تدبر…سورۃ التوبہ آیت 111 (3) – اریبہ سموں




اللہ کے نام سے شروع جو وسیع رحم والا ہے…
سورہ توبہ آیت 111 کا اگلا حصہ دیکھتے ہیں…… اللہ تعالی نے مومنین کا طرز عمل بتانے کے بعد کہا ” یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے اور اسے پورا کرنا اسے ضرور ہے..” کون سا وعدہ سچا ہے؟؟ کس وعدے کا ذکر ہورہا ہے یہاں؟؟
اللہ نے آیت کے شروع میں وہ وعدہ بتادیا تھا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنی جانیں اور اپنے مال بیچ دیتے ہیں اور پھر اس پہ ثابت قدم ہوجاتے ہیں تو اللہ ان کو اس کے بدلے میں جنت عطا کرتا ہے… اب اللہ کہتا ہے کہ یہ وعدہ سچا ہے یہاں الفاظ استعمال ہوے ہیں “وعدا علیہ حقا” اس کے ذمے سچا وعدہ ہے، حق پر مبنی وعدہ ہے. حق کیا ہوتا ہے؟؟ کسی چیز کو اس کی درست جگہ مہیا کرنا اس کا حق ہے.دستانے ہاتھوں میں پہنے جاتے ہیں تو ان کو ہاتھوں میں ہی پہنا جائے یہ ان کا حق ہے اگر آپ نے پیروں میں پہنے تو ان کے ساتھ ظلم کیا . اسی طرح اللہ کے لیے حق یہی ہے کہ وہ اپنی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کو جنت دے اگر وہ نہیں دے گا تو ظلم کرے گا نعوذباللہ…… اور اللہ تو ظلم نہیں کرتا ہے نا.. اس آیت سے ہمیں کتنا حوصلہ بھی ملتا ہے نا.
اگر ہم تھک گئے ہیں، اب برداشت ختم ہورہی ہے، لوگوں کے رویے اور اس راہ کی مشکلیں ہمیں مایوس کررہی ہیں کہ نہ جانے انجام اچھا ہوگا بھی کہ نہیں تو ایک بار اس آیت کو پڑھیں اور اپنے ایمان کو تازہ کرلیں کیونکہ اللہ جو کہتا ہے سچ کہتا ہے اگر اس نے کہا ہے کہ محنت کے بدلے وہ مجھے جنت دے گا تو وہ ضرور دے گا.. اس وعدے کی سچائ اور پختگی کا اندازہ اس بات سے ہی کرلیں کہ اللہ نے کہا ہے یہ تورات،انجیل اور قرآن تمام کتابوں میں کیا گیا وعدہ ہے یہ کوئ معمولی وعدہ نہیں… اس کے بعد اللہ کہتا ہے کہ “اور کون ہے پورا کرنے والا اپنے وعدے کو اللہ سے زیادہ” ……. پیچھے لفظ استعمال ہوا تھا “وعدا” یہاں ہے “بعھدہ” عہد کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کی مکمل نگہداشت اور خبرگیری کرنا یعنی کہ عہد اس وعدے کو کہا جارہا ہے جس کی بار بار خبرگیری کی جائے حفاظت کی جائے.. عہد کے ساتھ لفظ ہے “اوفی” جس کا مطلب ہے مکمل اور پوری چیز ……. ہر اس لفظ کا ذکر کیا گیا ہے جو کمال پختگی کو واضح کررہا ہے .. اللہ تعالی کا وعدہ ہم انسانوں کے وعدوں کی طرح نہیں ہے کہ وعدہ کیا اور بھول گئے کہ کوئ وعدہ کیا بھی تھا ہم نے کبھی.. بلکہ اس کا وعدہ ایسا ہے کہ جس کی وہ ہر لمحہ نگہداشت کرتا ہے جس کا ہر وقت خیال رکھتا ہے..
اس سے ایک بات یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ اللہ ہر وقت ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھتا ہے جو اس کے لیے اپنی جانیں گھلا دیتے ہیں وہ انہیں بھولتا نہیں ہے.. وہ دیکھتا رہتا ہے کہ میرا بندہ میری راہ میں کتنے دکھ اٹھا رہا ہے وہ کتنی مشکلیں اور تکلیفیں سہنے کے باوجود میری رضا کی خاطر ثابت قدم ہے..اور پھر وہ انہیں قدم قدم پر سہارا دیتا ہے… اس لیے آج سے ایک نیا عزم باندھلیں کہ اب مایوس نہیں ہونا کیونکہ وہ ہماری خبرگیری کررہا ہے.. دور آسمانوں کے پار سے یہاں تک،زمین کے اس حصے تک ہم اس کی نظر میں ہیں ہم اس کی امان میں ہیں الحمدللہ…
جاری ہے……..

اپنا تبصرہ بھیجیں