چاچا پاکستانی – شہلا خضر




شام کے چار بجتے ہی غبارے والےچاچا خراماں خراماں چلتے فیملی پارک میں نمودار ہوجاتے ۔ ان کا حقیقی نام تو کسی کو معلوم نہ تھا ، پر بچّوں نے انہیں ’’چاچا غبارا ‘‘ کا نام دے دیا تھا ۔ فیملی پارک کے اطراف اپارٹمنٹس قائم تھے ۔ ان کے تمام رہائشی قریبا ً روزانہ ہی وہاں جاتے اور بچّے تو شام ہوتے ہی پارک میںڈیرہ جما لیتے تھے۔ چاچا غبارہ ہر دل عزیز شخصیت تھے ۔ وہ غریب ضرور تھے، لیکن ہمیشہ صاف ستھرے کپڑے پہنتے ، اعلیٰ اخلاق کے مالک ، انتہائی شفیق انسان تھے ۔
وہ پہلی ہی ملاقات میں ہر کسی کو اپنا گرویدہ کر لیتے تھے ، ان سے ملنے والا کوئی شخص اُن کے اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پاتا ۔وہ اتنے ذمّے دار تھے کہ نہ صرف پارک میں آنے والے تمام بچّوں کا خیال رکھتے ،بلکہ اگر کوئی بچّہ اِدھر اُدھر نکل جاتا، تو فوراً اس کے والدین کو اطلاع بھی دیتے ، یہاں تک کہ بچّوں کی بال تک تلاش کرکے انہیں سونپتے۔ چاچا کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ ہر سال 14 اگست ، 23 مارچ اور 25دسمبر کو پارک میں آنے والے تمام بچّوں میں مفت غبارے ، جھنڈیاں اور ٹافیاں تقسیم کرتے۔
ایک دفعہ کچھ یوں ہوا کہ بلا ناغہ پارک آنے والے ’’چاچا غبارا‘‘ اچانک کئی روز پارک نہیں آئے ۔ ایک دو دن تو سب نے صبر کیا، لیکن دن گزرنے کے ساتھ بچّوں اور پارک میں باقاعدگی سے آنے والےبزرگوں میں تشویش کی لہر دَوڑ گئی۔پھر محلّے کے کچھ نوجوانوں نے پارک انتظامیہ سے چاچا کا نام اور گھر کا پتا معلوم کیا ، اُن کا نام شرف الدّین تھا ۔ یوں سب نے ان کے گھر جانے کا پروگرام بنایا ، لیکن پارک انتظامیہ نے ایک نوجوان، اکرم اور کمیٹی ممبر ، صدّیق صاحب کو ان کے گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ وہ دونوںمذکورہ پتے پر پہنچ کر انتہائی حیران رہ گئے کہ چاچا کا گھر تو بے حد خوب صُورت اوربڑاتھا۔ خیر، گھنٹی بجانے پرچوکیدار باہر آیا، جب انہوں نے شر ف الدّین چاچا کے بارے میں پوچھا تو وہ انہیں اندر لے گیا۔
بنگلے میں ایک جانب شان دار گاڑی کھڑی تھی ، تو مرکزی دروازے سے دائیں جانب سرسبز وشاداب باغیچہ تھا ۔ لیکن بنگلے کی چار دیواری ہی میں علیحدہ سےدوکمرےبنے ہوئےتھے ، جن کی حالت کچّے مکان کی سی تھی ۔ چوکیدار نےکمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ، تو اندر سے چاچا باہر آئے ، وہ بہت لاغر اور بیمار لگ رہے تھے ۔اکرم اورصدّیق صاحب کو دیکھتے ہی ان کا چہرہ کِھل اُٹھااورپُر تپاک انداز میں ان سے بغل گیر ہوتے ہوئے اندر آنے کو کہا۔ کمرے کی دیواروں پر قائد ِاعظم ، علّامہ اقبال اور دیگر قومی رہنماؤں کی تصاویر آویزاں تھیں ۔ چاچا نے بتایا کہ تیز بخار کی وجہ سے وہ پارک نہیںآرہےتھے، لیکن اب ان کی طبیعت بہتر ہے۔ اکرم اور صدّیق صاحب نےچاچا شرف الدّین کو بتایا کہ سب محلّے والے، بالخصوص بچّے انہیں بہت یاد کر رہے ہیںاور ان کے لیے فکر مند ہیں، تو وہ آب دیدہ ہو گئے۔
واپس آنے سے قبل اکرم نے بالآخر چاچا سے دریافت کر ہی لیا کہ وہ کس کے گھرمیں رہتے ہیں ، توچاچا نے کہا ’’مَیں جانتا ہوں کہ آپ کے دل میں بہت سے سوال ہوں گے ۔مگر مَیں ان کے جواب دینے سےقبل ایک کہانی سنانا چاہوں گا۔ میرے آباو اجداد کاتعلق جالندھر سے ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت میری عُمر آٹھ برس تھی۔مجھے یاد ہے کہ ہم سب ، ہندوسکھ اور مسلمان مِل جُل کر بھائیوں کی طرح رہتے ۔ایک ساتھ ہنستے بولتے، تہوار مناتے، اسکول جاتے، کھیلتے کودتے تھے۔ مگر جیسے ہی تقسیمِ ہند کا اعلان ہوا ، تو نہ جانے صدیوں پرانی محبّت یک دم کہاں کھو گئی، برس ہا برس سے ایک ساتھ رہنے والے، ساتھ کھانا کھانے والے جانی دشمن بن گئے۔
مُلک کی سرحدیں کیا تقسیم ہوئیں ،دل بھی تقسیم ہو گئے۔ ہندوبلوائیوں نے میری نظروں کے سامنے میرے والد ین اور چھوٹے بھائی بہن کو بے رحمی سے قتل کر دیا ۔مجھ پر ان ظالموں کی نظر نہ پڑی اور مَیں بچے کُھچے افراد کے ساتھ پاکستان آگیا۔یہاں مہاجرین ہی میں سے ایک بے اولاد جوڑے نے مجھے اپنا بیٹا بنا لیا اور میری تعلیم و تربیت ، پرورش کی۔مجھے اس پاک وطن، سوہنی دھرتی سے اس لیے بھی بے حد محبّت ہے کہ مجھے آزادی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہے، مَیں نے یہ مُلک بنتے دیکھا ہے، اس مٹّی کی بنیادوں میں میرے اپنوں کا لہو شامل ہے، مَیںنے اپنی ماں قربان کرکے یہ مادرِ گیتی حاصل کی ہے۔ یہی حبّ الوطنی مَیں نے اپنے بچّوں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی، کبھی حرام نہ کھلایا اورہمیشہ ایمان داری ، سچائی کی راہ پر چلنے کا درس دیا۔
لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک بیٹا اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان گیا، تو اس نے وہیں شادی کر لی اور پھر لَوٹ کر کبھی نہ آیا۔ دوسرا بیٹا بھی بہت ذہین اور محنتی تھا ۔مجھے لگا، شاید یہ میرے بڑھاپے کا سہارا بنے گا، اپنے مُلک و قوم کا نام روشن کرے گا۔ اس نے دن رات ایک کرکے پڑھائی کی اورسی ایس ایس کا امتحان پاس کرلیا۔ پھر اس کی تعیناتی انکم ٹیکس کے محکمے میں ہو گئی،مگر بجائے مُلک کی خدمت کرنے کے اس نے بڑے عہدے پر پہنچ کر میری دی ہوئی تربیت تک فراموش کر دی ۔یہ عالی شان گھر اُس کی محنت کی نہیں، رشوت خوری اور بے ایمانی سے کمائی گئی دولت کا نتیجہ ہے۔اسی لیے مَیں اس میں رہنا پسند نہیں کرتا ۔ اس گھر کے در و دیوار پر مجھے اپنے والدین ، بھائی بہن اور قیامِ پاکستان کے لیے خون بہانے والے ہزاروں لوگوں کے اداس چہرے نظر آتے ہیں۔
جیسے وہ روتے ہوئےمجھ سے پوچھ رہے ہوں کہ ’’کیا یہی ہماری قربانیوں کا صلہ ہے؟کیا اس لیے ہم نے اپنی جانیں قربان کی تھیں؟ ہم نے ایسے پاکستان کی آرزو تو نہیں کی تھی۔ ‘‘جس وطن، سر زمین کو حاصل کرنے کے لیےمَیں اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا، آج میرا بیٹا اُسی مٹّی سے بے وفائی کر رہا ہے، چند پیسوں ، نام نہاد عزّت کی خاطر وہ ایمان کا سودا کرتا ہے ۔میری بہو اور پوتے پوتیاں مجھے نفسیاتی مریض سمجھتے اور مجھ سے دُور رہتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ شاید مَیں سٹھیا گیا ہوں یا ان کی خوشیوں سے جلتا ہوں۔پر وہ کیا جانیں کہ میرے ان دو کمروں میں کتنا سکون ہے۔میرے نزدیک محنت کی روکھی سوکھی ، حرام کے تر نوالوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔میرا بیٹا جانتا ہے کہ مَیں نفسیاتی مریض نہیں، وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے،مجھے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے منّت سماجت بھی کرتا ہے، مگر میرا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر ایمان داری اپنا لے، تبھی مَیں اس کی بات مانوں گا…‘‘
شرف الدّین چاچا کی بات ختم ہو ئی تو اکرم اور صدیق صاحب حیرانی سے ان کی بھیگی آنکھیں دیکھ رہے تھے کہ آج کے دَور میں بھی ایسے فرشتہ صفت، محبّ ِ وطن لوگ موجودہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی روپے پیسے کی چمک دمک سے مرعوب نہ ہو،آج ان کی نظروں میں شرف الدّین چاچا کا قد مزید بڑھ گیا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد دونوں نے چاچا سے اجازت لی اور وہاں سے اُٹھ آئے۔ واپس آتے ہوئے دونوں یہی سوچ رہے تھے کہ اتنی تگ دو، مشقّت اورقربانیوں کے بعد حاصل ہونے والے مُلک کا ہم سب نے کیا حال کر دیا ہے۔ نہ اس کے وسائل کی کوئی قدر کی،نہ آزادی کی۔ ‘‘
چاچا غباراچند دن بعد دوبارہ با قاعدگی سے پارک آنے لگے ۔ سب لوگوں نے خوب جوش و خروش سے ان کا استقبال کی ا، پر اب بچّے انہیںچاچا غبارا نہیں، چاچا پاکستانی کہتے ہیںاور روزانہ ان سےقیامِ پاکستان کی کہانیاں سُنتےہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں