تدبر … سورۃ التوبہ آیت 111 (1) – اریبہ سموں




اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اسکے) عوض میں ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے.. یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو قتل بھی کرتے ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں.. یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے.. اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے… (سورہ توبہ:111 )
ہم لوگ اکثر ہی سورہ توبہ کی یہ آیت سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں….. پہلے میرے ذہن میں عجیب ہی یہ الجھن رہتی تھی کہ اللہ تعالی تو اتنا مہربان ہے، وہ تو اپنے بندے سے اتنی محبت کرتا ہے…… پھر کیوں اس نے جنت کے لیے اتنا بڑا اور مشکل سودا رکھ دیا ہے.. …. ہم لوگوں کے لیے سب سے اہم چیزیں ہماری جان اور مال ہوتے ہیں نا اور یہی چیزیں دینا سب سے مشکل ہوتا ہے…… لیکن اللہ نے جنت کو پانےکے لیے یہی ایک لازمی شرط رکھ دی……. وہ کچھ نیک اعمال کے بدلے بھی تو ہمیں جنت دے سکتا تھا…… آج روٹین کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پہ دل ٹھہر گیا……. آگے ابھی کافی پڑھنا تھا لیکن دل نے کہا بس! آج یہیں ٹھہر جاؤ اور اسے سمجھو. جب تدبر کرنے بیٹھی تو سمجھ آیا کہ اللہ رب اللعالمین کتنا وسیع رحم کرنے والا ہے. چلیں آج اس آیت کو سمجھتے ہیں.
آیت شروع ہوتی ہے …….”بے شک اللہ نے خرید لیے ہیں مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں” ……. پہلے اتنے حصے کو سمجھتے ہیں. یہاں خریدنے کے لیے لفظ استعمال ہوا ہے …”اشتری” جس کو روٹ ورڈس کے لحاظ سے سمجھا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے “قیمت ادا کرکے کوئ چیز خریدنا” . یہاں پر آیت کو پڑھنے سے ہی معلوم ہورہا ہے کہ جان اور مال کو خریدنے کے لیے اللہ تعالی جنت کی قیمت ادا کر رہا ہے. اب ذرا ہم لوگ غور کریں. ہم جب کوئی سودا کرتے ہیں تو ہمیشہ یہ دیکھتے ہیں کہ جو چیز خرید رہے ہیں وہ سچ میں اس لائق ہو کہ اس پہ پیسے خرچ کیے جائیں. سو روپے کی چیز کو کبھی ہم ہزار روپے میں نہیں خریدتے کہ یہ تو گھاٹے کا سودا ہوگا…… پھر کیا ہماری جان اور مال اتنے قیمتی ہیں کہ ان کے بدلے جنت جیسی عظیم چیز دے دی جائے؟؟ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ ایک ٹافی خریدنے کے لیے ہم اپنی کھربوں روپے کی جائداد دے دیں…
یہیں پہ اللہ کی بے پایاں رحمت کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس نے تو ہمیں اتنی عظیم نعمت کے لیے محض اپنی جان اور مال دینے کا کہا ہے… اس آیت کا دوسرا پہلو دیکھیں تو اللہ تعالی پر اور زیادہ پیار آتا ہے.. ……مثال کے طور پر میرے والد صاحب میرے لیے ایک کتاب خرید کر لاتے ہیں اور وہ مجھے بغیر کسی قیمت کے وہ کتاب دے دیتے ہیں . پھر وہ مجھے کہتے ہیں کہ مجھے تمہاری یہ کتاب چاہیے اس کے بدلے میں تمہیں اتنی قیمت دوں گا جتنی تم چاہو……. میری تو عید ہی ہوجائے گی نا کہ میرا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور مفت میں اتنا سب کچھ مل رہا ہے . کتاب دی بھی والد نے اور واپس لیتے وقت اس کے بدلے اتنی قیمت دے رہے ہیں . یہی معاملہ ہمارا اللہ تعالی کے ساتھ ہے……. جان اور مال دیے بھی اس نے، اسی کا تو ہے نا سب کچھ اور اپنی ہی چیز کو واپس لیتے وقت وہ اپنی اتنی عظیم نعمت مفت میں دے دیتا ہے… یا اللہ تجھ سے زیادہ بھی کوئ رحم کر سکتا ہے بھلا… ہم انسان صرف اس ایک حصے کو سمجھ لیں تو ہمارا تو سر ہی سجدے سے نہ اٹھے… اب یہ دیکھیں کہ اس آیت میں لفظ استعمال ہوا ہے “مومنین” اس کے روٹ ورڈز ہیں “امن” جس کا مطلب ہے نفس کا مطمئن ہونا.. مطلب مومن وہ ہوا جس کا نفس مطمئن ہو.. اللہ نے یہ نہیں کہا کہ “مسلمان سے” بلکہ یہ کہا کہ مومن سے…
جو شخص اپنے مکمل اطمینان کے ساتھ اپنی جان اور مال اللہ کے حوالے کردے گا وہی جنت کا حقدار ہوگا، یہ نہیں کہ صدقہ کرتے وقت دل بیٹھا جارہا ہو کہ ہائے میرا تو مال ہی کم ہوجائے گا.. جہاد پہ جانے کی بات آئے تو بجھے دل کے ساتھ کہےکہ ٹھیک ہے میں بھی حصہ لےلوں گا.. بلکہ مومن وہ ہوتا ہے جو ہمہ وقت اللہ کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کرنے کے لیے تیار رہے… اللہ ہم سب کو مومنین میں شامل کرے آمین..(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں