ہم نے کیک بنایا – عفرہ اسلام




پچھلے دنوں میں اپنی خالہ جان کے گھر آئی تھی۔ پھر کورونا کے بہت پھیل جانے کی وجہ سے اور لوک ڈاؤن لگ جانے کی وجہ سے مجھے اپنی خالہ کے گھر ہی رکنا پڑا۔
آج ہم بچے میں اور میرے تین کزنز ماہ نور، علی، عثمان بہت بور ہو رہے تھے۔ باجی نے اچانک کہا چلو کیک بناتے ہیں …..بہت مزا آئے گاـ ہم سب کے چہرے کھل اٹھے۔ میں نے چاکلیٹ کیک کے مکسچر کا ڈبہ نکالا اور ماہ نور نے باؤل نکالا۔ علی نے مجھ سے ڈبہ لے کر سارا مکسچر باؤل میں ڈال دیا۔ پھر باجی نے أس میں دو انڈے ڈالے اور عثمان بیٹ کرنے لگا،اور ہم سب نعرے لگانے لگے میری باری، میری باری، میری باری…….. تھوڑا سا مکسچر عثمان کے منہ پر اڑ کر آگیا اور ہم سب ہنسنے لگے۔ عثمان کے بعد میں نے کیا، پھر مانور نے اور پھر علی نے۔جب وہ بیٹ ہوگیا تو باجی نے أسے کیک کے سانچے میں ڈال کر اوون میں رکھ دیا۔ کچن سے باہر آکر ہم سب ایک دوسرے کو کہنے لگے دیکھنا میں نے یہ کام کیا تھا کیک بہت اچھا بنے گا۔ کیک میری وجہ سے اچھا بنے گا۔پھر باجی نے کہا تم سب نے مل کر کام کیا ہے دیکھنا انشاء اللہ اچھا بنے گا۔
باتیں کرتے کرتے ٹن کی آواز آئی اور ہم سب نے کچن کی جانب دوڑ لگا دی۔ پیچھے پیچھے باجی بھی بھاگ کر آئیں کہ کہیں ہم اوون نا کھول لیں۔ پورے گھر میں کیک کی خوشبو پھیل گئ تھی…….. باجی نے اون سے کیک نکال کر ٹرے میں رکھا، درمیان سے کاٹ کر اوپر والا حصہ پلیٹ میں رکھا۔ پھر عثمان نے کریم رکھی، میں نے اور ماہ نور نے أسے پھیلایا پھر پلیٹ والا حصہ علی نے ٹرے والے حصے پر رکھا۔ پھر باجی نے اوپر کریم لگائی۔ اور ہم سب نے بنٹیاں لگائی۔ کیک تیار ہوگیا۔ کیک کو ٹیبل پر رکھا باجی نے کیک کو کاٹ کر حصے کیے سب سے پہلے خالہ جان کو دیا جو ہمارے اس کارنامے پر بہت خوش تھیں اور خوب تعریف کر رہی تھیں۔ ہم نے اپنا اپنا حصہ لیا اور کھانے لگے۔
آج بہت مزہ کیا ہم نے اور اپنے ہاتھ کا بنا کیک تو واہ واہ۔ ہم سب نے مل کر کام کیا اور اللہ نے ہمارا کیک مزے کا بنوا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں