تجھ سے پہلے بھی تھے جو نبھاتے رہے – رملہ کامران




ہر طرف دھواں اور گرد کا غبار تھا دشمن تابر توڑ حملے کر رہے تھے۔ ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ تھی مگر دشمن کی ایک نہ چل سکی آگ وخون کی بارش کے باوجود بھی وطن کے جانبازوں نے یہاں کا دفاع ایسا مضبوط کیا کہ دشمن اس کے قریب بھی نہ بھٹک سکا سرحد کے قریب موجود مورچوں میں بھی سپاہی الڑٹ بیٹھے تھے .
مورچوں پر لگے اسنائپرز دشمن پر گولیاں برسا رہے تھے ان کو چلانے والے ہاتھوں میں گویا کوئی ایسی قوت موجود تھی کہ گولیاں آگ و خون کی مانند دشمنوں کے سینوں میں اتر رہی تھی دفعتاً میجر نے تھمنے کا اشارہ کیا کیونکہ بھارتی ان کے مضبوط دفاع کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے تھے اس نے اسنائیپر پر سے اپنے دھول میں اٹے ہوئے ہاتھ ہٹائے اور اپنی شل ہوتی انگلیوں کو سہلایا گویا انہیں آرام دینا چاہا پھر بائیں جانب مڑ کر احمد کو دیکھا وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا اٹھے اس مسکراہٹ میں دشمن پر قابو پانے والا اطمینان و فخر شامل تھا ’’یار یہ بزدل تو آدھا گھنٹہ بھی ہمارے سامنے نہ ٹک سکے دو منٹ میں دم دبا کر بھاگ گئے‘‘
اسلم نے اس کی بات پر مسکرا کر سامنے اٹھتے دھوئیں کو دیکھا اور مڑ کے بولا ’’ پاکستانی فوج سے ٹکر لینے کا یہی انجام ہوتا ہے‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ پھر بھی یار ابھی ہمیں بہت سے میدان مارنے باقی ہیں۔‘‘ ۔ احمد نے گویا اسے یاد دلایا ۔ ’’ انشاءاللہ جس طرح ہم نے ابھی ان کو بھگایا ہے اس طرح اگر یہ واپس بھی آئے تو ہم انہیں بد ترین شکست سے دوچار کریں گے ‘‘۔ وہ اپنے پورے عزم وحوصلے سے بولا۔ کالا دھواں ہنوز چاروں طرف پھیلا ہوا تھا ۔ سب کے چہرے مٹی میں اٹے اور گرد آلود ہونے کے باوجود ایک مطمئن مسکراہٹ سے لبریز تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھارتی فوج نے پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی شب میں اپنی روایتی مکاری، عیاری اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی کا سہارا لیتے ہوئے لاہور پر حملہ کر دیا لیکن وہاں پہ موجود میجر کی پلٹون نے پاکستان کا بھرپور دفاع کیا اور اب ان کی پلٹون جس میں اسلم سمیت بہت سے بہادر جوان شامل تھے سیالکوٹ کی طرف گامزن تھی کیونکہ وہاں پہ دشمن کی پیش قدمی کے آثار تھے.
ہر طرف ہلچل مچی ہوئی تھی مریضوں کے درد سے کراہنے ، آہ و بکا اور رونے دھونے کی آوازوں سے پورے ہسپتال میں ایک شور برپا تھا ۔ خون کی ایک مخصوص بو نے پورے ماحول کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ کئی زخمی لوگ گمروں سے باہر اسٹریچر پہ پڑے درد سے کراہ رہے تھے۔ وارڈز بھر چکے تھے۔ ملک کے تمام ہسپتالوں کا یہی حال تھا۔ ان تمام شوروں میں بھی جذبوں کو جواں اور لہو کو گرمائے رکھنے والے ملی نغمے زخمیوں اور وہاں پہ موجود بے حال لوگوں کے زخموں پر مرہم کا کام کر رہے تھے اور مایوسی میں گھرے افراد کو پھر سے زندہ کرنے کی کوششیں کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ میں بھی ایک فوجی کے زخموں کو دیکھ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اچانک شور مچا۔ جو ایمبولینس سرحد سے مزید زخمیوں کو لینے گئی تھی وہ پہنچ چکی تھی۔ میں نے جلدی سے زخم کی پٹی کی اور باہر کو لپکی ۔ دل میں بس یہی دعا تھی کہ اس ایمبولینس میں کوئی شہید نہ ہو .
ضلع لاہور کے ایک بیدیا گاؤں میں وہ صبح بہت غمگین تھی سرحد کے نزدیک ہونے کی وجہ سے گاؤں بھی جنگ کی حالت میں تھا ۔ ہر طرف ہلچل سی مچی ہوئی تھی . گاؤں کے نوجوان لڑکوں نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر جنگ کے لئے پیش کر دیا تھا جنگ کو شروع ہوئے چھٹا دن ہو چکا تھا ۔ گاؤں کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج کی ایک بٹالین وہاں پر موجود تھی ۔ بشری بیگم کو دور سے آئے گولیوں کی آوازیں بآسانی سنائی دے رہی تھی۔ اچانک ہی دروازہ بہت زور سے بجا۔ وہ تیزی سے دروازے کی جانب لپکیں ۔ اور پھر دروازہ جونہی کھولا سامنے گاؤں کے دو لڑکے کھڑے تھے۔ “چاچی جلدی کریں ان کو مجھے لے کر جانا ہے” علی جو کہ گاؤں کی رضاکارانہ ٹیم میں شامل تھا فوراً کھانے کا تھیلا ان کی طرف بڑھایا ۔ وہ تھیلا لیے جلدی سے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں جہاں ابھی تازہ تازہ بنائی روٹیاں اور سالن تیار تھا۔
انہوں نے جلدی سے تھیلے میں سے ڈونگے نکالے اور اس میں سالن بھرا اور گرم گرم روٹیوں کو کپڑے میں لپیٹ کے تھیلے میں ڈالا۔ اور علی کو تھماتے ہوئے بولیں جو ان کے پیچھے پیچھے چلا آیا تھا اور انہیں جنگ کی صورتحال سے آگاہ کر رہا تھا “اسلم کی کوئی خبر ملی” انھوں نے پوچھا ۔ علی نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا، ” نہیں چاچی میں نے آپ کا خط بھجوا دیا ہے لیکن کوئی جواب نہیں آیا ” علی یہ کہتے ہوئے تیزی سے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ بشری بیگم یہ سن کر چپ ہو گئیں ۔ جہاں ایک گاڑی کھڑی تھی۔ وہ جلدی سے کھانا گاڑی میں رکھنے لگا۔ بشریٰ بیگم بھی دروازے پہ آکھڑی ہوئیں ۔ ” اچھا تم شہر کا چکر کب لگاؤ گے” انہوں نے پوچھا “بس میں یہ کھانے کی گاڑی روانہ کر کے شہر میں کچھ ضروری سامان دینے جاونگا اور ہسپتالوں میں دوائیاں وغیرہ بھی لے کر جانی ہیں ” علی نے انکو جواب دیا۔ ’’ اگر بسمہ بیٹی کی خبر ملے تو مجھے ضرور بتانا‘‘ وہ بولیں ۔ “جی بالکل، اگر مجھے خبر ملی تو میں آپ کو ضرور اطلاع دوں گا ” علی یہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی چل پڑی ……..ِ!
لاہور میں دشمن کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد انکو سیالکوٹ میں تعینات کمان میں شامل ہونے کا آرڈر ملا کیونکہ وہاں پر ممکن تھا کہ دشمن پیش قدمی کرے چناچہ اب اسلم سمیت تمام فوجی سیالکوٹ میں موجود میجر عاطف کی پلٹون میں شامل ہو چکے تھے۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی ۔ چونڈہ کے میدان میں اس وقت ہو کا عالم تھا۔ اندھیرے سے زیادہ خاموشی نے پورے ماحول میں وحشت پھیلائی ہوئی تھی۔ یہ خاموشی کسی آنے والے خطرے کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی تھی ۔ سارے سپاہی چوکس ہو کر اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔ اسلم بھی اپنے مورچے میں الڑٹ بیٹھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اچانک ایک دھماکے دار آواز نے فضا کی اس خاموشی کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے چھ سو ٹینک تیزی سے سیالکوٹ کی جانب بڑھ رہے تھے۔
ساتھ میں دشمن نے اپنے ٹینکوں سے گولے برسانا شروع کر دیا تھا ۔ پاک فوج کے جوان بھی اپنے ٹینکوں سمیت دشمن کی یلغار کو روکنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ اور پھر پاک فوج کے سپاہی اپنے حوصلے بلند کیے اپنے سے کئی گنا زیادہ دشمنوں پر حملہ آور ہو گئے۔ وہ صرف دس پندرہ ٹینکوں سے اپنے ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ جبکہ دشمن سیالکوٹ کی سرحد سے نزدیک ہوتے جا رہے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسلم سمیت بہت سے سپاہیوں نے اپنی جان کو اپنے وطن کے لئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ سب اپنے جسموں پر بم باندھ کر سرحد پر ایسی جگہ لیٹ گئے جہاں سے دشمن کے ٹینکوں کو گزرنا تھا۔ سب کے چہروں پر ایک مطمئن مسکراہٹ تھی ۔ وہ تمام اپنی قوم و ملت سے کیا ہوا وعدہ نبھانے جارہے تھے۔ اسلم نے زیرِلب کلمہ شہادت پڑھا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ اس کے چہرے پر ایسی خوبصورت مسکراہٹ تھی کہ اس کا پورا چہرہ چمک رہا تھا۔ ٹینک نزدیک سے نزدیک تر ہوتے جا رہے تھے۔۔ ابدی زندگی پانے میں بس تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تھا۔ بے اختیار اس کے لبوں سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی .
اور پھر ……… پورے میدان میں کان پھاڑ دینے والے دھماکے گونجنا شروع ہوگئے ۔ ہر طرف آگ ہی آگ تھی ۔ کسی کو کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ سیاح دھوئیں نے گویا پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ چونڈہ کا میدان اس وقت دشمن کے چھ سو ٹینکوں کا قبرستان بن چکا تھا۔ ٹینکوں کے پرخچے ہوا میں بگولوں کی مانند اڑ رہے تھے۔ اور پھر تھوڑی دیر بعد سیالکوٹ کی فضائیں اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ سینکروں ٹینک ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ وطن کے جانبازوں کی ہمت و بہادری اور شجاعت کے ذریعے نہ صرف سیالکوٹ بچ گیا بلکہ دشمن کی چالوں کو بھی ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئے ……… ہسپتال میں وہی مخصوص ہلچل مچی ہوئی تھی. لیکن ایک بے چینی تھی جس نے سارے ماحول کا احاطہ کیا ہوا تھا. بسمہ ہاتھ میں کچھ دوائیاں پکڑے سیڑھیاں چڑھتی تیزی سے اوپر آئی۔ ریڈیو پاکستان کے اینکر جنگ کی تازہ ترین صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کر رہے تھے۔
’’ قوم کے نڈر و بہادر نوجوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سیالکوٹ کے میدان چونڈہ کو دشمن کے چھ سو ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا ‘‘………. ریڈیو پاکستان
بسمہ دوائیاں پکڑے چلی آ رہی تھی اس نے چونک کے خبر سنی فورا سے اسے بھائی کا خیال آیا ( نہیں نہیں بھائی تو لاہور میں ہیں) اس نے اپنے خیال کو خود ہی جھٹک دیا لیکن دل میں نہ جانے کیوں واہمے اٹھ رہے تھے۔ اچانک ہی باہر ایک شور اٹھا ۔ اس نے پاس سے گزرتی فوزیہ کو روک کے پوچھا “یہ کیسا شور ہے۔ ۔ ۔ ؟؟ ” فوزیہ بہت جلدی میں لگ رہی تھی ۔ “سیالکوٹ سے زخمیوں کی ایمبولینس آ گئی ہے ۔ جلدی کرو” وہ یہ کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی.. زخمیوں کو ایمبولینس سے اتار کے اندر لانے لگے تمام فوجی بہت بری حالت میں تھے ۔ وہ بھی ٹرے رکھ کر جلدی سے ایک زخمی کی طرف لپکی جو نسبتاً بہتر حالت میں تھا ۔ اس کے زخم کو صاف کرتے ہوئے اس نے اس سے یونہی پوچھا ” کیا آپ سیالکوٹ میں ہی رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ؟؟ ” اس زخمی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا ’’ نہیں تو میں لاہور کا رہائاشی ہوں ‘‘ اسنے چونک کر اس سپاہی کو دیکھا ۔ ” تو کیا آپ لاہور میں ہی پوسٹد ہیں ۔ ۔ ۔ ؟؟ ” اسنے اچھنبے سے بسمہ کی طرف دیکھا ” جی …. کیوں ؟؟ ” وہ فوراً سے سیدھی ہوئی ” آپ اسلم کو جانتے ہیں ؟؟ ” اس نے بسمہ کی طرف دیکھا ” کون اسلم ” جب بسمہ نے اسے اسلم کا پورا نام بتایا تو سپاہی کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا رہا پھر پوچھا ” آپ اسلم کی کون ہیں ۔ ۔ ۔ ؟؟ ‘‘وہ بے تابی سے بولی ” میں اسکی بہن ہوں ۔
ساتھ ہی اس نے جلدی سے پوچھا ۔ کیا اسلم کی کوئی خبر ہے ؟ ” اب کے سپاہی نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔ ” تو کیا آپ کو اس کے بارے میں نہیں پتہ ” وہ بے چینی سے بولی ۔ ” نہیں نہ ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز بتائیں “۔ وہ سپاہی یہ سن کر چپ ہو گیا گویا کشمکش میں ہو کہ اسے بتائے یا نہ بتائے پھر گویا ہوا ۔ ” اسلم تو ہم سب سے کئیں زیادہ بہادر نکلا . اسنے حقیقت میں اپنے وطن سے کیا ہوا وعدہ نبھا دیا ” وہ سر جھکائے کہ رہا تھا پھر دھیرے سے سر اٹھا کہ اس کی جانب دیکھا ” آپ کا بھائی ……… شہید ہو چکا ہے بہن ‘‘یہ سننا تھا کہ بسمہ کو تو جیسے ساری آوازیں آنا بند ہو گئیں تھیں صرف ایک ہی آواز ہرطرف گونج رہی تھی ” آپ کا بھائی شہید ہوگیا ” وہ دھیرے سے آٹھی کمرے سے باہر نکل گئی اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا زمین کویا گھوم رہی تھی تو وقت رک سا گیا تھا ۔آس پاس بہت سی آوازیں آ رہی تھیں “ارے اماں”۔ان بزدلوں کی اتنی اوقات نہیں ہے تو ہم سے ٹکرلیں۔ حملہ کرنے کی ہمت تو کریں ایسا مزہ چکھائیں گے کہ ان کی سات پشتیں یاد رکھیں گی ۔
وہ سست روی سے چلتی جا رہی تھی ۔ ارے پیاری بہن آپ پریشان نہیں ہوں جب تک ہم لوگ ہیں کوئی پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا ۔بھائی کی آواز ہرطرف گونج رہی تھی ۔ اس نے دھیرے سے غسل خانے کا دروازہ کھلا اور پھر سامنے اپنے عکس کو دیکھ کر گویا سارے ضبط ٹوٹ گئے۔ وہ بلک بلک کر رونا شروع ہو گئی ۔ آنسو اس کے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے کپڑوں کو بھگو رہے تھے ۔ (بھائی شہید ہوچکا تھا اس نے اپنے وطن کے لئے جان دے دی تھی) ۔ ان انسوؤں میں ایک خوشی، ایک فخر تھا ۔ ۔ ۔ (اس نے اپنی قوم کی خاطر، اس کے دفاع کی خاطر اپنی جان کی پرواہ نہیں کی) ’’ اماں ‘‘ اچانک اس کے ذہن میں اپنی امی کا خیال آیا۔۔۔ وہ اپنے انسو پوچھتی جلدی سے باہر بھاگی ۔ ۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔ سامنے سے فوزیہ چلتی ہوئی آرہی تھی ۔ ’’ فوزیہ …….. ابھی کوئی گاڑی گاؤں کی طرف جارہی ہے ۔ ‘‘ اس نے فوراً پوچھا ۔ ’’ کیوں کیا ہوا ؟؟؟ ‘‘ فوزیہ بولی ۔ ’’ مجھے گھر جانا ہے ‘‘ وہ پریشانی سے بولی ۔ ’
’ ابھی یہاں پہ تمھاری بہت ضرورت ہے ‘‘ ۔ ۔ ۔ ’’ نہیں ۔ ۔ اماں اکیلی ہوں گی مجھے گھر جانا ہے ” ہاں ابھی ۔ ۔ ۔ کوئی گاڑی تو نہیں جائے گی لیکن ۔ ۔ ۔ ابھی گاؤں سے ایک لڑکا سامان لے کے آئے گا تم اس کے ساتھ واپس گاؤں چلی جانا ۔ ” بسمہ وہیں پر دیوار سے ٹیک لگا کے دوزانو بیٹھ گئی ۔ نگاہوں میں صرف بھائی کا چھرہ گھوم رہا تھا . فوزیا کو اس کی حالت پر ترس آ رہا تھا ابھی ابھی اسے نیوز کے ذریعے یہ بات پتہ چل چکی تھی کہ بسمہ کا بھائی شہید ہو چکا ہے وہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی اور اسے تسلی دینے لگی ۔ ۔ ۔ ’’ تم شہید کی بہن ہو تمہیں فخر ہونا چاہیے اپنے بھائی پر ۔ ۔ ۔ شہید کبھی نہیں مرتے ۔ ۔ یہ تم بھی جانتی ہو ۔ ‘‘ بسمہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے مسکرائی ۔ ’’ ہاں مجھے فخر ہے ۔ مجھے اپنے شہید بھائی پر بہت فخر ہے۔‘‘ سڑک پہ گاڑی رواں دواں تھی ۔ ڈرایور نے اچانک ریڈیو آن کر دیا ۔ دفاع وطن کے جوشیلے ترانے فضاوں میں گونج کے دلوں میں اترنے لگے
جاں جاتی ہے بے شک جائے، پرچم نہ تیرا جھکنے پائے
غازی کو موت سے کیا ڈر ہے ، جاں دینا جہاد اکبر ہے
اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ اکبر اللہ اکبر ، اللہ اکبر اللہ اکبر
وہ بھی زیرلب گنگنانے لگی فخر کا احساس رگوں میں سرائیت کر رہا تھا شہید کی بہن ہونے کا فخر اداسے پہ غالب آرہا تھا اور پھر گاڑی رک گئی ۔ گاؤں آچکا تھا۔ وہ نیچے اتری اور بوجھل قدموں سے گھر کی جانب چل دی اگرچہ دل میں ایک فخر سا آ چکا تھا کہ وہ شہید کی بہن ہے لیکن پھر بھی نہ جانے کس چیز کی اداسی تھی .
’’ یا اللہ میرے بیٹے کو قبول کرلے …………… تو اس سے راضی ہو جا میرے رب‘‘
وہ ہاتھ اٹھائے جائےنماز پہ بیٹھیں دعا کر رہیں تھیں کہ دروازے پہ دستک ہوئی ۔ نجانے کیوں بشریٰ بیگم کے ہاتھ کانپنے لگے ہر قسم کے وہم کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے وہ اٹھیں لیکن قدموں میں لڑکھڑاہٹ واضح محسوس ہو رہی تھی دھڑکتے دل کے ساتھ انھوں نے جونہی دروازہ کھولا تو سامنے بسمہ کو دیکھ کر وہ ساکن رہ گئیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتیں وہ بھیکتی ، برستی آنکھوں کے ساتھ بشری بیگم کے گلے لگ گئی ’’ اماں بھائی شہید ہوگیا ہے ۔ ‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کہ رو دی یہ سننا تھا کہ جیسے ہر چیز اپنی جگہ ساکت ہوگئی تھی گویا زندگی رک گئی ہو ان کا سانس اٹک رہا تھا وہ شل ہوتے قدموں کے ساتھ جائے نماز تک آئیں اور سجدہ شکر میں گر گیئں ۔ اللہ نے ان کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیا تھا ، اللہ نے ان کی قربانی کو قبول کر لیا تھا ۔ انہوں نے سجدے سے اپنا چہرہ اٹھایا تو آنکھیں خوشی سے آنسو بہا رہیں تھیں ………!
اچانک سے تیز تیزدروازے پر کوئی دھڑ دھڑ کرنا شروع ہو گیا تھا گویا دروازہ جڑ سے اکھڑنے والا ہو ۔ بسمہ نے تیزی سے اٹھ کر دروازہ کھولا ۔ سامنے عاشر کھڑا ہوا تھا ’’ بسمہ باجی آپ کب آئیں ؟؟ ‘‘ وہ پہلے تو چونکا پھر جلدی جلدی بولنے لگا چاچی ، بسمہ بہن جلدی سے نکلیں دشمن یہاں پہ پیش قدمی کرنا چاہتا ہے ۔ جنرل نے آڑدر دیا ہے کہ گاؤں جلدی سے لوگ خالی کر دیں یہاں پہ خطرہ ہے ہمیں جلدی سے گاؤں خالی کرنا ہے دشمن نے پیش قدمی کر دی ہے ۔ گاڑی آ گئی ہے آپ لوگ جلدی سے اس میں بیٹھیں ۔ بسمہ نے اپنی امی کو سہارا دیتے ہوئے گاڑی میں بٹھایا اور وہ بھی اپنا مختصر سا سامان گاڑی کے آگے ڈال کر بیٹھ گئی ۔ گاڑی میں تین اور گاؤں کی عورتیں بھی سوار تھیں ۔ گاڑی چل پڑی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی گاڑی نے گاؤں کی حدود کو پار ہی کیا تھا کہ اوپر سے ایک ہوآئی تیارے کی تیز آواز سنائی دی اور پھر ……… ایک گولا گاڑی سے ٹکرایا ۔ گاڑی کسی آگ کے شعلے کی طرح فضا میں اڑکے بکھر گئی ۔ ہر طرف آگ ہی آگ تھی ……
فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں تھیں ۔ پوری گاڑی تباہ ہوچکی تھی ۔ بسمہ نے دوڑتے قدموں کی آواز سنی ۔ کچھ لوگ دوڑتے ہوئے ان کی طرف آ رہے تھے۔ ایک شخص بسمہ پر بھی جھکا ۔ اس نے مسکراتی آنکھوں کے ساتھ کلمہ شہادت پڑھا اور پھر زندگی کی دوڑکٹ گئی ۔ وطن کی بیٹی نے وطن کے دفاع کی خاطر اپنا لہو پیش کر دیا تھا ۔
خون میں نہائے ہوئے جسموں سے پوچھو
اس زمیں پہ جاں لٹانے کا مزہ ہے کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں