تدبر…سورۃ التوبہ آیت 111 (4) – اریبہ سموں




اللہ کے نام سے شروع جو کمال رحمتوں والا ہے…
اللہ تعالی اپنے وعدے کی پختگی کا یقین دلانے کے بعد کہتا ہے ” تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو، اور یہی بڑی کامیابی ہے” ……. لفظ استعمال ہوا ہے “فاستبشرو” جس کے روٹ ورڈز ب ش ر ہیں… اس کا مطلب ہوتا ہے انسان کے جلد کے اوپر کی سطح .. اللہ کہتا ہے خوشیاں مناو اپنے سودے پر یعنی ایسی خوشی جو چہرے سے پھوٹتی ہوئ نظر آرہی ہو.
جیسے خوشی میں انسان کا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے نا بالکل ایسی ہی خوشی یعنی اگر تم نے اللہ کے ساتھ سودا کیا ہے تو یقین رکھو کہ وہ کامیاب رہے گا اس لیے اپنی جان اور مال کے چلے جانے پہ دل چھوٹا نہ کرو بلکہ شکر کرو اور خوش رہو……. اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ اتنا منافع والا سودا کریں گے نا ان کو روز محشر ایسی ہی خوشی حاصل ہوگی کہ انہیں دیکھ کر پتہ چل رہا ہوگا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ جو سودا کیا تھا وہ بالکل گھاٹے کا نہیں تھا… اور پھر کوئی بھی رنج وہاں باقی نہ رہے گا.. “اور یہی بڑی کامیابی ہے” کامیابی کے لیے یہاں لفظ استعمال ہوا ہے “فوز” جس کا مطلب ہے سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرنا… غور کریں، ہم دنیا میں جتنی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں ان میں خیر ہو بھی تو سلامتی نہیں ہوا کرتی……. ایک خوف ہمہ وقت ہمیں اپنے گھیرے میں لیے رکھتا ہے کہ کہیں یہ چیز مجھ سے چھن نہ جائے،یا میری زیادہ دولت سے لوگ حسد کرکے میری جان کے دشمن ہی نہ بن جائیں.
آخرت کی کامیابی ان تمام قسم کے خوف سے پاک ہوگی جنت ملے گی ایسی عظیم اور خوبصورت جنت کہ جس کو کبھی بھی زوال نہیں… اس ایک آیت میں کتنا کچھ سیکھا ہم نے.. جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنی جان اور مال کا سودا کرتے ہیں ان کے لیے اتنی عظیم کامیابی ہے،سکون ہے،راحت ہے… اللہ تعالی ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرلے آمین… تمام تعریفوں کے لائق اللہ ہی کی ذات ہے جس نے آیت مکمل کروائی ….الحمدللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں