اخوان کے رہنما محمد البلتاجی کا خط اپنی سترہ سالہ شہیدہ بیٹی اسماء البلتاجی کے نام ۔




اخوان کے رہنما محمد البلتاجی کا خط اپنی سترہ سالہ شہیدہ بیٹی اسماء البلتاجی کے نام ۔
(جن کو مصری فوج کے نشانے بازوں نے ٹارگٹ کرکے شہید کیا تھا)
جان پدر اور ایک محترم استاد ! میں تمہیں اللہ حافظ نہیں کہوں گا کیونکہ بہت جلد ہم ملنے والے ہیں ۔ بہت جلد جان پدر ،بہت جلد۔ انشاءاللہ
جان پدر ! تم نے ایک سعادت ، شرف ، عزت و وقار والی زندگی گزاری ۔ ہر ظلم اور جبر سے بغاوت اور آزادی سے محبت والی زندگی ۔ تم نے اس قوم کے لئے ترقی کے نئے افق تلاش کرکے ، اس قوم کی تعمیر نو کے ذریعے ، تہذ یبوں میں اسکا جائز مقام دلانے کی کوششوں میں ایک خاموش مجاہدہ کا کردار ادا کیا .
تم کبھی بھی ان جذبوں سے مغلوب نہ ہوئیں جو کہ تمھاری عمر کے نوجوانوں کو لاحق ہوتے ہیں ۔ اگرچہ کہ روایتی تعلیم تمھاری دلچسپی اور خواہشات کے جذبے کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہ تھی لیکن پھر بھی تم ہمیشہ اپنی کلاس میں اول آتیں.
جان پدر ! مجھے تمھاری اس مختصر زندگی میں تمھاری خوبصورت معیت میسر نہ آسکی، کیونکہ میری مصروفیت مجھے اس کی جازت نہ دے سکی۔ (جان پدر ! تمھیں یاد تو ہوگا) آخری بار جب ہم رابعہ العدویہ میں اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے تو تم نے مجھ سے پیار بھرے لہجے میں کہا تھا  ” بابا جانی ! آپ ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی مصروف ہوتے ہیں”   یاد ہے میں نے کہا تھا    ” یہ زندگی شائد اس بات کے لیے کافی نہیں کہ ہم ایکدوسرے کی معیت کا لطف اٹھاسکیں ، لیکن میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ ہم جنت میں اکھٹے ہوجائیں تا کہ ہم جنت میں ایک دوسرےکی معیت سے لطف اندوز ہو سکیں ”
جان پدر ! تمھاری شہادت سے صرف دودن قبل میں نے تمھیں خواب میں سفید عروسی جوڑے میں ملبوس دیکھا ، تم انتہائی خوبصورت لگ رہی تھیں ۔میں نے شفقت سے دریافت کیا ً کیا آج تمھاری شب عروسی ہے؟ً   تم نے جواب دیا   ً نہیں یہ سہہ پہر میں ہوگی شام میں نہیںً  ۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ تمھیں بدھ کے دن  پہر میں شہید کردیا گیا ہے تو مجھے احساس ہوا کہ تم نے مجھے خواب میں کیا بتایا تھا ۔
مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی نے تمھاری شہادت کو قبول فرمالیا ہے ۔ تمھاری شہادت نے میرے اس عزم و گمان میں اضافہ کردیا ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن ہی باطل پر! مجھے اس بات کی سخت تکلیف ہے کہ میں تمھیں اپنے رب کی طرف جاتے ہوئے اللہ حافظ نہ کہہ سکا , تمھاری خوبصورت پیشانی پر شفقت بھرا پدرانہ بوسہ نہ دے سکا ، اور اپنی شہید بیٹی کا جنازہ پڑھانے کا اعزاز حاصل نہ کر سکا۔
جان پدر ! میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو اپنی جان جانے سے خوفزدہ تھا اور نہ ہی کسی بھی ظالمانہ قید سے ، بلکہ اس پیغام کو قریہ قریہ گلی گلی پھیلانے کیلئے ، جس کیلئے تم نے اپنی جان قربان کی ،مکمل فتح کیلئے، تکمیل انقلاب کیلئے اور اس کےارفع و اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے ۔
میری جان ! تمھاری روح ان ظالموں ، جابروں اورغداروں کی مزاحمت کرتے ھوئے ارفع و اعلی درجات پر فائز ہوچکی ہے ۔ غدارانہ گولی نے تمھارا پاکیزہ بدن چھلنی کردیا ۔ کیا ہی باعزم و پاکیزہ روح پائی تم نے ۔ مجھے یقین محکم ہے کہ اللہ رب العزت نے تمھیں اس مقام و مرتبے کے لیے اس لیے چنا کہ تم اللہ کے ساتھ مخلص تھیں ۔
جان پدر اور ایک معزز استاد ! میں آخر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ میں تمھیں اللہ حافظ نہیں کہہ رہا بلکہ مبارکباد دے رہا ہوں ہم بہت جلد اپنے محبوب پیغمبرﷺ  اور ان کے صحابہؒ کی معیت میں جنت میں اکھٹے ہونے والے ہیں ۔ جہاں ہماری، ایک دوسرے کیساتھ اور اپنے دیگر پیاروں کے ساتھ رہنے کی ، ان کی صحبت سے لطف اندوزہونے کی خواہش پوری ہونے والی ہے انشاءاللہ
آپ کا والد محمد البلتاجی

4 تبصرے “اخوان کے رہنما محمد البلتاجی کا خط اپنی سترہ سالہ شہیدہ بیٹی اسماء البلتاجی کے نام ۔

  1. اخوان کی ہر قربانی الله کی زمین پر الله کے نظام کے قیام کے لئے ہنے الله ان کو استقامت دے.الله کی قسم اخوانیوں جب تمہاری طرف دیکھتے ہیں تو کلیجے شق ہو جاتے ہیں اور آنکھیں برسنے کو بے قرار،

  2. کچھ لوگوں کی قربانیاں اکثریت کو فاایدے کے ہوتی ہیں بظاہر مرنے والے کو موت کے سوا کیا ملتا ہے مگر اس کے پیش نظر ایک بڑا مقصد اور ایک عطیم نظریہ ہوتا ہے جو جان کی قربانی دے کر اس کو امر کر دیتا ہے جان کی قربانی کچھ کے نزدیک تو بظاہر ایک واقعہ ہو مگر یہقسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں