شانِ سورۃ یوسف – اریبہ سموں




سورہ یوسف سکھاتی ہے کہ اللہ تعالی اگر کوئی کام انجام تک پہنچانا چاہے تو…… مخالف قوتیں بھی خود ہی اس کے حق میں کام کرنے میں لگ جاتی ہیں. جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں پھینکا توان لوگوں کا خیال تھا کہ اپنی طرف سے انہوں نے کوئی بڑا تیر مار کر حضرت یوسف علیہ السلام کا پتا صاف کردیا ہے……
لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ہونا یہی تھا، وہ لوگ یہ چال نہ بھی چلتے تو اللہ کو یہی منظور تھا……. حضرت یوسف علیہ السلام کو بلندی و عروج کی منازل تک پہنچنے کے لیے ان ہی راہوں سے گزرنا تھا. کنویں کی پستیوں میں اپنے چھوٹے بھائی کو بے حسی سے پھینکتے ہوئے ان بڑے بھائیوں نے سوچا بھی ہوگا کہ دراصل یہ پستیاں عظیم بلندیوں کی شروعات ہیں؟ عزیزِ مصر کی بیوی نے اس حسین نوجوان کو قید خانے بھجواتے ہوئے یہ سوچا ہوگا کہ کچھ ہی سال بعد یہی نوجوان اس تخت پر براجمان ہوگا جس پر آج اس کا شوہر موجود ہے…؟
سورہ یوسف بتاتی ہے کہ پستیاں وہ ہیں جو اللہ سے دور کریں بظاہر بھلے ہی وہ عالیشان محلات کیوں نہ ہوں، بلندیاں وہ ہیں جو اللہ سے قریب کریں پھر بھلے ہی وہ قید خانے نظر آرہے ہوں…… سورہ یوسف بتاتی ہے کہ سچ آخر فتح یاب ہوکر ہی رہتا ہے، صبر رنگ لاکر ہی رہتا ہے اور آزمائشیں ختم ہوہی جاتی ہیں…
جب حالات ناسازگار ہوں،ہر طرف سے گھیرا تنگ ہورہا ہو، سب کچھ غلط ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہو تو یاد رکھیں آپ کا اور یوسف کا رب ایک ہی ہے…

اپنا تبصرہ بھیجیں