تدبر…سورۃ التوبہ آیت 111 (2) – اریبہ سموں




شروع اللہ کے بابرکت نام سے جو وسیع رحم والا ہے……..
پچھلی والی آیت کو آگے بڑھاتے ہیں……. “یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں” پیچھے مومنین کا ذکر ہوا تھا کہ ان سے اللہ نے ان کی جان اور مال کے بدلے جنت کا سودا کرلیا ہے…… اب مومنین کے رویے پہ بات ہورہی ہے کہ جن لوگوں کے نفس مطمئن ہوتے ہیں ان لوگوں کا طرز عمل کیا ہوگا.
جو مومن ہوتے ہیں اور اپنی جانوں کا سودا اللہ سے کرچکے ہوتے ہیں. اس کے بعد انہیں کیسا خوف مارے جانے کا؟؟ وہ جب اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو صرف یہ سوچ کے نہیں جاتے کہ ہم دوسروں کو مار کے آئیں گے لیکن جب اپنی موت کا خیال آئے تو ان کا دل ڈگمگانے لگے کہ نہیں ہم نہ مریں. جب سودا کرلیا ہے تو اب وہ ثابت قدم رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اس تیاری کے ساتھ کے اللہ کے نافرمانوں کو قتل کریں گے بھی اور اگر اس کی راہ میں موت بھی آگئی تو وہ بھی قبول ہے. یہاں لفظ استعمال ہوا ہے “سبیل اللہ” سبیل کا مطلب ہوتا ہے “ایسا راستہ جس پہ سہولت کے ساتھ چلا جاسکے” ہم لوگوں کو اکثر لگتا ہے کہ اللہ کی راہ بہت کٹھن ہے، بہت مشکل ہے.. اللہ یہ کہہ بھی نہیں رہا کہ یہ بہت آسان ہے بلکہ یہاں بات “سہولت” کی ہورہی ہے. سہولت ہوتی ہے کسی کو آسانی فراہم کرنا..
ہاں اللہ کی راہ شاید ہمیشہ بہت آسان نہ ہو، آپ کو بہت مشکلات جھیلنی پڑیں ، حق بات کہنے کی وجہ سے زمانے سے کٹنا پڑے لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس مشکل میں بھی اللہ کوئی نہ کوئی ایسی آسانی فراہم کردے گا جو آپ کو حوصلہ دے گی. اور یہی راہ سہولت کی راہ ہے.. تو بس اس راہ پہ چلتے رہیں پھر چاہے جان ہی چلی جائے.. کیونکہ اگر جان چلی بھی گئ تب بھی فائدہ ہی فائدہ ہے جنت کی صورت…
جاری ہے……

اپنا تبصرہ بھیجیں