عشق حقیقی اورعشق مجازی کا لطف – اریبہ سموں




کسی نے انباکس میں سوال کیا کہ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ عشق حقیقی اور عشق مجازی کے لطف میں کیا فرق ہے؟؟ اکثر تو سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ان دونوں قسم کے عشق میں کیا فرق ہے ……. لیکن یہاں دونوں میں پائے جانے والے لطف کے فرق کا سوال ہے..
سب سے پہلے اس بات کو واضح کردوں کہ لوگ سمجھتے ہیں…… عشق محبت سے اوپر کی چیز ہے. ایسا نہیں ہے…… محبت ایک خالص جذبہ ہے اور اس کے بہت سے درجے ہیں، یوں کہہ لیں کہ stages ہیں.. امام ابن قیم رح کی کتاب دوائے شافی میں تمام درجے بیان کیے گئے ہیں. جس میں سے ایک درجہ عشق بھی ہے. تو یہ محبت سے آگے کی چیز نہیں بلکہ محبت کے اندر کی ہی ایک کیفیت ہے کہ جب انسان محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اس پہ ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جس میں وہ عشق کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ایسے سمجھ لیں جیسے کینسر ایک بیماری ہے اور اس کے مختلف اسٹیجز ہیں. اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں انسان کو 4th stage نام کی بیماری ہے بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ فلاں شخص کو کینسر کی چوتھی اسٹیج ہے..
حقیقی محبت یعنی کہ اللہ کی محبت کے لیے محبت کا لفظ ہی افضل ہے کیونکہ اللہ نے قرآن پاک میں کہیں بھی اپنے لیے عشق کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ لفظ محبت ہی استعمال ہوا اور اوپر بتائی ہوئی تعریف سے یہ واضح بھی ہوجاتا ہے کہ محبت عشق سے بہت اوپر کی چیز ہے عشق اس کے سامنے کچھ بھی نہیں …… اب اگر مجازی محبت اور حقیقی محبت کے لطف کے فرق کی بات کی جائے تو اس کا تعلق انسان کے قلب سے ہے.. دل ہی وہ مرکز ہے کہ جس سے تمام جذبات اور لطف محسوس کیے جاتے ہیں.. اور دل تخلیق کس نے کیا ہے؟؟ظاہر ہے اللہ رب اللعالمین نے.. اب آپ ایک بات سوچیں کہ ایک شخص اگر کوئی مشین بناتا ہے تو وہ اس کے ہر پرزے اور اس کے کام سے واقف ہوگا.. جب اس مشین میں کوئی خرابی ہوگی تو وہ شخص ہی بہتر طریقے ہے جانتا ہوگا کہ کونسا پرزہ کہاں لگنا ہے. کوئی دوسرا شخص ہاتھ ڈالے گا تو اس میں کوئ خرابی کر ڈالے گا..
یہی معاملہ ہم انسانوں کا اللہ رب کائنات کے ساتھ ہے. ہم لوگ انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں لطف بھی بہت ہوتا ہے…… انسان اگر محبت میں مبتلا ہوجائے تو وہ اپنے اردگرد کو بھول جاتا ہے، ہر وقت محبوب کا خیال ہی اس کو اپنےحصار میں لیے رکھتا ہے.. لیکن انسان کی محبت کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمارا محبوب ہمارے ہر جذبے سے آشنا ہو، میں اسے نہ بھی بتاؤں کہ میں پریشان ہوں وہ پھر بھی جان جائے میں لاکھ نخرے کروں، تاویلیں دوں کہ مجھے کچھ بھی نہیں ہوا وہ پھر بھی کہے کہ نہیں مجھے معلوم ہے کہ تم تکلیف میں ہو تم مجھے بتاو.. اور تو اور وہ میری اس پریشانی کو دور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو… اب آپ سوچیں کہ کیا کوئی بھی انسان ایسا ہوسکتا ہے جس میں یہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہوں؟؟ یقینا ایسا کوئی بھی نہیں ہوگا کوئی کتنا بھی خیال رکھنے والا ہو وہ آپ کے دل کا حال نہیں جان سکتا جب تک کہ آپ اسے خود نہ بتائیں…
اس کے برعکس حقیقی محبت کے لطف کی بات کریں تو یہ ایسا لطف ہے جو ایک دفعہ کسی نے محسوس کرلیا تو پھر اسے کبھی اس کے بغیر چین نہیں ملے گا.. مجازی محبت میں محبوب کی بے وفائی کا اور بچھڑ جانے کا خوف ہوتا ہے جبکہ حقیقی محبت ان چیزوں سے پاک ہوتی ہے.. اللہ نے ہمارا دل بنایا،محبت بھی دل سے ہی کی جاتی ہے، اب ہوگا یہ کہ آپ پریشان ہوں گے تو آپ کے محبوب کو ایک لمحے سے بھی فورا پتہ چل جائے گا.. نہ صرف وہ آپ کی پریشانی بھانپ لے گا بلکہ وہ اسے دور بھی کردے گا کیونکہ وہ ہی تو کرسکتا ہے.. اسی کے اختیار میں تو ہے…
میں دل میں ابھی کوئی بات سوچتی ہوں، تکلیف ابھی میرے دل کو چھوتی ہے اور وہ کسی آیت کے ذریعے مجھے سہارا دے دیتا ہے… بس یہی فرق ہے مجازی اور حقیقی محبت کے لطف میں….. امید ہے آپ کے سوال کا صحیح جواب آپ کو مل گیا ہوگا… واللہ اعلم

اپنا تبصرہ بھیجیں