چچا میاں کی کہانی ، ان کی اپنی زبانی – سیدہ ابیحہ مریم




چچا میاں کو کراچی سے آۓ ہوۓ صرف دو دن ہی ہوۓ تھے. ویسے تو وہ ابو جان اور پھوپھو جان کے چچا تھے لیکن اب بچہ بچہ انہیں چچا میاں کہہ کر ہی پکارتا تھا. آج جب ان کی تھکن مکمل طور پر اتر گئی تو میرے کہنے پر روحین آپی اور ارحم بھیا کھانے کے بعد چچا میاں کے کمرے کی جانب بڑھے.
ان دو شخصیات کو بھیجنے کا مقصد ایک تو یہ تھا کہ عمر میں ہم سب کزنز سے بڑے تھے اور دوسرا یہ کہ دونوں پچھلے ہی ہفتے کراچی سے ہو کر آۓ تھے اور کئی دن چچا میاں کے گھر گزار چکے تھے . خیر …….. ہوا کچھ یوں کہ یہاں چچا میاں راضی ہوۓ اور وہاں ہم سب بڑے کمرے میں جمع …….. ہم سب سے حال چال دریافت کرنے کے بعد وچچا میاں یوں گویا ہوۓ:
“یوں تو ہم محلے بھر میں شریف اور معصوم, مشہور تھے لیکن ہمیں اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ ہم اس قدر بے وقوف بھی ہیں. یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم اپنے لڑکپن میں تھے یا یوں کہہ لو کہ … وہ … تین ایج کا زمانہ. .. ” ہم سب جو ہمہ تن گوش بیٹھے تھے ، ٹین ایج کو تین ایج کہنے پر مسکرا اٹھے.
“ہاں تو بچوں یہ ہمارا معمول تھا کہ روز اپنے ایک دوست کے ساتھ مدرسے آتے جاتے تھے . ” انہوں نے بات کو آگے بڑھایا، “ایسا ہی ایک دن تھا جب ہم مدرسے سے واپس آ رہے تھے . گھر سے دو گلیوں پہلے تھے اور ہم اپنی شرافت کا اظہار جھکی ہوئی نظروں سے کر رہے تھے اور خاموشی سے سفر طے کر رہے تھے . جب ایک زنانہ آواز ہمارے کانوں سے ٹکڑائی . ہم ابھی جھکی نظروں کے ساتھ سمت پہچاننے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ یحییٰ ہعنی ہمارے دوست نے کہنی مار کر گلی کے کونے میں کھڑی دو لڑکیوں کی جانب آنکھوں سے اشارہ کیا . ہم بوکھلا گئے . ایسا ہمارے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا تھا . وہ دونوں پول کے ساتھ بندھی ہوئی سفید بکری کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھیں . ان میں سے ایک بولی ……. سنیں بھائی! آپ براۓ مہربانی اس بکری کی رسّی کھول دیں گے؟؟ یہ منظر دیکھ کے یہیٰ نے تو میدان چھوڑنا ہی مناسب سمجھا اور وہ نو دو گیارہ ہو گیا.
مارے بوکھلاہٹ کے ہمیں کچھ سجھائی نہ دیا اور ہم کپکپانا شروع ہو گئے . اسی دوران دوبارہ لڑکی کی آواز سماعت سے ٹکڑائی تو ایک بار پھر ہم لرز اٹھے اور مدد کا جذبہ دل میں لیئے بدحواسی کے عالم میں آگے بڑھے اور پھر ہوا کچھ یوں کہ ہم نے بکری کی رسّی کا وہ حصہ جو پول سے بندھا تھا . کھولنے کے بجائے اس کی گردن سے رسّی کھول دی …….. بس پھر کیا تھا بکری کو جیسے ہی آزادی ملی وہ بھاگنے لگی اور ہم شرمندگی کے باعث زمین میں دھنستے چلے گئے . اور پھر چند ساعتوں بعد منظر یہ تھا کہ بکری آگے آگے, پیچھے لڑکیاں اور درمیان میں ہم بھاگے چلے جا رہے تھے . ” چچا میاں کی بات ختم ہونے سے قبل ہی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا تھا . منیب کے قہقہے سب سے اونچے تھے لیکن جب اس سے بھی زیادہ اونچا قہقہہ سنائی دیا تو میں نے بے ساختہ پیچھے مڑ کے دیکھا جہاں ابو جان ، امی ، چاچو اور دادی سب اس واقعے سے لطف اندوز ہو رہے تھے.
پیچھے سے چاچی جب کافی لے کر اندر آئیں تو سب اس کی جانب متوجہ ہو گئے لیکن میں اس اثناء میں بھی چچا میاں سے اگلی کہانی کا وعدہ لینا نہیں بھولی .

اپنا تبصرہ بھیجیں