احسان – طاہرہ فاروقی




“یا اللہ میرے ابو کی حفاظت کرنا!!”
ننھے رمیز کی آواز بھرا رہی تھی. ابو کے بڑھتے قدم رک گۓ. رمیز کی آواز میں کچھ ایسا سوز رچا تھا کہ زمین نے گویا ان کے قدم جکڑ لئے۔
“یا اللہ میرے ابو کو بہت لمبی زندگی دے دیجئے گا. یا اللہ آپ تو میرے بہت اچھے اللہ تعالی ہیں.”

رمیز اپنے آپ میں کھویا ہوا تھا. اس کو اس طرح گڑگڑاتے دیکھ کر وہ ساکت رہ گۓ لیکن نماز میں وقت کم رہ گیا تھا اس لیے انھوں نے جائے نماز اٹھائی اور کمرے سے باہر نکل آۓ۔ نماز پڑھ کے لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گۓ۔ رمیز بھی نماز ختم کرکے وہیں آ بیٹھا تھا۔ انھوں نے غور سے بیٹے کا چہرہ دیکھا کس بات کی وجہ سے رمیز اس طرح کہہ رہا تھا؟؟ یونیفارم ، بستہ ، جوتے سب کچھ دلا کر لائے تھے اور ان کے حساب سے اس وقت اس کو ان سب چیزوں میں مگن ہونا چاہیے تھا مگر۔۔۔ نہ جانے کیا بات ہوئی۔۔۔

انھوں نے کن اکھیوں سے رمیز کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسوؤں کی گواہی دے رہی تھی اور ہونٹ خشک تھے۔ ان کا دل کٹ کے رہ گیا۔ وہ اپنے بیٹے کے دکھ سے ناواقف تھے۔ انہوں نے اس کی طرف دیکھ کر بازو پھیلا دئیے اور وہ ان کی بغل میں آ کر بیٹھ گیا۔ انہوں نے پیار سے اس کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا،
“تو پھر آپ کو اپنی شاپنگ کی چیزیں پسند آئیں یا نہیں؟” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “بہت پسند آئیں.” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے دونوں بازو بہت کس کے ان کے گرد لپیٹ لیے۔

“آپ میرے مجھے بہت اچھے ابو ہیں۔ اتنی ساری چیزیں دلاتے ہیں مگر جس کے ابو نہیں ہوتے اس کی چیزیں نہیں آتی ہوں گی۔”اس کی آواز پھر سے گلوگیر ہونے لگی۔
“کیوں بیٹا کوئی خاص بات ہے کیا؟” انہوں نے بیٹے کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا.
“آج ہمارا بیٹا اتنا اداس کیوں ہے؟”امی بھی اس دوران میں چائے کی ٹرے لے کر آچکی تھیں۔ سامنے بیٹھ کر تشویش بھری نظروں سے رمیز کو دیکھ رہی تھیں۔ “ابو میرا دوست حارث ہے۔ اس کا ایک ہی یونیفارم ہے۔ وہ بھی چھوٹا ہو گیا ہے، بیگ بھی خراب ہو گیا ہے اس کی نئی چیزیں نہیں آتیں۔”

“اچھا !!! تو کیا وہ بہت غریب ہیں؟” ابو نے ہمدردی سے پوچھا
“پہلے تو اس کی چیزیں بہت اچھی ہوتی تھیں مگر اب۔۔۔” کہتے کہتے رمیز کے گالوں پر آنسو بہنے لگے۔
“اب کیا ہوا؟” ابو نے اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے پوچھا
“اب اس کے ابو فوت ہو گئے ہیں۔” اس کی سسکی نکل گئی۔
“اوہ۔۔!” امی ابو دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔ دونوں کے دل اور ان کی آواز غم میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کچھ دیر خاموشی رہی پھر ابو نے پوچھا.

“کیسے؟” ۔۔۔۔۔۔۔۔ “ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا. حارث کا چھوٹا بھائی بھی اس کے بابا کے ساتھ بائیک پر تھا وہ بھی۔۔۔۔” اب رمیز کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔ امی ابو دونوں اداس ہو چکے تھے انھیں تو آج تک اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کا بیٹا اپنے دوست سے کس قدر محبت کرتا ہے اور وہ کتنا حساس ہے۔ ہر چیز کس انداز سے دیکھتا ہے۔ جب یہ معلوم ہوا دو وہ دنگ رہ گئے۔ ساتھ ہی اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے انہیں ایک نیک اور صالح اولاد عطا فرمائی تھی۔

“آپ نے ہمیں کبھی بھی اپنے دوست کے بارے میں نہیں بتایا۔ ہم اس کے لیے بھی چیزیں لے لیتے۔ اب آپ ایسا کیجئے کہ اپنے دو یونفام میں سے ایک اس کو دے دیں.” ۔ “جی ٹھیک ہے۔” رمیز نے ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس طرح کہا گویا وہ یہی چاہتا ہو۔
“امی اس کی ماما بھی بہت اچھی ہیں۔ آپ ان سے ملیئے گا۔ وہ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ اگر میں ان سے ٹیوشن پڑھ لوں تو ان کو پیسے مل جائیں گے۔ سچی۔۔۔ وہ بہت اچھا پڑھاتی ہیں۔ حارث کلاس میں بہت اچھا پڑھتا ہے۔ میں گھر آ کر بھی پڑھ لیا کروں گا۔” اس کا لہجہ خوشامدی سا ہو گیا تھا ۔

“اور پتا ہے, وہ سنیکس بھی بہت اچھے بناتی ہیں بچے کہتے ہیں کہ ہم فون پر آرڈر لکھوا دیتے ہیں اور شام کو ان سے سنیکس لے کر جاتے ہیں۔ بہت مزے کے ہوتے ہیں۔”
“آپ کی ماما سے بھی زیادہ؟” ابو نے شرارت سے پوچھا
“نہیں میری ماما کے زیادہ مزے کے ہوتے ہیں ۔ “رمیز شرما گیا۔
“چلیں بھئی… کبھی کبھی آپ کو چھٹی مل جائے گی. رمیز اپنی پسند سے آرڈر کر دیا کرے گا۔”

“مگر روز روز یہ نہیں ہوگا۔ کبھی کبھار ٹھیک ہے۔” امی نے فورا رمیز کے اسکرو ٹائیٹ کیے۔
“اچھا، اب چائے پیتے ہیں۔۔۔ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ پھر چلتے ہیں آپ کے دوست کی شاپنگ کرنے۔ واپسی پر آپ کے دوست کے یہاں چلیں گے۔ اگر آپ پہلے بتا دیتے تو ہم آپ کے ساتھ ہی اس کے لئے بھی چیزیں لے لیتے۔” چائے کے دوران حارث کے متعلق ہی باتیں ہوتی رہیں۔ ابو نے پوچھا، وہ دوسروں کی چیزیں دیکھتا ہے؟ رمیز نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“میرا مطلب ہے کبھی کسی سے کوئی چیز مانگتا ہو یا کہ۔۔۔”
“نہیں ابو وہ ایسا لڑکا نہیں ہے۔ وہ سر جھکا کر بیٹھا رہتا ہے جب وہ لنچ نہ لاتا کوئی لڑکا لنچ شیئر کرے تو کہہ دیتا ہے بھوک نہیں ہے۔”
“پھر آپ اس کو کیسے دیں گے رمیز کے چہرے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی.
“آپ بتائیے۔۔۔”رمیز کے ہر مسئلے کا حل ابو کے پاس ہوتا تھا۔

ابو نے کہا:
“آپ اس سے کہئے گا میں تو تحفہ لایا ہوں اور تحفہ کو واپس نہیں کیا جاتا۔ کل سے ہم دونوں ایک جیسی چیزیں لے کر جایا کریں گے۔” ابو نے سمجھایا۔
“ٹھیک ہے۔۔ سمجھ گیا.” رمیز نے سر ہلاتے ہوئے کہا , “مگر ایک بات اور بتائیے۔۔” ابو کو جیسے کچھ یاد آیا۔
“جب آپ کی اس سے لڑائی ہوگی۔۔۔”
“نہیں ابو! اس کی کبھی کسی بچے سے لڑائی نہیں ہوتی۔”
“گڈ!!! یہ تو بڑی اچھی بات ہے اچھا اب ایک آخری بات۔۔۔” سوالیہ نظروں سے رمیز نے باپ کی طرف دیکھا۔۔
“وہ یہ کہ۔۔” ابو نے رمیز کو بازوؤں میں لیتے ہوئے کہا۔ رمیز ہمہ تن گوش ہوگیا۔ جب تم دونوں بڑے ہو جاؤ گے تب تم اسے کبھی یاد دلاؤ گے یہ بات؟”

“نہیں ابو یہ تو بہت ہی گندی بات ہوئی ناں”
“بلکل بیٹا! ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا.” رمیز کی آنکھوں میں عزم اور ذہانت کی چمک تھی کیونکہ وہ بات کی تہ تک پہنچ چکا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں