صبر کیا ہے – حناطہ عثمان




ہم سب کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے جب ہمیں صبر کرنا پڑتا ہے ۔۔۔خاص طور پر جب ہم کسی غم میں ہوں ۔ لیکن شاید ہم صبر کے اصلی معنی نہیں جانتے اور سمجھ بیٹھتے ہیں کے ہم نے صبر کیا …… چار سو سال پہلے کے لوگوں میں جو صبر تھا کیا وہ آج کے لوگوں میں موجود ہے؟؟
ہرگز نہیں …….. ہم تو صبر کرنے سے پہلے اس وجہ کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں کے ہمارے ساتھ ہی کیوں ایسا ہوا۔۔!! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ایمان کمزور ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ کیوں کہ ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ قرآن ہے اسے ہم رمضان یہ تو کسی کی میت پر پڑھنے کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ یہی وجہ دین سے دوری اور ایمان کی کمزوری کی ہے۔۔۔ جب تک خود پڑھ کر یہ نہیں معلوم کر لیں گے کے اللہ تعالٰی نے ہمیں حکم کیا دیا ہے تب تک ہمارا ایمان کمزور رہے گا۔ جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں….. “فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا” ترجمہ: “پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے” پہر کیوں ہم کسی مصیبت میں صبر نہیں کرتے ثابت قدم نہیں رہتے؟؟آج یہ ضرور سوچیں کہ جب کبھی ہمارا کوئی فیصلہ غلط ہو جاتا ہے تو ہم یہ کیوں سوچتے ہیں کاش میں ایسا نہیں کرتا ویسے کر لیتا۔۔ یہ سوچنے کے بجائے کے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئ مصلحت ہوگی۔۔
تو یہ تھی ہماری دین سے دوری۔۔جب ہمارا یقین مضبوط ہو تو کوئی بھی طاقت آپکا ایمان کمزور نہیں کر سکتی۔۔ اللہ تعالیٰ سورۃ معاہدہ میں ایسے لوگوں کے لیے فرماتے ہیں۔۔۔ ترجمہ:” یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالٰی سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے “۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھا اور اللہ کے فیصلوں پر راضی ہو گیا اس نے دنیا میں جنت پالی کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندے کا برا چہا ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتے ہیں۔ تو جب رب کی طرف سے کوئی آزمائش آجائے تو خود کو یا اپنے فیصلے کو کوسنے کے بجائے اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جانا چاہیے اور صبر سے کام لینا چاہیے…… ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہیے جیسے بی بی حاجرہ نے صحرا میں اپنے دودھ پیتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ صبر کیا تو اللّہ نے زم زم جیسے نعمت سے آراستہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کی اولادہ نے انکی زندگی بچانے کے لیے انہیں دریا میں بہا دیا اور پھر اللّہ تعالیٰ کی طرف سے انکے بیٹے کی پرورش انکی آنکھوں کی سامنے ہوئی اور فرعون کے زوال کا باعث بنی
اور مریم علیہ السلام کو جب اللہ نے بنا شوہر کے (اولاد)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا اور انہوں نے لوگوں کے لگائے بہتان پر صبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انکی پاکدامنی کا ذکر بھی کردیا ۔۔ایسے بہت سے واقعات ہیں جس سے صبر کی مثالیں ملتی ہیں۔۔
سورتہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔ ؕانَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ۔ ترجمہ: اللہ تعالٰی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔۔
اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ سے رابطہ بنانے کے لیے نماز اور قرآن مجید سے رابطہ مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ہمارا اللہ پر یقین مضبوط ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کے صبر اور شکر کرنے والے بندے بن جائیں۔۔۔یا اللہ ہمیں صبر کرنے والا بنادے (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں