دورہ قرآن اور ہم (2) – فرحت طاہر




نومبر 1999ء میں شعبان کا مہینہ تها جب اخبار میں خبر پڑهی کہ دار ارقم میں 15 شعبان سے دورہ قرآن مولانا عطا الرحمان لیں گے.. ہم دونوں بہنوں نے اس میں شرکت کا ارادہ کر لیا کیونکہ اسکول سے فراغت تهی……. اب مسئلہ تها اس مقام کو ڈهونڈنے کا! بہن کا کہنا تها کہ ڈرائیونگ سیکهنے کے دوران وہ اس علاقے میں جاچکی ہے تو اسے علاقے کا اندازہ ہے مگر اس کا یہ اعتماد ہمیں اس وقت مہنگا پڑا .
جب وہاں پہنچ کر کئی گهنٹوں تک گهومنے کے باوجود ہم دار ارقم کو تلاش نہ کر پائے .آج کی طرح گوگل تو تها نہیں! (ویسے بهی اس زمانے میں کوئی بلڈنگ ، ریسٹورنٹ، شادی ہال نہیں تهے جو آپ اس سے مطلوبہ مقام کو ڈهونڈ سکتے!)خیر جب ہم تهک کر چور گئے.جسم کا ہر خلیہ جواب دینے لگا اور ہم دونوں جهنجهلاہٹ کا شکار ہوکر ایک دوسرے پر بڑبڑا رہے تهے تو اچانک نو تعمیر شدہ عمارت پر نظر پڑی جس پر دار ارقم کا نام چمک رہا تها !.ہم نے فاتحانہ انداز سے ایک دوسرے کو دیکها گویا قلعہ فتح کر لیا ہو! مگر اس تک پہنچنا ابهی بهی محال تها کیونکہ بیچ میں بہت بڑی کهائی تهی ..ہم اسی طرف اتنی دیر سے بهٹک رہے تهے تو نہ نظر آیا تها ..خیر اب واپس جانے کی ہمت نہیں تهی اور ویسے بهی تعارفی پروگرام اگلے دن سے شروع ہونا تها وہ تو ہم احتیاطا یاشغل کے طور پر اس جگہ کو دریافت کر نے کے لیے ایک دن پہلے نکل کهڑے ہوئے تهے.
ہمارے اس مہماتی سفر کو اباجان نے کافی پسند کیا کیونکہ ان کی ہدایت تهی کہ امتحان گاہ یا کسی نئی جگہ بروقت پہنچنے کے لیے پہلے سے اس جگہ کا دورہ سروے لازمی ہے! خیر اگلے دن انہوں نے ہمیں G -25 ویگن میں بٹهادیا کہ یہ وہیں اتارے گی .سڑک کراس کر کے پل سے اتر کر دار ارقم ہے ! دار ارقم نئی تعمیر شدہ عمارت جس کی تعمیر میں کئی نقائص ہم نے ڈهونڈلیے ( جو بعد میں درست کر دیے گئے تهے) ہال کے اندر بیچ میں پردہ لگا کر خواتین کا حصہ علیحدہ کیا گیا تها. مائک سسٹم کی وجہ سے آواز مناسب تهی .تعارفی کلاس اچهی رہی .دو گهنٹے بعد وقفہ ہوا اور چائے پیش کی گئی .. حصہ خواتین میں ہم دونوں کے علاوہ گلشن سے شاہین فاطمہ تهیں..واپسی رکشے پر ہوئی اور رکشے والا مستقل طور پر گرجتا برستا رہا کیونکہ ہم درست طریقے سے اپنا گهر بتانے سے قاصر تهے! وجہ؟
ہم میں سے کوئی لیفٹ کہتا تو دوسرا رائٹ …اور پهر سب سڑکیں گلیاں گهنی جهاڑیوں میں چهپی ہوئی تهیں …وہ مسلسل یہ ہی کہہ رہا تها پتہ نہیں کس جنگل مں لے جارہی ہیں ؟ اس کی بڑبڑاہٹ سے تنگ آکر ہم گهر سے کافی پہلے اتر گئے .. کرایہ کی مد میں اس نے 50 روپے طلب کیے جو اس زمانے کے لحاظ سے بڑی رقم تهی ..بڑی مشکل سے 35 پر راضی ہوا…
اگلے دن سے یہ سوال اٹها کہ وہاں آمد ورفت کے لیے کون سا راستہ منتخب ہو؟ کامران چورنگی سے وین لی جائے یا موسمیات سے؟ یونیورسٹی روڈ کا راستہ بهی ممکن تها مگر اس میں تین بسیں بدلنی پڑتیں !ہم دونوں کے موڈ اور پسند کے مطابق روزانہ سفر کی منزلیں طے ہوتیں . ایک ہفتے بعد بہن کے نکاح کی تاریخ طے ہوگئی اسمیں نہ نہ کرتے بهی ہمارے کئی ناغے ہوگئے ….

اپنا تبصرہ بھیجیں