہیں نہیں لوٹاتا۔۔
ابو عبیدہ نہیں ساٹھ آدمیوں کے انتخاب کی اجازت دیتے ہیں۔۔ سیف اللہ پکارتے ہیں، کہاں ہیں فضل بن عباس؟؟ کہاں ہیں زببر بن العوام؟؟ عمرو بن تمیمی؟؟ رافع ابن عمیرہ؟؟(یہ وہ شخص ہے جو قبل الاسلام سکو تھا مگر اسلم کا سایہ پڑنے کے بعد ایس نیک آدمی بن گیا کہ اس فہرست کے چوتھے نمبر پر آگیا)کہاں ہیں عبد الرحمن بن ابی بکر؟؟عبیدہ؟؟ حذیفہ بن یمان؟؟؟ اسی طرح 44 انصار اور 16 مہاجرین کو پکارتے ہیں اور یہ مختصر سا لشکر رومیوں سے لڑنے کیلئے نکل پڑا۔۔ کفر و اسلام کے اس عجیب معرکے میں فتح کس کو نصیب ہوگی؟؟؟؟۔سب کو اب اسی خبر کا انتظار تھا۔۔۔ دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔۔ عربوں کا سردار جبلہ بن ایہم مسلمانوں کو اتنی تھوڑی تعداد میں دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ مسلمان ڈر گئے ہیں اور شاید صلح کی غرض سے آئے ہیں۔۔ اس کے گمان میں بھی نہ تھا یہ مختصر سا لشکر جنگ کے ارادے سے آیا ہے۔۔ جبلہ بن ایہم ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ صلح کیلئے ایسی شرطیں رکھوں گاکہ مسلمان ذلیل و خوار ہوگے۔۔یہ سوچ ہی اسے خوشی پہنچا رہی تھی۔۔
کہ مسلمانوں کے ارادے کی خبر اس تک پہنچتی ہے تو وہ ششدر رہ جاتا ہے۔۔۔مسلمانوں سےمخاطب ہوکر کہتا ہے کہ “جاؤ اور پوری تیاری کیساتھ آؤ، میں عرب کی ماؤں کا طعنہ نہیں سننا چاہتا کہ ساٹھ آدمیوں پر ساٹھ سے حملہ کردیا” خالد بن ولید جواب دیتے ہیں,”پہلے ہم سے تو آکر نمٹ کو پھر دیکھ لینگے کہ جھنڈا کس کے ہاتھ میں رہا اور میدان کس نے مارا” اس تاریخی جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔۔۔ ساٹھ ہزار نے ساٹھ پر حملہ کیا مگر ان ساٹھ لوگوں کی صف نہ توڑ پائے۔۔۔ دوسری دفعہ حملہ کیا پھر ناکام رہے۔۔پھر بالآخر تیسری دفعہ کامیاب ہوگئے۔۔ اب مسلمان اپنے سپہ سالار خالدبن ولید کے حکم پہ چھ چھ کی ٹولیوں میں بٹ گئے۔۔۔مقابلہ زوروں پر ہے۔۔۔ مسلمانوں کی ہمت بڑھانے کیلئے معاذ بن جبل زور زور سے یہ آیت پڑھ رہے ہیں،
اللہ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ…….خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔۔۔۔۔ مسلمانوں پر بیس حملے ہوئے مگر جس کے ساتھ اللہ ہوتا ہے وہ شکست پا کیسے ہوسکتا ہے۔۔ حضرت زبیر بن العوام اور فضل ابن عباس دیدہ دلیری سے لڑتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس جاتے۔۔کہتے کہ میں عباس کا بیٹا فضل ہوں اور یہ عوام ک بیٹا زبیر ہے۔۔ دونوں فریقین عربی ہیں،ایک جیسی جسمانی قوتوں کے مالک مگر ایسی کونسی طاقت ان میں بھر گئی ہے کہ مدمقابل سینکڑوں گناہ زیادہ ہیں مگر میدان میں زور بھی انھی کا ہے۔ کہ دو ان سے کہ یہ ایمان کی طاقت ہے، جس نے ان کو اتنا قوی کیا.. شہادت کا شوق ہے جو انھیں آگے بڑھنے پر مجبور کررہا ہے۔۔اسلام سے، اللہ و رسول سے محبت ہے جو اس ک علم گرنے نہیں دے رہا۔۔⁦
آج کی اس جنگ نے دنیا کو بتا دیاکہ مومن خواہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو اسلام کے جھنڈے کے نیچے وہ مومن ہوتا ہے۔۔اپنے دوسرے مومن بھائیوں کا بھائی۔۔۔ اور غیر مسلم خواہ اپنی ہی قوم کے ہوں وہ بجائے کا درجے پر تب ہی پہنچ پائیں گے جب دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔۔۔۔ دوسری جانب ابو عبیدہ پریشان ہیں کہ خالد نے سارے صحابہ شہید کروا دئیے ہوگے اب میں خلیفۃ المسلمین حضرت عمر رضہ کو کیا جواب دوں گا۔۔ اسی پریشانی کے عالم میں امین الامت بقیہ مسلمانوں کو پیشقدمی کا حکم دیتے ہیں۔۔۔ابو سفیان کہتے ہیں کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔۔۔ ابھی یہ دونوں اس موضوع پر بت کررہے ہوتے ہیں کہ نہ صرف وہاں موجود مسلمان بلکہ زمانے کی نگاہیں بھی اس منظر کی جانب مرکوز ہیں۔۔ کہ گرد کا صبر دور سے اٹھتا آرہا ہے جس میں صرف اوپر لہراتا اسلام کا علم نمایاں ہے۔۔۔
اللہ اکبر۔۔ نعرہ تکبیر کی صدا کی گونج ہر سمت سنائی دیتی ہے۔۔ اللہ کی نصرت سے اسلام کا علم بلند ہوا،
دشمنان حق کا غرور خاک ہوا، اللہ نے حق کو سر بلندی عطاکی حق کی خاطر اٹھنے والی جس شمشیر نے آج فتح کا تاج پہنا تھا وہ اعلان کررہی ہے، وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ……. اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں