خاتون جنت – سیدہ ابیحہ مریم




۱۰ رمذان المبارک ۔۔۔ ہماری نہایت قابل احترام ام المومنین، حضرت خدیجتہ الکبریؓ کا یوم وصال گزرا ہے……. تو سوچا اس جاں نثار خاتون کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کر لی جائیں جو خویلد بن اسد قریشی کی اکلوتی اولاد، پیارے نبیؐ کی پہلی زوجہ اور ہم سب کو اپنی ماؤں کی طرح عزیز ہیں۔ سلام ہے آپ پر اے ام ہند! جی ہاں، ام ہند آپؓ کی کنیت تھی۔
روایات کے مطابق آپؓ عمر بن اسد کی بھتیجی تھیں۔ ان کے والد اپنا تمام کاروبار، تجارت اور مال اپنی افات سے قبل اپنی اس ذہین اور معاملہ فہم بیٹی کے سپرد کر دیا تھا۔ حضرت خدیجہؓ نے گھر بیٹھے ہی اپنی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر اس تجارت کو چار چاند لگا دیئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہؓ کی پیدائش عام الفیل سے پندھرہ سال قبل ہوئی۔ ان کا سلسلہء نصب پانچویں پشت میں قصی تک پہنچ کر آپؐ سے ملتا ہے۔ آپؓ اس قدر پاکیزہ تھیں کہ انہیں طاہرہ کا لقب ملا۔ وہ بچپن ہی سے شریف الطبع تھیں۔ حضرت خدیجہؓ شروع سے ہی فراغ دل تھیں۔ وہ اکثروبیشتر ککسی غریب کو کھانا کھلا دیتیں یا کسی کے لیئے کپڑے بنوا دیتیں۔ ویسے تو حضرت خدیجہؓ ہر ایک کے ساتھ شفقت سے پیش پیش آتیں۔ لیکن نبی کریمؐ کے ساتھ ان کی جاں نثاری اپنی مثال آپ تھی۔ درحقیقت وہ انتہائی حسین، صاحب ثروت اور معزز ہونے کے ساتھ ساتھ بیوہ بھی تھیں۔
حضور اکرمؐ سے شادی سے قبل قریش کے بےشمار رئیسوں نے انہیںشادی کا پیغام دیا مگر آپؓ نے ہر ایک کے پیغام کو ٹھکرا دیا۔ شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ یہ عظیم المرتبت خاتون اس عظیم ہستی کےنکاح میں آئیں جن پر ساری عظمتیں تمام ہو گئیں…… آپؐ حضرت خدیجہؓ کا مال فروخت کرنے کی غرض سے تجارتی سفر پر روانہ ہوئے۔ وہیں سے واپسی پر انؓ کے غلام میسرہ نے رسولؐ کی سچائی اور دیانتداری کی جو داستان سنائی، اس نے انیہں بےحد متاثر کر دیا۔ میسرہ نے بتایا کہ آپؐ دوسرے تاجروں کی طرح گھٹیا مال کو بڑھیا بتا کر نہیں بیچتے بلکہ کسی بھی شے میں اگر کوئی نقص ہوتا تو اسے بیان کر دیتے۔ آپؐ کی اس صاف گوئی کے باوجود آپؓ اپنے مال کی برکت دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ یہ سب کچھ سن کر وہ عش عش کر اٹھیں۔ بہرحال اپنا پیغام رسول اکرمؐ تک پہنچانے کے لیئے اپنی ایک عزیز ترین سہیلی نفیسہ بنت علیہ کوذمہ دار بنایا۔ دوسری طرف حضرت ابو طالب نے نبی کریمؐ کی طرف سے نکاح کا پیغام دیا۔ خطبہء نکاح بھی چچا ابو طالب نے پڑھایا۔ اس وقت پیارے نبیؐ کی عمر پچیس سال تھی، جبکہ سیدہ خدیجہؓ چالیس برس کی تھیں۔ بعدازاں ان دونوں کی چار بیٹیاں اور دو صاجزادے ہوئے جن میں سے دونوں بیٹے وفات پاگئے اور بیٹیاں اپنے والدین کیلیئے صدقہء جاریہ بنیں۔
جب حضورؐ غار حرا میں عبادت کرتے تو حضرت خدیجہؓ ان کو ستو اور پانی پہناتیں اور دیگر ضروریات کا خیال رکھتیں۔ پہلی وحی کے بعد جب آپؐ پسینے میں شرابور گھر لوٹے تو خاصے پریشان تھے۔ کہ اٹھے ’’ خدیجہ یہ مجھے کیا ہو گیا ؟؟ مجھے تو اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرت خدیجہ بولیں ’’بخدا آپؐ کو اللہ تعالی رسوا نہ کرے گا۔ آپؐ صلحہء رحمی کرتے ہیں، دردمندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دوستوں کا بندوبست کرتے ہیں، مہمان کی میززبانی کرتے ہیں اور مصائب میں حق کی اعانت کرتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد آپؐ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ دور جاہلیت میں ہی عیسائی ہو گئے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھتے تھے۔ انہوں نے یہ سن کر پیشنگوئی کی کہ آپؐ کو حق کے راستے میں بےشمار تکالیف جھیلنی ہوں گی اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور رسولؐ نے دین کی خاطر بہت کچھ سہا لیکن اس موقع پر حضرت خدیجہؓ آپؐ کے ساتھ کھڑی رہیں۔
حضرت خدیجہؓ نہ صرف ایک مثالی زوجہ تھیں بلکہ انہوں نے اپنی اولاد کی بھی بہترین پرورش کی۔ ایک تاجر ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی چاروں بیٹیوں کی بےمثال دینی و دنیوی تربیت کی۔ ساتھ ہی نبی کریمؐ کو تسلی دینا اور اسلام کی دعوت میں ان کی مدد کرنا۔۔۔ نبی کریمؐ اور صاجزادیوں کے ساتھ ساتھ وہ دن کا کچھ قیمتی وقت تجارت پر بھی صرف کرتیں۔ وہ ہر کام کو اعتدال کے ساتھ لے کر چلتیں جبکہ آج ہماری سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ وقت نہیں ملتا مگر آپؓ اپنی تجارت کے ساتھ ساتھ گھریلو امور بھی نہایت منظم انداز میں ادا کرتیں۔ آپؐ کو اللہ تعالی نے اور بھی بیویاں عطاء فرمائیں لیکن عمر میں پندھرہ سال بڑی یہ زوجہ ہمیشہ حضورؐ کے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ ۱۰ رمضان المبارک ۱۰ نبوی کو حضرت خدیجتہ الکبریؓ وفات پا گئیں۔ اسی سال آپؐ کے نہایت قریبی چچا حضرت ابوطالب بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا۔ آپؐ کا ارشاد ہے، ’’دنیا کی نعمتوں میں سب سے اچھی نعمت نیک اطوار اور وفادار بیوی ہے‘‘۔
آپؐ نے سالہا سال حضرت خدیجہؓ کی تعریف کی اور یہ بھی فرمایا کہ ’’خدا کی قسم مجھے خدیجہؓ سے بہتر بیوی کوئی نہیں ملی۔ وہ اس وقت ایمان لائیں، جب ساری دنیا اور قوم کفر میں مبتلا تھی۔ انہوں نے بلاتوقف میری تصدیق کی جب ساری دنیا اور قوم مجھے جھٹلا رہے تھے۔ انہوں نے اپنا سیم و زر دیوانہ وار مجھ پر قربان کر دیاجب دوسروں نے مجھ سے ہاتھ کھینچا۔ اور اللہ نے ان سے مجھے نہایت پیاری اولاد عطاء فرمائی” دنیا کے سب سے زیادہ کامیاب و کامران شخص حضرت محمدؐ کا سہارا اور ان کی ساتھی حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریؓ کی عظمت کو سلام کہ ان کی زندگی تا قیامت امت مسلمہ کے لیئے مثالی نمونہ ہے۔
عزت رسولؐ ہیں پاک خدیجہؓ
مادر بتولؓ ہیں پاک خدیجہؓ
لاشریک ہیں یہ عرب کی ملکہ
ہمت رسولؐ ہیں پاک خدیجہؓ

اپنا تبصرہ بھیجیں