دورہ قرآن اور ہم (3) – فرحت طاہر




بچپن میں قاری صاحب سے قرآن پڑهنے کے بعد ہم پہلی دفعہ کسی عالم دین سے بالمشافہ زانوئے تلمذ طے کر رہے تهے…..ان کے لہجے اور انداز سے جهلکتا تها کہ وہ تازہ تازہ تعلیم سے فارغ ہوئے ہیں ..ایک دن اتفاق سے آتے دیکه لیا تو تصدیق ہوئی کہ واقعی بالکل نوجوان ہیں!
ایک تو ان کی گلابی اردو اوپر سے پسندیدہ موضوع تقابل ادیان تها اور اس میں بهی خصوصا بہائی فرقے پر بیان کرتے کرتے بہت دور نکل جاتے. درس کے دوران اکثر اونگه سی لگ جاتی اور جب چونک کر اٹهتے تو ہم دونوں معنی خیز انداز میں مسکراتے کہ ابهی بہائی فرقے کا ہی ذکر چل رہا ہے !.وہ اپنے 12/13 سالہ علوم کا سارا خزانہ ہم دو چار لوگوں پر انڈیلنے میں مصروف تهے( مردانہ حصے میں بهی دو افراد نظر آئے تهے ) . افسوس سا ہوتا کہ اتنا اچها کورس ہورہا ہے اور گنتی کے چند لوگ مستفید ہورہے ہیں …ہاں کبهی کبهی جماعت کی کچھ اور خواتین بهی آجاتیں لیکن جس دن اختتامی درس اور 40 روزہ کورس کی تقریب اسناد تهی اس دن خواتین کا حصہ مکمل طور پر بهرا ہوا تها..ہم حیران تهے یہ کیا ماجرا ہے ! یقینا حلقہ خواتین کو بهرپور شرکت کی دعوت ہوگی! اس دن اتفاق سے بہن کی سسرال والے عیدی لے کر آنے والے تهے..
بهلے لوگ تهے ان کا پروگرام تها کہ ظہر کے بعد آئیں گے اور فورا ہی چلے جائیں گے مگر ہمارے والدین نے با اصرار افطار کی دعوت دے ڈالی ..چنانچہ ہمارا تقریب اسناد میں شرکت نہ کرنے کا امکان تها مگر یہ کیسے ممکن تها ؟ لہذا کسی طرح اپنی شرکت اور دعوت افطار دونوں سے بخیر و خوبی گزر گئے ..سر ٹیفکٹ کے ساته فی ظلال القرآن کی پہلی جلد بهی انعام میں ملی…الحمدللہ! اس موضوع سے الگ مگر چونکہ اسی کورس کے دوران کے کچه واقعات ہیں تو بیان کرنا ضروری ہے .کورس کے دوران روزانہ امی کی گفتگو سننے کو ملتی …. تم لوگ تهک ہار کر گهر آتی ہو اور نماز پڑه کر بستر میں گهس جاتی ہو !عید کے علاوہ چونکہ شادی کی تیاری بهی ان ہی دنوں ہونی تهی تو ان مخصوص حالات میں امی کی پریشانی بجا تهی. ان کو اطمینان دلایا کہ ہم کلاس سے واپسی پر شاپنگ کرتے ہوئے آئیں گے ..یہ نصف رمضان کا ذکر ہوگا. ارقم کےسامنے 99….کے نام سے ایک کهنڈر نما شاپنگ پلازہ تها!( نئی صدی 2000ء کی آمد کے باعث ہر چیز میں اسی کو نمایاں کیا جارہا تها ) .وہاں شاپنگ کا ارادہ کیا ..
سڑک پار کرنا ہمارے لیے ہمیشہ سے گهبراہٹ کی وجہ بنتا ہے لیکن بہن چهوٹی ہونے کے باوجود اس میں ماہر ہے لہذا اگر وہ ساته ہو تو مسئلہ نہیں تها ! یہ اور بات ہے کہ ان دنوں ٹریفک اتنا کم تها کہ ہم نے ٹہلتے ہوئے سڑک کراس کی اور وہاں داخل ہوگئے . یہاں الو بول رہے تهے.نہ سیلز بوائے( سیلز گرلز کا ان دنوں رواج نہیں تها) نہ کوئ رش ! رمضان کی دوپہر شاپنگ سنٹر میں شاید یہ ہی ماحول ہوتا ہو ورنہ اس سے پہلے عوامی مرکز ، امتیاز اور سیلیکٹ میں شاپنگ کا تجربہ تو یہ تها کہ آٹے اور گوشت سے لے کر نومولود کے سامان تک کی خریداری پر رش ہی نظر آیا تها . خیر وہاں کچه انوکهی سی چیزیں مل گئیں ..مثلا قرآن رکھنے کی رحل،جیولری باکس ، ہینڈ بیگ ……ایک قابل ذکر چیز جو یاد ہے مینی کیور اور پیڈی کیور kit جس میں ناخن گیر( nail cutter) کی اتنی ورائٹی تهی کہ ننهے بچے سے لے کر اونٹ تک کے ناخن کاٹے جاسکیں…اس شاپنگ نے جزوی طور پر امی کو خوش کیا تها مکمل رضا مندی کے لیے اب ہم واپسی پر سماما کا رخ کرتے ! خیبر شاپنگ کے برابر میں نیا شاپنگ سنٹر جس کا افتتاح بهی کچه ہی دنوں پہلے ہوا تها. ہم اس کے بهی اولین گاہکوں میں سے تهے. ……

اپنا تبصرہ بھیجیں